قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٣١ ٣١



٣٢ ٣٢

ﭿ ٣٣ ٣٣


٣٤ ٣٤

٣٥ ٣٥


٣٦ ٣٦



٣٧ ٣٧

ﯿ ٣٨ ٣٨
438
سورۃ فاطر آیات 0 - 32

ثُمَّ أَوۡرَثۡنَا ٱلۡكِتَٰبَ ٱلَّذِينَ ٱصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَاۖ فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ وَمِنۡهُم مُّقۡتَصِدٞ وَمِنۡهُمۡ سَابِقُۢ بِٱلۡخَيۡرَٰتِ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ ٣٢

عمر، ابن مسعود، ابن عباس، كعب ، عائشہ -رضى اللہ عنہم- اور بہت سے مفسرین كا قول ہے كہ یہ تینوں قسمیں محمدﷺ كى امت میں موجود ہیں، چنانچہ اپنے نفس پر ظلم كرنے والا گنہگار ہے، نیكیوں میں سبقت كرنے والا متقى ہے اور میانہ روى والا ان دونوں كے درمیان ہے۔ (ابن جزى: 2؍217)
سوال: آیت میں مذكور تینوں قسم كے لوگ كس امت سے تعلق رکھتے ہیں؟ یہ كون ہیں اور ان كى كیا صفات ہیں ؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 32

وَمِنۡهُم مُّقۡتَصِدٞ وَمِنۡهُمۡ سَابِقُۢ بِٱلۡخَيۡرَٰتِ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ

اللہ تعالیٰ كا ارشاد: (بإذن الله) نیكیوں كى طرف سبقت كرنےوالے كى طرف راجع ہے تاكہ وہ اپنے عمل كےبارےمیں كسى دھوكے میں مبتلا نہ ہوجائے كیونكہ اس نے نیكیوں كى طرف سبقت صرف اللہ تعالىٰ كى توفیق اور اسكى مدد سے كى ہے، لہذا اس كو چاہئے كہ اللہ تعالىٰ نے اسے جس نعمت سے نوازا ہے وہ اس پر اللہ تعالىٰ كا شكر ادا كرے۔(السعدى: 689)
سوال: نیكیوں كى طرف سبقت كرنےوالے كے ساتھ (بإذن الله) كو خاص كیوں كیا گیا؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 34

وَقَالُواْ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِيٓ أَذۡهَبَ عَنَّا ٱلۡحَزَنَۖ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٞ شَكُورٌ ٣٤

ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہاں غم سے مراد دوزخ كا غم ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ نے كہا: موت كا غم ہے۔ اور مقاتل رحمہ اللہ نے كہا: وہ غمگین ہوں گے كیونكہ انہیں نہیں معلوم ہوگا كہ اللہ تعالىٰ ان كے ساتھ كیا كرےگا۔ اور عكرمہ رحمہ اللہ نے كہا: گناہوں ، برائیوں كا غم اور نیكیوں كے مقبول نہ ہونے كا خوف مراد ہے۔ (البغوى: 3؍626)
سوال: اہل ایمان كو دنیا میں كون سا غم ہوگا جسے اللہ تعالىٰ جنت میں ختم كردےگا؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 35

ٱلَّذِيٓ أَحَلَّنَا دَارَ ٱلۡمُقَامَةِ مِن فَضۡلِهِۦ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٞ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٞ ٣٥

(دار المقامة) سے مراد جنت ہے، اور مقامہ سے مرادٹھہرنا اور ٹھہرنے كى جگہ ہے، اور جنت كو دار المقامہ كہا گیا كیونكہ اہل جنت اس میں ہمیشہ ٹھہرے رہیں گے اور وہاں سے كبھى نہیں نكلیں گے۔ (ابن جزى: 2؍217)
سوال: جنت كو دار المقامہ كیوں كہاگیا؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 35

ٱلَّذِيٓ أَحَلَّنَا دَارَ ٱلۡمُقَامَةِ مِن فَضۡلِهِۦ

یعنى جس ذات نے ہمیں اس مقام ومرتبے سے نوازا ، وه اسكى رحمت ، احسان اور فضل سے ہے ، ہمارے اعمال اسكے برابر كبھى نہیں ہوسكتے۔ (ابن كثیر: 4؍535)
سوال: كیا انسان مجرد اپنے عمل كى وجہ سے جنت میں جاسكتاہے؟ آیت كى روشنى میں اس كى وضاحت كریں.

سورۃ فاطر آیات 0 - 36

وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَهُمۡ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقۡضَىٰ عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوتُواْ وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُم مِّنۡ عَذَابِهَاۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي كُلَّ كَفُورٖ ٣٦

اللہ تعالیٰ کا ارشاد: (لا يقضى) كا مفہوم ہے ان كى جان پورى نہیں جائےگى؛ كیونكہ اگر وه مرجائیں گے تو ان كے احساس ختم ہوجائیں گے اور انہیں راحت مل جائےگى۔ (ابن عطیہ : 4؍440)
سوال: اہل دوزخ سے موت كى نفى كیوں كى گئى ہے؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 37

وَهُمۡ يَصۡطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَآ أَخۡرِجۡنَا نَعۡمَلۡ صَٰلِحًا غَيۡرَ ٱلَّذِي كُنَّا نَعۡمَلُۚ

ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم لا الہ الا الله کہیں گے یعنی کفر كے بدلے ایمان لائیں گے، معصیت كےبدلے اطاعت کریں گے اور رسولوں كے حكم كى فرمانبردارى کریں گے۔ (القرطبى: 17؍388)
سوال: وه كون سا عمل صالح ہوگا جس كى تمنا اہل دوزخ جہنم میں جانے كےبعد كریں گے؟