قرآن
ﮬ
ﱍ
ﭘ ﭙ ٢١ ٢١ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ٢٢ ٢٢ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ٢٣ ٢٣ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ٢٤ ٢٤ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
٢٥ ٢٥ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
٢٦ ٢٦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ
٢٧ ٢٧ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ٢٨ ٢٨
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ٢٩ ٢٩ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ٣٠ ٣٠
ﮭ
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ ثُمَّ أَعۡرَضَ عَنۡهَآۚ إِنَّا مِنَ ٱلۡمُجۡرِمِينَ مُنتَقِمُونَ ٢٢
(ومن أظلم) یعنى اپنى ذات كیلئےاس سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں، (ممن ذكر بآيات ربه) جسےرب کی آیتوں سے نصیحت کی گئی،یعنی ربانی دلائل اور نشانیوں سے، (ثم أعرض عنها) پھر اس نے ان سے منہ موڑلیا یعنی قبول نہیں کیا۔ (إنا من المجرمين منتقمون) ہم مجرموں سے بدلہ لیں گے ان كے جھٹلانے اور اعراض كرنے كى وجہ سے۔(القرطبى: 17؍40-41)
سوال: الله تعالیٰ كى نصیحتوں سے اعراض كرنےكى سنگینى اور اسكے انجام كو واضح كریں.
وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ أَئِمَّةٗ يَهۡدُونَ بِأَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُواْۖ وَكَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يُوقِنُونَ ٢٤
اس آیت میں ان اوصاف كى طرف اشاره ہے جن سےایك مرشد كو متصف ہونا چاہئے، اور وه یہ ہیں: عبادات كى مشقتوں اور مختلف مصیتوں پر صبر كرنا، شہوات كى لذتوں سے نفس پر كنٹرول ركھنا،اور آیتوں پر یقین كرنا، پس جو مرشد ہونے کا دعویٰ کرے اور ان صفات سے متصف نہ ہو وه گمراه ہے۔(الألوسی: 11؍139)
سوال: ایك داعى ائمۂ ہدایت میں سے كب بن سكتاہے؟
وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ أَئِمَّةٗ يَهۡدُونَ بِأَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُواْۖ
سفیان ثورى سے على رضی اللہ عنہ كے اس قول كےبارےمیں سوال كیا گیا :ایمان میں صبر كا مقام ویسے ہى ہے جیسے جسم میں سر كا؟ تو انہوں نے كہا: كیا تم نے الله كایہ قول نہیں سنا: (وجعلنا منهم أئمة يهدون بأمرنا لمَّا صبروا) پھر فرمایا: جب انہوں نے چوٹی کے عمل (یعنی صبر) کو اختیار کیا تو وہ چوٹی کے سردار بن گئے۔(ابن كثیر: 3؍446)
سوال: على بن ابى طالب رضی اللہ عنہ نے یہ معنی كہاں سے نكالا كہ ایمان میں صبر كا مقام ویسے ہى ہے جیسے جسم میں سر كا؟
وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ أَئِمَّةٗ يَهۡدُونَ بِأَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُواْۖ وَكَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يُوقِنُونَ ٢٤
(لما صبروا) جب انہوں نے صبر كیا، یعنى انكے صبر كى وجہ سے ہم نے انہیں امام بنادیا، اور یہ صبر دین پر اور مصیتوں پر صبر كرنا ہے۔ اور كہاگیا: انہوں نے دنیا سے صبر كیا۔(القرطبى: 17؍43)
سوال: اس آیت میں صبر سے كیا مقصود ہے؟
أَوَ لَمۡ يَهۡدِ لَهُمۡ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَبۡلِهِم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ يَمۡشُونَ فِي مَسَٰكِنِهِمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٍۚ أَفَلَا يَسۡمَعُونَ ٢٦
(إن في ذلك) یعنى پچھلی سركش قوموں كى ہلاکتوں کا جوذكر كیا گیا،ان میں یا ان كے رہائش گاہوں میں، (لآيات) یعنى بڑى نشانیاں ہیں خود میں، اور تعداد میں بھى بہت زیاده ہیں۔ (أفلا يسمعون) كیا وه نہیں سن رہے ہیں، یعنى ان آیات كو غور و فکر کرنے کے لئے اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے؟ (الألوسی: 11؍136)
سوال: پچھلی امتوں كى خبروں كو بیان كرنے كا كیا فائده ہے؟
قُلۡ يَوۡمَ ٱلۡفَتۡحِ لَا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِيمَٰنُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ ٢٩
جس نے اس فتح سے مراد فتح مکہ سمجھا ہے وہ حقیقت سے بہت دور ہیں اور فاش غلطی پر ہیں؛ كیونكہ فتح مكہ كےدن رسول ﷺ نے قرشیوں كے اسلام كو قبول كیا تھا ، جن كى تعداد قریب قریب دو ہزار تھى، اگر اس آیت میں یہی فتح مکہ مراد ہوتی تو آپ(فتح مکہ کے دن) ان كے اسلام كو قبول نہیں كرتے، كیونكہ الله نے تو یہ فرمایا ہے: (قل يوم الفتح لا ينفع الذين كفروا إيمانهم ولا هم ينظرون)، چنانچہ یہاں فتح سے مراد حکم اور فیصلہ ہے۔ (ابن كثیر: 3؍447)
سوال: اس آیت میں فتح سے كیا مقصود ہے؟
فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَٱنتَظِرۡ إِنَّهُم مُّنتَظِرُونَ ٣٠
(اے نبی)آپ ان(جھٹلانے والے کافروں) كى بے وقوفیوں سے اعراض كریں اور انہیں صرف اتنا ہى جواب دیں جتنا آپ كو حكم كیا گیا ہے، (وانتظر إنهم منتظرون) یعنی فیصلے كے دن كا انتظار كریں، جس دن الله ان كے خلاف آپ كے حق میں فیصلہ كرےگا۔(القرطبى: 17؍46)
سوال: جھٹلانےوالے اعراض كرنے والے مخالفین كےساتھ برتاؤ كے سلسلے میں قرآنى منہج واضح كیجئے.