قرآن
ﮭ
ﱎ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ٤٥ ٤٥ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ٤٦ ٤٦ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ٤٧ ٤٧ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ٤٨ ٤٨
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ٤٩ ٤٩ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ٥٠ ٥٠
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِنَّآ أَرۡسَلۡنَٰكَ شَٰهِدٗا وَمُبَشِّرٗا وَنَذِيرٗا ٤٥ وَدَاعِيًا إِلَى ٱللَّهِ بِإِذۡنِهِۦ وَسِرَاجٗا مُّنِيرٗا ٤٦
یہ صفات گرامى جن سے الله تعالىٰ نے اپنے رسول محمد مصطفىﷺ كو موصوف كیا ہے ، آپ كى رسالت كا مقصود ومطلوب اور اسكى بنیاد ہیں، جن سے آپ كو مختص كیا گیا ہے۔ (السعدى: 667)
سوال: ہمارے نبى ﷺ كے وصف میں دوسرے صفات كو چھوڑ كر انہیں پانچ صفات كا ذكر بطور خاص كیوں كیا گیا؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِنَّآ أَرۡسَلۡنَٰكَ شَٰهِدٗا وَمُبَشِّرٗا وَنَذِيرٗا ٤٥
ڈرانےپر خوشخبرى دینے كو مقدم كیا گیا ہے ؛ كیونكہ نبى كریمﷺاكثر بشارت ہى دیتےتھے؛ اسلئے كہ آپ ﷺ رحمت للعالمین ہیں، اور چونكہ آپ كى امت میں مومنوں كى تعداد زیادہ ہوگی۔ (ابن عاشور: 22؍53)
سوال: آیت كےاندر آپ ﷺ كى وصف میں ڈرانے پر خوشخبرى دینے كو مقدم كیوں كیا گیا؟
وَدَاعِيًا إِلَى ٱللَّهِ
دعوت الى الله اپنے نفس یا اس كى تعظیم كیلئے نہ ہو بلكہ خالص الله كےلئے ہو جیسا كہ اس مقام پر بہت سے نفوس كو كبھى كبھى یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے۔ (السعدى: 668)
سوال: اخلاص كے تعلق سے بہت سارے دعاة سے لغزشیں ہوتی ہیں ، آیت كى روشنى میں اس كى وضاحت كریں.
وَبَشِّرِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ بِأَنَّ لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَضۡلٗا كَبِيرٗا ٤٧
ابن عطیہ رحمہ اللہ نے كہا: میرے والد نے مجھ سے كہا كہ الله كى كتاب میں یہ آیت میرے نزدیك سب سے زیاده امید دلانے والى ہے، كیونكہ الله تعالىٰ نے اپنے نبى كو حكم دیا ہے كہ آپ مومنوں كو خوشخبرى دے دیں كہ انكے لئے الله كے پاس بہت بڑا فضل ہے، اور اس بڑے فضل كى تفصیل الله تعالىٰ نے اس آیت میں بیان كى ہے، چنانچہ ارشاد بارى ہے:﴿وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فِي رَوۡضَاتِ ٱلۡجَنَّاتِۖ لَهُم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّهِمۡۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ﴾[الشورى: 22] (القرطبى: 16؍173)
سوال: اس بات كى وضاحت كریں كہ بعض علماء نے اس آیت كو كیسے سب سے زیاده امید دلانے والى آیتوں میں شمار كیا ہے؟
وَلَا تُطِعِ ٱلۡكَٰفِرِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَدَعۡ أَذَىٰهُمۡ
كیونكہ یہ چیز ان كو قبول اسلام كى طرف بلاتى ہے،اور آپ كو اور آپ كے گھر والوں كو بہت سى اذیتوں سے بچاتى ہے۔ (السعدى: 668)
سوال: الله تعالىٰ نے كافروں اور منافقوں كو اذیت دینے سے منع كیوں فرمایا؟
وَلَا تُطِعِ ٱلۡكَٰفِرِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَدَعۡ أَذَىٰهُمۡ
یعنى وه لوگ آپ كو دین میں مداہنت كى جو دعوت دےرہےہیں ان كى بات كبھى مت ماننا اور نہ ہى كسى طور ان كا تعاون كرنا۔ (القرطبى: 16؍173)
سوال: دعاة اور مبلغین سے كافر اور منافق كونسى ایك معین چیز چاہتےہیں؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نَكَحۡتُمُ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ ثُمَّ طَلَّقۡتُمُوهُنَّ مِن قَبۡلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمۡ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ عِدَّةٖ تَعۡتَدُّونَهَاۖ فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحٗا جَمِيلٗا ٤٩
الله تعالىٰ نے مردوں كو حكم دیا ہے كہ وه ایسى صورت میں بھى ان كو كچھ مال ومتاع دے دیں جو ان كى اس دل شكنى كا ازالہ كرے جو انہیں طلاق كى وجہ سے لاحق ہوئى ہے۔(السعدى: 668)
سوال: مطلقہ غیرمدخول بھا كو مال ومتاع دینے كى كیا حكمت ہے؟