قرآن
ﮬ
ﱍ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ
١٢ ١٢ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
١٣ ١٣ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ١٤ ١٤ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ١٥ ١٥ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ١٦ ١٦ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ١٧ ١٧ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ١٨ ١٨ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ١٩ ١٩ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ٢٠ ٢٠
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلۡمُجۡرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ رَبَّنَآ أَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا فَٱرۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَٰلِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ ١٢
اگر آپ آخرت میں مجرمین كا حال دیکھیں گے تو بڑا ہى ہولناك معاملہ پائیں گے، (ناكسوا رؤوسهم) (اپنا سر جھکائے ہوں گے)سر كا جھكانا یہ ذلت ، غم اور ندامت سے عبارت ہے، (ربنا أبصرنا وسمعنا) مطلب یہ ہے كہ وه كہیں گے: اے ہمارے رب! ہم سارى حقیقتوں سے آگاه ہوگئے۔(ابن جزى: 2؍178)
سوال: قیامت كے دن مجرمین اپنے سروں كوكیوں جھكائے ہوئےہوں گے؟
إِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُواْ بِهَا خَرُّواْۤ سُجَّدٗاۤ وَسَبَّحُواْ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ۩ ١٥
یعنى(مومن) الله سبحانہ وتعالىٰ کے لئے اپنے چہروں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں، اسكى آیتوں كى تعظیم میں اور اسكى مضبوط گرفت وعذاب كے خوف سے۔(القرطبى: 17؍27)
سوال: آیات الہى كے یاد دلانے كے وقت ایك مومن كى حالت كیسى ہونى چاہئے؟
تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمۡ عَنِ ٱلۡمَضَاجِعِ يَدۡعُونَ رَبَّهُمۡ خَوۡفٗا وَطَمَعٗا وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ١٦
(تتجافى جنوبهم عن المضاجع) ان کےپہلو بستروں سے الگ ہوتےہیں، مطلب یہ ہے کہ نوافل (قیام اللیل) کثرت سے پڑھنے کی وجہ سے رات میں اپنے بستروں کو چھوڑ دیتے ہیں، اور جو عشاء اور فجر كى نماز جماعت سے پڑھ لے اس عظیم صفت میں اس کی بھی حصہ داری ہے۔(ابن جزى: 2؍179)
سوال: بعض مومنوں نے اپنے بستروں كو (رات میں) چھوڑ ركھا ہے اس کا محرک کیا ہے؟
تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمۡ عَنِ ٱلۡمَضَاجِعِ يَدۡعُونَ رَبَّهُمۡ خَوۡفٗا وَطَمَعٗا وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ١٦
(وطمعًا) یعنى(وہ اللہ کی عبادت میں شب بیداری کرتے ہیں) الله كى خوشنودى كى امید میں جو اجروثواب كا باعث ہے، اور یہاں لفظ(رجاء) کو چھوڑ کر (طَمَعًا) سے تعبیرکیاگیا، اس بات كى طرف اشاره كرنے كیلئے كہ وہ بندے اپنی کمیوں اور خامیوں کے شدید احساس کے سبب وہ اپنے اعمال كو كچھ بھى نہیں سمجھتے ہیں بلكہ وہ بغیر کسی سبب کے اللہ کے فضل کو طلب کرتے ہیں، اور جب یہ بندے بلا سبب الله كى رحمت كى امید کرتے ہیں، تو سبب كے ساتھ ان کی امید اور بڑھ جائے گی، اس طرح وه الله كى رحمت سے بالكل مایوس نہیں ہوں گے۔(البقاعى: 15؍256)
سوال: رجاء كے بدلے طمع سے تعبیر كیوں كیا گیا؟
تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمۡ عَنِ ٱلۡمَضَاجِعِ يَدۡعُونَ رَبَّهُمۡ خَوۡفٗا وَطَمَعٗا وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ١٦
(ومما رزقناهم ينفقون) جب الله تعالىٰ نے یہ ذکر کیا کہ (مومن بندے) اپنی جسمانی آرام و آسائش پر تقرب الی اللہ (عبادتِ الٰہی) کو ترجیح دیتے ہیں تو اس کے ساتھ یہ بھی ذکر کیا کہ یہ لوگ دیگر دنیاوی لذتوں کے ذریعۂحصول پر بھی تقرب الی اللہ کو ترجیح دیتے ہیں، اور وہ ذریعۂحصول ہے مال۔(ابن عاشور: 21؍229)
سوال: قیام اللیل كےسلسلے میں گفتگو کے بعد (ومما رزقناهم ينفقون) كیوں لایا گیا ہے؟
فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٞ مَّآ أُخۡفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعۡيُنٖ
یعنی اللہ تعالیٰ نے مومن بندوں کے لئے جنتوں میں ہمیشہ ہمیش رہنے والی ایسی نعمتوں کو چھپا رکھا ہے جن کی عظمتوں کو کوئی نہیں جانتا، اور ایسی لذتوں کو چھپارکھا ہے کہ ان جیسی لذتوں کا کسی کو پتہ تک نہیں، (کیونکہ) جب ان مومن بندوں نے اپنے اعمال كو چھپایا، تواسی طرح الله تعالىٰ نے ان کے ثواب كو بھى چھپادیا، اور یہى پورا پورا بدلہ ہے، کیونکہ بدلہ عمل كے جنس سے ہوتاہے۔ حسن بصرى رحمہ اللہ نے كہا: كچھ لوگوں نے اپنے اعمال كو چھپایا تو الله نے بهى انكے لئے ایسى نعمتوں كو چھپا ركھا ہے جسے نہ تو كسى آنكھ نے دیكھا ہے اور نہ ہى كسى فرد بشر كے دل میں اسكا خیال آیا ہے۔(ابن كثیر: 3؍443)
سوال: اہل جنت کی جزا (بدلہ)کی بہت سارى چیزوں كو الله نے كیوں چھپا ركھا ہے؟
كُلَّمَآ أَرَادُوٓاْ أَن يَخۡرُجُواْ مِنۡهَآ أُعِيدُواْ فِيهَا
عذاب كى انتہائى شدت كى وجہ سے جب كبھى وه نكلنے كا اراده كریں گےتوانہیں دوباره جہنم میں دھکیل دیا جائےگا، پس ان سے مصیبت دور ہونے کی خوشی ختم ہوجائے گی اور ان کی تکلیف سخت ہوجائےگی۔(السعدى: 656)
سوال: آیت كا یہ حصہ جہنمیوں كى شدت عذاب پر كیسے دلالت كرتاہے؟