قرآن
ﯔ
ﱐ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
٥٨ ٥٨ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ٥٩ ٥٩ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
٦٠ ٦٠ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ٦١ ٦١ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ٦٢ ٦٢ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ٦٣ ٦٣ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ٦٤ ٦٤ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ٦٥ ٦٥ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ٦٦ ٦٦ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ٦٧ ٦٧
أَوۡ تَقُولَ لَوۡ أَنَّ ٱللَّهَ هَدَىٰنِي لَكُنتُ مِنَ ٱلۡمُتَّقِينَ ٥٧ أَوۡ تَقُولَ حِينَ تَرَى ٱلۡعَذَابَ لَوۡ أَنَّ لِي كَرَّةٗ فَأَكُونَ مِنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٥٨
دل میں گردش كرنےوالے احساسات اور دل کی باتوں کو اسی فطرى ترتیب سے بیان كیا گیا جس طرح اسکے دل میں وہاں باتیں کھٹکیں گی اسكے نفس نے جس پستی تک اسے پہنچایا ہے سب سے پہلے اس پر حسرت وافسوس کرے گا، پھر نجات کی امید میں عذر پیش کرے گا، پھر دنیا میں لوٹنے اور نیك كام كرنے كى تمنا کرے گا، جیسا كہ الله تعالىٰ كا قول ہے: ﴿قَالَ رَبِّ ٱرۡجِعُونِ * لَعَلِّيٓ أَعۡمَلُ صَٰلِحٗا فِيمَا تَرَكۡتُ﴾ [المومنون: 99- 100] كہتا ہے كہ اے میرے رب! مجھے واپس لوٹا دے، كہ اپنى چھوڑى ہوئى دنیا میں جاكر نیك كام كرلوں۔ چنانچہ نظم کلام میں یہ ترتیب سب سے محكم ترتیب مانى جاتی ہے۔ (ابن عاشور: 24؍51)
سوال: قیامت كے دن دل کی بات بیان كرنے میں آیات كریمہ كا حسین تناسب واضح كیجئے.
وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ تَرَى ٱلَّذِينَ كَذَبُواْ عَلَى ٱللَّهِ وُجُوهُهُم مُّسۡوَدَّةٌۚ أَلَيۡسَ فِي جَهَنَّمَ مَثۡوٗى لِّلۡمُتَكَبِّرِينَ ٦٠
انہیں متكبرین كى صفت سے متصف كرنے میں یہ اشاره ہے كہ ان كا چہره كالا كركے انہیں سزا دینا انكے گھمنڈ كے عین موافق ہے، اسلئے كہ جب گھمنڈى كا چہره سیاه كیا جاتا ہے تو اس كا غرور ٹوٹتا ہے ، كیونكہ گھمنڈ اسى كے بقدر گھٹتا ہے جس قدر مغرور كو احساس ہو كہ لوگ اسكے عیوب ونقائص سےآگاه ہوچكےہیں ۔ (ابن عاشور: 24؍51)
سوال: قیامت كے دن تكبر كرنے والوں كے چہرے سیاه كرنے كى كیا حكمت ہے؟
وَيُنَجِّي ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ بِمَفَازَتِهِمۡ لَا يَمَسُّهُمُ ٱلسُّوٓءُ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ٦١
(وينجي الله الذين اتقوا) یعنى الله تعالىٰ پرہیزگاروں كو جہنم سے نجات دےدے گا، كیونكہ یہ گھمنڈ نہیں كررہےتھے۔ اس سے معلوم ہوا كہ تقوىٰ گھمنڈ كے منافى ہے، كیونكہ تقوىٰ ایك ایسا كامل وشرعى اخلاق ہے جو كہ ظاہر وباطن ہر لحاظ سے منہیات سے بچنے اور مامورات بجا لانے كا تقاضہ كرتاہے، جبكہ كبر دل كى ایك گھاتک باطنى بیمارى ہے۔ (ابن عاشور: 24؍52)
سوال: متكبرین كے ذكر كے بعد متقین كے ذكر كا كیا فائده ہے؟
ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖۖ
یہ اور اس جیسى عبارتیں جو كہ قرآن میں بہت سارے مقامات پرہیں ، اس بات پر دلالت كرتى ہیں كہ الله كےعلاوه تمام چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں، اس میں ان سبھی لوگوں كى تردید ہے جو بعض مخلوق كو قدیم (ہمیشہ سے) مانتےہیں، جیسے فلاسفہ ہیں، جن كا كہنا ہے كہ آسمان وزمین پہلے سےہیں، قدیم ہیں، اسى طرح وه لوگ جو روح كو قدیم مانتےہیں ، اور وہ سبھی اہل باطل ہیں جو بہت سى بہكى ہوئى باتیں کہتے ہیں اور الله تعالىٰ كو تخلیق كى صفت سے عارى قرار دیتےہیں۔ (السعدى: 728)
سوال: اگر كوئى بعض مخلوق كو قدیم مانتا ہے تو آپ اسكى تردید كیسے كریں گے؟ نیز اس كى بات كےباطل ہونے كى كیا وجہ ہے؟
قُلۡ أَفَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَأۡمُرُوٓنِّيٓ أَعۡبُدُ أَيُّهَا ٱلۡجَٰهِلُونَ ٦٤
یعنى یہ حكم تمہارى جہالت سے صادر ہوا ہے، ورنہ اگر تم یہ جانتے كہ جب الله ہر اعتبار سے كامل ہے، وہی تمام طرح کی نعمتوں سے نوازتاہے، تو وہى عبادت كا بھى تنہا مستحق ہے، جبكہ جو ہر زاویے سے ادھورےہیں، نہ نفع دےسكتے اورنہ نقصان تو تم ان كى عبادت كا حكم مجھے کس بنیاد پر دیتے ہو ؟ (السعدی 729)
سوال: مشركین كو جہالت سے متصف كرنے كى كیا وجہ ہے؟
بَلِ ٱللَّهَ فَٱعۡبُدۡ وَكُن مِّنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ٦٦
(وكن من الشاكرين) الله تعالىٰ كى توفیق وہدایت پر اس كا شكر كرنے والے بن جائیے، چنانچہ جس طرح دنیاوى نعمتوں جیسے صحت، بدن كى عافیت، روزى وغیره كے حصول پر الله كا شكر ادا كیا جاتاہے، اسى طرح دینى واخروى نعمتوں پر بھى اسكى تعریف بیان کی جائے گی اور شكر ادا كیا جائے گا، بلکہدرحقیقت دینى نعمتیں ہى اصل ہیں۔ (السعدى: 729)
سوال: الله تعالىٰ نے آیت كریمہ كا خاتمہ (وكن من الشاكرين)سے كیوں كیا ہے؟ وجہ بتائیے.
بَلِ ٱللَّهَ فَٱعۡبُدۡ وَكُن مِّنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ٦٦
دینى نعمتیں الله كى جانب سے ہیں، ان میں غور و فکر کرنےاوران پر الله كا شكر بجا لانے سے آدمى عجب وغرور كى آفت سے محفوظ رہتا ہے جس میں كہ اپنى جہالت كیوجہ سے اكثر نیك كام كرنے والے پڑجاتےہیں، ورنہ اگر آدمى حقیقت حال سے آگاه ہوتو نعمت پر غرور كا شكار کبھی نہیں ہوگا، بلكہ اس پر زیاده سے زیاده الله كا شكر بجا لائے گا۔(السعدى: 729)
سوال: آیت کریمہ میں غرور اور خود پسندى كے ازالے كى طرف رہنمائى كى گئى ہے جس میں نیك كام كرنے والے پڑجاتےہیں ، اس کی توجیہ بیان کیجئے.