قرآن
ﮭ
ﱎ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ٣٦ ٣٦ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
٣٧ ٣٧ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ٣٨ ٣٨ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ٣٩ ٣٩ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ٤٠ ٤٠
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ٤١ ٤١ ﰂ
ﰃ ﰄ ٤٢ ٤٢ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ
ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ٤٣ ٤٣
وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٖ وَلَا مُؤۡمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمۡرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُ مِنۡ أَمۡرِهِمۡۗ
مطلب یہ ہے كہ الله اور اسكے رسول كے(احکام کے) سامنے كسى بھى مومن مرد یا مومنہ عورت كو اختیار حاصل نہیں ، بلكہ سب پر یہ واجب ہے كہ الله اور اسكے رسول كے احكام وفرامین كے سامنے سر تسلیم خم كردیں۔ (ابن جزى: 2؍189)
سوال: ایك مومن پر كیا واجب ہے اس وقت جب كتاب وسنت سے دلیل مل جائے؟
وَإِذۡ تَقُولُ لِلَّذِيٓ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ وَأَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِ أَمۡسِكۡ عَلَيۡكَ زَوۡجَكَ وَٱتَّقِ ٱللَّهَ
جو كوئى اپنى بیوى كو طلاق دینے كیلئے مشوره طلب كرتاہے اس كے لئے بہترین رائے یہ ہے كہ جہاں تك اصلاح احوال ممكن ہو اس كو اپنى بیوى كو طلاق نہ دینے كا مشوره دیا جائے كیونكہ بیوى كو اپنے پاس ركھنا طلاق دینے سے بہتر ہے۔(السعدى: 666)
سوال: اگر كوئى اپنى بیوى سے جدا ہونا چاہتا ہے تو اسے كس طرح كا مشوره دیا جائے؟
وَتُخۡفِي فِي نَفۡسِكَ مَا ٱللَّهُ مُبۡدِيهِ وَتَخۡشَى ٱلنَّاسَ وَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخۡشَىٰهُۖ
رسول اللهﷺكى طرف جو كچھ بھى وحى كیا گیا وه سب آپ نے پہونچا دیا اور كچھ بھى باقى نہیں ركھا حتى كہ وه حكم بھى پہونچا دیا جس میں آپ پر عتاب كیا گیا تھا۔ (السعدى: 666)
سوال: نبى كریمﷺنے پورى سچائى سے دین كى تبلیغ كر دى ہے ، آپ اس آیت سے كیسے استدلال كریں گے؟
فَلَمَّا قَضَىٰ زَيۡدٞ مِّنۡهَا وَطَرٗا زَوَّجۡنَٰكَهَا لِكَيۡ لَا يَكُونَ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ حَرَجٞ فِيٓ أَزۡوَٰجِ أَدۡعِيَآئِهِمۡ إِذَا قَضَوۡاْ مِنۡهُنَّ وَطَرٗاۚ
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے كہ عملى تعلیم، قولى تعلیم سے زیاده بلیغ اور موثر ہے خاص طور پر جب عملى تعلیم قولى تعلیم سے مقرون اور متصل ہو تو پھر تو سونے پر سہاگہ ہے۔ (السعدى: 666)
سوال: آیت كےاندر عملی تطبیق کے ذریعہ تربیت کرنے كى طرف اشاره ہے ، اس كى وضاحت كریں.
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّۧنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا ٤٠
(ولكن رسول الله) اس استدراك كے ذریعے اس وہم كو دور كردیا گیا ہے جو باپ كى نفى كردینے سے ہورہا تھا كہ اگر باپ نہ رہے تو پھرآپ كے اور امت كے مابین وه شفقت پدرى اور رحم وكرم كا جذبہ بھى نہ ہوگا جو ایك باپ اور بیٹے كے مابین پایا جاتاہے، اسى لئے انہیں یاد دلایا گیا كہ آپ ﷺ الله كے رسول ہیں اس حیثیت سے آپ امت كیلئے شفقت ورحمت میں اور امت كى طرف سے حسن سلوك اور عزت وتوقیر میں اپنى تمام امت كیلئے باپ ہى كے مانند ہیں، ہر اس نبى كى طرح جو اپنى امت كیلئےہوتا ہے۔ (ابن عاشور: 22؍44)
سوال: (ولكن رسول الله)میں استدراك كا كیا فائده ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ ذِكۡرٗا كَثِيرٗا ٤١
دوسرے تمام اعمال كے برخلاف ذكر واذكار كرنے میں الله تعالىٰ نے كثرت كى شرط لگائى ہے ، اور ذكر دل اور زبان دونوں سے ہوتاہے، اس كى بہت سارى صورتیں ہیں جیسے تہلیل، تسبیح، حمد، تكبیر، اور الله تعالىٰ كے اسماء حسنىٰ كا ذكر وغیره۔(ابن جزى: 2؍191)
سوال: اس آیت كےاندر تمام افضل اعمال كو چھوڑ كر ذكر كیلئے كس خصوصیت كا بیان ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ ذِكۡرٗا كَثِيرٗا ٤١
الله تعالىٰ نے اپنے بندوں كو حكم دیا كہ اسكا ذكركریں اور اسكا شكریہ ادا كریں، اورالله كى نعمت كو یاد کرکےكثرت سے ذکر و شکر كریں۔ الله تعالىٰ نے اسكى كوئى حد متعین نہیں كى كیونكہ یہ بندے پر بہت آسان ہے اور اس میں اجر بھى بہت عظیم ہے۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پاگل کے علاوہ کسی کے پاس اللہ کا ذکر چھوڑنے کا کوئی عذر نہیں ہے۔(القرطبى: 16؍167)
سوال: الله تعالىٰ كے ذكر كو چھوڑنے كیلئے كیا كسى كیلئے عذر ہے؟