قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٢٩ ٢٩

٣٠ ٣٠
ﭿ

٣١ ٣١



٣٢ ٣٢



٣٣ ٣٣


ﯿ ٣٤ ٣٤
Surah Header

414
سورۃ لقمان آیات 0 - 29

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ يَجۡرِيٓ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى وَأَنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ ٢٩

ابتداء رات سے كى گئى كیونكہ اس كا معاملہ نہایت عجیب ہے، دیکھیں كیسے اسكى تاریكیاں دن كى روشنى پر چھا جاتى ہیں۔ (ابن عاشور: 21؍185)
سوال: آیت كریمہ میں رات کا ذکر پہلے کیوں کیاگیا؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 31

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱلۡفُلۡكَ تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِنِعۡمَتِ ٱللَّهِ لِيُرِيَكُم مِّنۡ ءَايَٰتِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ ٣١

(صبر و شکر کرنے والے سے کنایہ مومنین ہیں) اورایمان كى تمام شاخوں میں سے یہاں صرف صبر وشكر كوکنایہ کے لئے بطور خاص ذكر كیا گیا ؛ كیونكہ سمندری سفر کی صورت میں یہى دونوں صفتیں ہى زیاده مناسب ہیں چونکہ سمندرکا مسافر خطرے اور سلامتى كے درمیان رہتا ہے اور یہ دونوں صورتیں (خطرہ اور سلامتی) صبروشکر کا مظہر ہیں (یعنی ان دونوں حالتوں میں صبر و شکر بہتر ہتھیار ہوتے ہیں)۔(ابن عاشور: 21؍190)
سوال: سمندر میں كشتیوں كے چلنے كےذکر کے ساتھ صبر وشكر ہى كو بطور خاص كیوں لایا گیا؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 31

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ ٣١

یعنى اللہ کے فیصلوں پربہت زیادہ صبر كرنے والا اور اسكى نعمتوں پربہت زیادہ شكریہ ادا كرنے والا ہے، اور اہل معانى نے كہا: یہاں اس صفت (کوذکر کرکے) ہرمومن مراد لیا ہے ؛ كیونكہ صبر وشكر ایمان کی بہترین خصلتوں میں سےہیں۔(القرطبى: 16؍493)
سوال: آیت كو ان دو عظیم صفتوں پر ختم كیوں كیا گیا؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 31

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱلۡفُلۡكَ تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِنِعۡمَتِ ٱللَّهِ لِيُرِيَكُم مِّنۡ ءَايَٰتِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ ٣١

صبر و شکر ہر دو صفت کو حد درجہ اختیار کرنے والا ہو،صبر وشكر میں سے ہر ایك كو صیغۂ مبالغہ كےساتھ لایا گیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے كہ سختی کے زمانے کی طرح خوشحالی کے زمانے میں اللہ کی عظمت کو وہی شخص جانتا ہے جس کی طبیعت میں اللہ نے یہ خصلت ودیعت کی ہے، اسے توفیق دی ہے، اور اس کی مدد کی ہےاور وہی شخص پہلی فطرت سلیمہ کے تقاضے کے مطابق (اللہ کی عظمت کو مد نظر رکھتے ہوئے) عہد کی ہردو حال میں پاسداری کرتا ہے اور عہدشکنی نہیں کرتا اور ایسے لوگ كم ہى ہوتےہیں۔(البقاعى: 15؍206)
سوال: آیت كے آخر میں صبر وشكر كى صفتوں كو صیغۂ مبالغہ كےساتھ لانے كا كیا فائده ہے؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 32

وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوۡجٞ كَٱلظُّلَلِ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ فَمِنۡهُم مُّقۡتَصِدٞۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا كُلُّ خَتَّارٖ كَفُورٖ ٣٢

(ختَّار) یعنى غدار، بہت زیاده غدارى كرنے والا، كیونكہ وه الله كى نعمتوں كا انكار كرتا ہے، اور یہ بہت بڑى غدارى ہے۔(ابن جزى: 2؍176)
سوال: كافر بڑا غدار كیوں ہوتاہے؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 33

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡ وَٱخۡشَوۡاْ يَوۡمٗا لَّا يَجۡزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِۦ وَلَا مَوۡلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِۦ شَيۡـًٔاۚ

لوگوں کو الله تبارك وتعالىٰ اپنے تقوىٰ كا حكم دے رہا ہے، تقویٰ سے مراد اللہ كے احکامات كى تعمیل كرنا اور منہیات(جن چیزوں سے اللہ نے روکا ہے) كو ترك كرنا ہے۔اور الله تعالىٰ قیامت كے سخت دن كے خوف كى طرف ان كى توجہ مبذول کرارہا ہے جس روز ہر شخص كو اپنے سوا كسى كا ہم و غم نہیں ہوگا، پس معاملہ ایسا ہوگا (لا يجزي والد عن ولده ولا مولود هو جازٍ عن والده شيئًا) نہ تو باپ اپنے بیٹے كے كچھ كام آئےگا نہ بیٹا اپنے باپ كے كچھ كام آسكےگا۔ یعنى وه اسكى نیكیوں میں اضافہ كرسكےگا نہ اسكے گناہوں میں كوئى كمى كرسكےگا۔ ہر بندےكا عمل پورا ہوچكاہوگا، اور اس پر اسكى جزوسزا بھى متحقق ہوچكى ہوگى۔ لہٰذا اس مقام پر اس ہولناك دن كى طرف توجہ کرنابندے كو قوت عطا کرتا ہے اور اس كیلئے تقوىٰ كو آسان کردیتا ہے۔(السعدى:652)
سوال: الله تعالىٰ نے قرآن كریم میں قیامت كى ہولناكیوں كو زیاده سے زیاده كیوں بیان كیاہے؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 34

إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡأَرۡحَامِۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسٞ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدٗاۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسُۢ بِأَيِّ أَرۡضٖ تَمُوتُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرُۢ ٣٤

آیت میں مذکور ان پانچوں امور کو حدیث نبوی میں مفاتیح الغیب (غیب کی کنجیاں) کا لقب دیا گیا ہے، اور ان ہی پانچوں امور سے فرمان الٰہی ﴿وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَآ إِلَّا هُوَ﴾ (الانعام: 59) (یعنی : اللہ کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا) کی تفسیر کی گئی ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “مفاتيح الغيب خمس” یعنی غیب کی کنجیاں پانچ ہیں پھر آپ نے تلاوت فرمایا (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ) (ابن عاشور: 21؍198)
سوال: آیت ِکریمہ میں مذکور پانچوں چیزوں کو کس چیز کا نام دیا گیا ہے؟