قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٣٣ ٣٣

٣٤ ٣٤

٣٥ ٣٥

ﭿ
٣٦ ٣٦

٣٧ ٣٧


٣٨ ٣٨


٣٩ ٣٩



٤٠ ٤٠
ﯿ
٤١ ٤١
408
سورۃ الروم آیات 0 - 33

وَإِذَا مَسَّ ٱلنَّاسَ ضُرّٞ دَعَوۡاْ رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيۡهِ ثُمَّ إِذَآ أَذَاقَهُم مِّنۡهُ رَحۡمَةً إِذَا فَرِيقٞ مِّنۡهُم بِرَبِّهِمۡ يُشۡرِكُونَ ٣٣

یعنى ان كافروں كو جب كوئى بیمارى یا مصیبت لاحق ہوتى ہے تو اپنے رب كو پكارتےہیں، یعنى اس مصیبت كو ختم كرنے كیلئےاللہ واحد کی طرف متوجہ ہوکر صرف اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور بتوں كو چھوڑ دیتےہیں، كیونكہ انہیں یہ یقین ہوتاہے کہ وہ مصیبتوں کو دور نہیں کرسکتے (ثم إذا أذاقهم منه رحمة) پهر جب وه انہیں اپنی رحمت سے نوازتا ہے یعنى عافیت اور نعمت عطاکرتا ہے، (إذا فريق منهم بربهم يشركون) اس وقت ان میں ایك گروه اپنے رب كےساتھ شرك كرنے لگ جاتاہے، یعنى عبادت میں اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرنے لگتا ہے۔(القرطبى: 16؍433)
سوال: اس شخص كى الله نے مذمت كیسے كى ہے جو مصیبت میں اسے یادکرتا ہے اور نعمت میں بھول جاتاہے؟

سورۃ الروم آیات 0 - 36

وَإِذَآ أَذَقۡنَا ٱلنَّاسَ رَحۡمَةٗ فَرِحُواْ بِهَاۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ إِذَا هُمۡ يَقۡنَطُونَ ٣٦

دیکھیں یہاں(رحمت کے سلسلے میں) كیسے (وإذا) کہا جبكہ تكلیف كے بارے میں (وإن تصبهم سيئة) فرمایا؛ كیونكہ (وإذا) كا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب شرط كا واقع ہونا قطعى ہو، برخلاف (إن) كے كیونكہ اس کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب شرط كا واقع ہونا مشكوك ہو، سو اس میں اس بات کی طرف اشاره ہے کہ وہ خیرجس سے اللہ اپنے بندوں کو نوازتا ہے شر سے بہت زیادہ ہے۔(ابن جزى: 2؍169)
سوال: آیت اس بات پر كیسے دلالت كرتى ہے كہ وہ خیر جس سے اللہ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، شرسے بہت زیادہ ہے؟

سورۃ الروم آیات 0 - 36

وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ إِذَا هُمۡ يَقۡنَطُونَ ٣٦

جب گناہ کے سبب مصائب آرہے ہیں، اور حالت یہ ہے کہ مصیبتوں میں مبتلا ہونے والے ان گناہوں سے باز نہیں آرہے ہیں جن کے سبب وہ سزا سے دوچار ہوئے، (اور رحمتِ الٰہی سے ناامید بھی ہورہے ہیں) اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے اور ان کی ناامیدی پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا (بما قدمت أيديهم) یعنی یہ مصیبت ان کے ہاتھوں کی کرتوت کی وجہ سے ہے۔(البقاعى: 15؍95)
سوال: گناہوں كے بعض آثار كا تذكره كیجئے.

سورۃ الروم آیات 0 - 36

وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ إِذَا هُمۡ يَقۡنَطُونَ ٣٦

فرمان بارى: (بما قدمت أيديهم) سے اس بات كى تنبیہ مقصود ہے كہ لوگوں کو دنیا میں جو مصیبت لاحق ہوتى ہے اس كا سبب خود ان کے کرتوت ہوتے ہیں جنہیں الله تعالىٰ نے نتائج و اثرات کا موثرسبب بنایا ہے، جن کے رازوں اور باریکیوں کو صرف الله تعالىٰ ہى جانتا ہے ، لہٰذا لوگوں كو چاہیئے كہ وه اپنا محاسبہ كریں اور مصیبتوں كے لاحق ہونے کے اسباب سے بچیں اور اپنى کوتاہیوں كى تلافى كیلئے عمل كریں، یہى برائیوں اور مصیبتوں سے نجات کا بہتر ذریعہ ہے۔ اور ناامیدی سے زیادہ کارگر طریقہ ہے اوریہ قرآن كریم کے آداب میں سے ایك عمده ادب ہے ، ارشاد بارى ہے﴿مَّآ أَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةٖ فَمِنَ ٱللَّهِۖ وَمَآ أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٖ فَمِن نَّفۡسِكَ﴾ [سورۂ نساء: 79] (تمہیں جو بھلائى ملتى ہے وه الله كى طرف سےہے، اور تمہیں جو مصیبت آتى ہے وه تمہارى طرف سے ہے) (ابن عاشور: 21؍101)
سوال: انسانوں پر دنیا میں لاحق مصیبتوں كا سبب كیا ہے؟

سورۃ الروم آیات 0 - 39

وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن رِّبٗا لِّيَرۡبُوَاْ فِيٓ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرۡبُواْ عِندَ ٱللَّهِۖ وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن زَكَوٰةٖ تُرِيدُونَ وَجۡهَ ٱللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُضۡعِفُونَ ٣٩

امام شعبى نے كہا: آیت كا معنى یہ ہے جب انسان اپنی دنیا میں فائدہ اٹھانے کی غرض سے کسی آدمی کی خدمت کرتا ہےاور اس کی اطاعت بجالاتا ہے تو یہ نفع جو مخدوم اپنے خادمین کو بطورصلہ دیتا ہےاللہ کے یہاں نہیں بڑھتا ہے۔ (القرطبى: 16؍438)
سوال: اگر انسان كسى كى خدمت كركے دنیوى بدلہ چاہتا ہے تو كیا اس پر اسے ثواب ملےگا؟

سورۃ الروم آیات 0 - 41

ظَهَرَ ٱلۡفَسَادُ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِي ٱلنَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعۡضَ ٱلَّذِي عَمِلُواْ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ٤١

پاك ہے وه ذات جس نے (بعض گناہوں کے سبب) كچھ مصیبت اور سزا دیكرانعام و احسان كیا ، ورنہ اگر تمام گناہوں کا مزہ چکھاتا تو زمین میں كوئى جاندار نہ بچتا۔ (السعدى: 643)
سوال: مصیبت میں بھى الله كى نعمت اور اس کا احسان ہے، كیسے؟

سورۃ الروم آیات 0 - 41

ظَهَرَ ٱلۡفَسَادُ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِي ٱلنَّاسِ

خشکی میں بگاڑ (مختلف صورتوں میں) ظاہرہوتا ہے جیسے قحط سالی، فتنے اور اس جیسی دیگر مصیبتیں اور دریامیں بگاڑ (مختلف صورتوں میں) ظاہرہوتا ہے جیسے غرقابى، شكار كى كمى، تجارت كى مندى اور اس طرح كى دوسرى پریشانىاں ، اور یہ سب انسانوں ہى كے كرتوت اور اسكے كفر ومعصیت كى وجہ سے ہوتا ہے۔(ابن جزى: 2؍169)
سوال: بگاڑ كے ظہور كى كیا نشانیاں ہیں؟ اور اسكا كیا سبب ہے؟