قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮭ

ﱎ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ
٥٥ ٥٥
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ٥٦ ٥٦
ﮁ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ٥٧ ٥٧
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ٥٨ ٥٨

ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ٥٩ ٥٩
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ٦٠ ٦٠
ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ٦١ ٦١
ﯳ ﯴ ﯵ
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ٦٢ ٦٢
426
سورۃ الأحزاب آیات 0 - 55

لَّا جُنَاحَ عَلَيۡهِنَّ فِيٓ ءَابَآئِهِنَّ وَلَآ أَبۡنَآئِهِنَّ وَلَآ إِخۡوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبۡنَآءِ إِخۡوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبۡنَآءِ أَخَوَٰتِهِنَّ وَلَا نِسَآئِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُنَّۗ وَٱتَّقِينَ ٱللَّهَۚ

یہاں خصوصى طور پر عورتوں كا ذكر كیا اور اس مسئلے میں انہیں كى تعیین كردى ؛ كیونكہ ان كے اندر اس مسئلے میں لا ابالى پن زیاده پائى جاتى ہے اور اسكا خیال بہت كم ہوتاہے، والله اعلم۔ (القرطبى: 18؍213)
سوال: آیت كے آخر میں اس مسئلے كےاندر خصوصى طور پر عورتوں كو تقوى كى نصیحت كرنے میں كیا حكمت ہے؟

سورۃ الأحزاب آیات 0 - 56

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِيِّۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ صَلُّواْ عَلَيۡهِ وَسَلِّمُواْ تَسۡلِيمًا ٥٦

الله كے بندے اور نبى جناب محمدﷺ كا ملأ اعلى فرشتوں میں كیا مقام ومرتبہ ہے اس بارے میں الله تعالىٰ اپنے بندوں كو خبر دےرہاہے كہ الله تعالىٰ كس طرح آپ كى اپنے مقرب فرشتوں كے پاس تعریف كرتاہے، اور فرشتے آپ پر درود بھیجتےہیں، پھر الله تعالىٰ نے دنیا والوں كو حكم دیا كہ آپ پر درود وسلام بھیجیں؛ تاكہ عالم ملكوتى اور عالم دنیا دونوں كى تعریف آپ كیلئے اکٹھا ہوجائیں۔(ابن كثیر: 3؍487)
سوال: الله تعالىٰ نے پہلے یہ خبر دى كہ نبى كریمﷺپر الله تعالىٰ اور فرشتے سلام بھیجتے ہیں، پھر آپ ﷺ پر درود وسلام بھیجنے كا حكم كیوں دیا؟

سورۃ الأحزاب آیات 0 - 57

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابٗا مُّهِينٗا ٥٧

الله تعالىٰ كو تكلیف دینے كا مطلب یہ نہیں ہے كہ اسے كوئى تكلیف نقصان پہنچا سكتى ہے؛ كیونكہ الله تعالىٰ كو كوئى بھى چیز نہ تو نقصان پہنچا سكتى ہے اور نہ ہى نفع۔ اور كہاگیا: یہاں مضاف محذوف ہے، تقدیرى عبارت : (يُؤْذُوْنَ أَوْلِيَاءَ اللهِ) ہے،یعنی وہ اللہ کے اولیاء کو تکلیف پہنچا تے ہیں۔ جبكہ پہلى توجیہ راجح ہے؛ كیونكہ حدیث میں وارد ہے الله تعالىٰ فرماتاہے: ابن آدم مجھے گالى دیتاہے، جبكہ اس كیلئے مجھے گالى دینا مناسب نہیں، اوروه مجھے جھٹلاتاہے جبكہ اس كیلئے مجھے جھٹلانا مناسب نہیں، اسكا مجھے گالى دینا یہ ہے كہ وه كہتا ہے كہ میرے پاس بیوى بچےہیں، اور اسكا مجھے جھٹلانا یہ ہے كہ وه كہتاہے كہ میں اسے اسى طرح دوباره پیدا نہیں كرسكتا جیسا پہلى بار كیا۔(ابن جزى: 2؍196)
سوال: الله تعالىٰ كو تكلیف كیسے دى جاتى ہے؟ اسكى وضاحت كریں.

سورۃ الأحزاب آیات 0 - 58

وَٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ بِغَيۡرِ مَا ٱكۡتَسَبُواْ فَقَدِ ٱحۡتَمَلُواْ بُهۡتَٰنٗا وَإِثۡمٗا مُّبِينٗا ٥٨

مومنوں كى حرمت كو رسولﷺ كى حرمت سے جوڑ دیا گیا ہے جس سے مومنوں كى شان ومرتبےكا پتہ چلتاہے، اور ان كا ذكر الگ سے كیا گیا جس میں اس بات كى طرف اشاره ہے كہ رسول ﷺ كا مقام سے انكا مقام كمتر ہے۔ اور یہ جملہ معترضہ ہے جسے نبى كریمﷺ كى حرمت کے احکام اور ازواج مطہرات، آپ كى بیٹیوں اور مومنہ عورتوں سے متعلق آداب كے بیچ میں پیش كیا گیاہے۔(ابن عاشور: 22؍105)
سوال: رسول ﷺ كى حرمت كےبعد مومنوں كى حرمت كا ذكر كیوں كیا گیا؟

سورۃ الأحزاب آیات 0 - 59

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّۚ

الله تبارك وتعالىٰ نے اپنے نبى ﷺ كو حكم دیا كہ وه تمام عورتوں كو عمومى طور پر پردے كا حكم دیں ، اور اسكى ابتداء اپنى ازواج مطہرات اور اپنى بیٹیوں سے كریں كیونكہ كسى معاملے میں دوسروں كو حكم دینے والے كیلئے مناسب یہى ہے كہ وه دوسروں كے مقابلے پہلے اپنے گھر سے ابتداء كرے جیسا كہ ارشاد بارى ہے: ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ وَأَهۡلِيكُمۡ نَارٗا﴾ [التحریم: 6] یعنی اے ایمان والو! اپنے آپکو اور اپنے گھر والوں کو جہنم سے بچاؤ۔ (السعدى: 672)
سوال: دعوت كے میدان میں اس آیت سے داعى اور طالب علم كونسا فائده اٹھا سكتےہیں؟

سورۃ الأحزاب آیات 0 - 60

۞لَّئِن لَّمۡ يَنتَهِ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡمُرۡجِفُونَ فِي ٱلۡمَدِينَةِ لَنُغۡرِيَنَّكَ بِهِمۡ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَآ إِلَّا قَلِيلٗا ٦٠

الله تبارك وتعالىٰ نے اس عمل كا ذكر نہیں فرمایا جس كےبارے میں ان كو تنبیہ كى گئى ہے كہ وه اس سے باز آجائیں تاكہ یہ اپنے عموم كے ساتھ ان تمام برائیوں سے رك جائیں جن پر انہیں ان كے نفس اكساتے، وسوسہ پیدا كرتے اور انہیں دعوت دیتےرہتےہیں، مثلا: اسلام اور اہل اسلام پر سب وشتم كرنا، مسلمانوں كےبارے میں برى افواہیں پھیلانا، ان كى قوتوں كو كمزور كرنے كى كوشش كرنا، مومن خواتین كےساتھ برائى اور فحش رویے سے پیش آنا اور دیگر گناه جو ان جیسے بدكردار لوگوں سے صادر ہوتےہیں۔(السعدى: 672)
سوال: افواه پھیلا نے والوں كے برى افواه کو نام کی تعیین کے ساتھ ذكر كیوں نہیں كیاگیا؟

سورۃ الأحزاب آیات 0 - 60

۞لَّئِن لَّمۡ يَنتَهِ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡمُرۡجِفُونَ فِي ٱلۡمَدِينَةِ لَنُغۡرِيَنَّكَ بِهِمۡ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَآ إِلَّا قَلِيلٗا ٦٠

آیت كریمہ اس بات پر دلالت كرتى ہے كہ ان شرپسندوں كو ، جن كے مسلمانوں كےا ندر قیام سے مسلمانوں كو ضرر كا اندیشہ ہو، شہر بدر كیا جاسكتاہے، اس طریقے سے بہتر طور پر برائى كا سد باب ہوسكتاہے، اور برائى سے دور رہا جاسكتا ہے۔(السعدى: 672)
سوال: آیت كےاندر اس بات كى طرف رہنمائى كى گئى ہے كہ شرپسندوں سے دور رہاجائے اور انہیں اپنوں سے دور ركھا بھى جائے، اس كى وضاحت كریں.