قرآن
ﯕ
ﱐ
ﭚ ﭛ ٥٩ ٥٩ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
ﭪ ٦٠ ٦٠ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ٦١ ٦١ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ٦٢ ٦٢
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ٦٣ ٦٣
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ٦٤ ٦٤ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ٦٥ ٦٥ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ٦٦ ٦٦
وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ٦٠
(يستكبرون عن عبادتي) یعنى مجھ سے بےرغبت ہوكر تكبر كرتےہیں، جیسا كہ نبى كریم ﷺ نےفرمایا: (جو الله سے نہیں مانگتا وه اس پر غضبناك ہوتا ہے)۔ اور آپﷺ كا یہ فرمان: ( دعا ہى عبادت ہے)۔ تو اس كا مفہوم یہ ہے كہ دعا اور الله كى طرف رغبت ہى عبادت ہے، كیونكہ دعا كے اندر بندے كى عاجزى اور الله سے خاكسارى ظاہر ہوتى ہے۔(ابن جزى: 2؍284)
سوال: اس آیت سے ہم كیسے یہ استدلال كرسكتےہیں كہ دعا ہى عبادت ہے؟
وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ٦٠
سفیان ثورى كہتےتھے: اے وه ذات! جس كےنزدیك سب سے محبوب وه بنده ہے جو اس سے زیاده سے زیاده مانگے، اور اے وه ذات! جس كے نزدیك سب سے زیاده مبغوض وه بنده ہے جو اس سے نہ مانگے، اور اے میرے رب!تیری طرح تیرے علاوه كوئى ایسى ذات نہیں۔ اسى مفہوم میں شاعر كہتاہے:
الله غضبناك ہوتا ہے جب آپ اس سے سوال نہیں كرتے ، جبكہ ابن آدم اس وقت غضبناك ہوتا ہے جب اس سے سوال كیا جاتاہے۔(ابن كثیر: 4؍87)
سوال: الله سے سوال كرنے اور لوگوں سے مانگنے میں کیا فرق ہے؟ دونوں میں موازنہ کیجئے.
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ٦٠
یعنى ذلیل اور رسوا ہوكر (ایسے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے)۔ تكبر اور ہٹ دھرمى كى وجہ سے عذا ب اور رسوائى دونوں ان پر مسلط ہوں گے۔ (السعدى: 741)
سوال: اس آیت كى روشنى میں قاعده: (الجزاء من جنس العمل) پر روشنى ڈالئے.
ٱللَّهُ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ قَرَارٗا وَٱلسَّمَآءَ بِنَآءٗ
چونكہ اس آیت کا پہلا مقصد بندوں پراللہ کے احسان کواجاگر كرنا ہے – جیسا كہ قول بارى تعالىٰ : (لَكُم) سے پتہ چل رہاہے۔ اسی لئے آسمان پر زمین كو مقدم كیا گیا ہے؛ كیونكہ اس سے فائده اٹھانا حسى ہے، اور آسمان كا ذكر اس كےبعد كیا گیا كہ چیزوں کو ان کی ضد سے جانا جاتا ہے۔ (ابن عاشور: 24؍189)
سوال: آیت كریمہ میں آسمان پر زمین كو مقدم كیوں كیا گیا؟
وَصَوَّرَكُمۡ فَأَحۡسَنَ صُوَرَكُمۡ
مقاتل نےكہا: اس نے تمہیں پیدا کیا اور بہترین سانچے میں ڈھالا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: الله تعالىٰ نے ابن آدم كو معتدل القامت پیدا کیا ہے اپنےہاتھ سے اٹھا کر کھاتا پیتا ہے، جبکہ ابن آدم كےعلاوه دوسرى مخلوقات اپنے منہ سے كھاتی پیتی ہیں۔(البغوى: 4؍52)
سوال: دوسرى تمام مخلوقات كى خلقت پر ابن آدم كى خلقت کو كیا امتیاز حاصل ہے ؟ اسے واضح كریں.
وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِۚ
پاك یعنى لذت بخش چیزیں ؛ كیونكہ پاك چیزوں كا تذكره انعام واحسان كے سیاق میں آیا ہے، اس لئے اس سے مراد لذت بخش چیزیں ہوں گى، اور جب اس كا تذكره تحلیل وتحریم كےسیاق میں ہوگا تو اس سے مراد حلال وحرام کا بیان ہوگا۔ (ابن جزى: 2؍284)
سوال: طیبات كا ذكر قرآن كریم كےاندر دو معنوں كیلئے استعما ل كیا گیا ہے؟ دونوں كو واضح کیجئے.
وَأُمِرۡتُ أَنۡ أُسۡلِمَ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٦٦
یعنى میں رب العالمین كے سامنے سرتسلیم خم كرتاہوں، اسكے تابع ہوں اور خاكسارى كا اظہار كرتاہوں۔(القرطبى: 18؍378)
سوال: الله تعالىٰ كیلئےسرتسلیم خم كیسے ہوگا؟