قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے




٢٥٧ ٢٥٧


ﭿ

٢٥٨ ٢٥٨







ﯿ ٢٥٩ ٢٥٩
43
سورۃ البقرہ آیات 0 - 257

ٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُخۡرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۖ

اللہ مومنین کا دوست ہے یعنی ان کامعین و مددگار ہے ۔اور(اس کی تفسیر میں )یہ بھی کہا گیا ہے کہ :وہ ان سے محبت کرنے والا ہے۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ : وہ ان کے معاملات کا ذمہ دار ہے،انہیں اپنے علاوہ کسی کے حوالہ نہیں کرتا۔اورحسن رحمہ اللہ نے کہا:ان کی ہدایت کا والی وذمہ دار ہے۔(البغوی:۱؍۲۷۳)
سوال:اللہ کی مومنوں سے دوستی کیسی ہوتی ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 257

ٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُخۡرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَوۡلِيَآؤُهُمُ ٱلطَّٰغُوتُ يُخۡرِجُونَهُم مِّنَ ٱلنُّورِ إِلَى ٱلظُّلُمَٰتِۗ

اللہ تعالیٰ نے لفظِ (ٱلنُّورِۖ) کو واحدرکھا اور (ٱلظُّلُمَٰتِ) کو جمع استعمال فرمایا ہے۔اس لئے کہ حق ایک ہی ہے اور کفر کی بہت سی شکلیں اور قسمیں ہیں اور سب کی سب باطل ہیں۔ (ابن کثیر:۱؍۲۹۵)
سوال:آیت میں نور کو واحداور ظلمات کو جمع کیوں لایا گیا؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 257

ٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُخۡرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۖ

(اللہ مومنوں کا دوست ہے)چنانچہ اس نے انہیں کفر،معاصی اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ایمان،اطاعت اور علم کے اجالوں میں پہنچادیا اور پھر اس کے بدلے میں انہیں قبر،حشر اور قیامت کے اندھیروں سے بچاکر دائمی نعمت وراحت ،کشادگی اور لطف وسرور میں پہنچادیا۔ (السعدی:۱۱۱)
سوال:وہ کون سے اندھیرے ہیں جن سے مومن ایمان کی حالت میں نکالا جاتا ہے؟اور وہ کون سا نور ہے جو اسے حاصل ہوتا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 257

ٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُخۡرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَوۡلِيَآؤُهُمُ ٱلطَّٰغُوتُ يُخۡرِجُونَهُم مِّنَ ٱلنُّورِ إِلَى ٱلظُّلُمَٰتِۗ

کفر کو ظلمت(اندھیرا)کہا گیا کیونکہ اس کا راستہ پیچیدہ اورغیر واضح ہے جبکہ اسلام کو نور(روشنی)کا نام دیا گیا اس لئے کہ اس کاراستہ بالکل واضح ہے۔ (البغوی:۱؍۲۷۳)
سوال:اللہ تعالیٰ نے کفر کو ظلمت اور اسلام کو نور کا نام کیوں دیا؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 257

ٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُخۡرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَوۡلِيَآؤُهُمُ ٱلطَّٰغُوتُ يُخۡرِجُونَهُم مِّنَ ٱلنُّورِ إِلَى ٱلظُّلُمَٰتِۗ

اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے کیونکہ اسلام کی پیروی کرنے(کی برکت)سے ان کے لئے یقین کے راستے ہموار وآسان ہوجاتے ہیں۔چنانچہ وہ دن بدن ان راستوں پر آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے برعکس وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کے مقابل کفر اختیار کیا۔تو ان کے اس انتخاب سے معلوم ہوتاہے کہ ان کی عقلوں پر مہر لگادی گئی ہے لہذا وہ ہدایت سے محروم رہ گئے اوردن بدن گمراہی میں بڑھتے جاتے ہیں۔ (ابن عاشور:۳؍۳۰)
سوال:انسان لازمی طور سے آگے بڑھتا ہے چاہے خیر میں یا شر میں۔آیت کی روشنی میں اسے واضح کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 258

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِي حَآجَّ إِبۡرَٰهِۧمَ فِي رَبِّهِۦٓ

علامہ اِلکیا کہتے ہیں: آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ دین کے بارے میں بحث ومباحثہ کرنا جائز ہے۔ (الألوسی:۳؍۱۹)
سوال:کیا دین کے متعلق بحث ومباحثہ جائز ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 258

رَبِّيَ ٱلَّذِي يُحۡيِۦ وَيُمِيتُ

یعنی: اللہ تعالیٰ ہر قسم کے تصرف میں منفرد اور اکیلا ہے ، لیکن انہوں(حضرت ابراہیم علیہ السلام )نے ان تمام کاموں اور تصرفات میں سے بطور خاص زندہ کرنے اور موت دینے کا ذکر فرمایا ہے ،اس لئے کہ یہ دونوں کام انتظام وتدبیر کی سب سے عظیم چیزیں ہیں۔ (السعدی:۱۱۱)
سوال:حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے تصرفات میں سے صرف زندہ کرنے اور مارنے کا ذکر کیوں کیا؟