قرآن
ﮪ
ﱍ
ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ١٦ ١٦ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ
ﭡ ﭢ ١٧ ١٧ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ١٨ ١٨ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
١٩ ١٩ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ٢٠ ٢٠ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ٢١ ٢١ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ٢٢ ٢٢ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ٢٣ ٢٣ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ
ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ٢٤ ٢٤
يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّ
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ذکرکررہا ہے کہ اس نے چیزوں کو ان کے اضداد کے ساتھ پیداکیاہے تاکہ اس کی تخلیق اس کی کمالِ قدرت کی دلیل ہو، جیسے دانے سے پودا اگانا، اور پودے سے دانہ نكالنا، انڈے سے مرغى اور مرغى سے انڈے پیدا كرنا، نطفے سے انسان اور انسان سے نطفے نكالنا، اسى طرح كافر سے مومن اور مومن سے كافر پیدا كرنا۔ (ابن كثیر: 6؍277)
سوال: چیزوں كو ان كے اضداد كے ساتھ پیدا كرنے كے بارے میں الله تعالىٰ نے جو خبردی ہے اس سے کیافائدہ حاصل ہوتا ہے؟
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنۡ خَلَقَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَٰجٗا لِّتَسۡكُنُوٓاْ إِلَيۡهَا وَجَعَلَ بَيۡنَكُم مَّوَدَّةٗ وَرَحۡمَةًۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ٢١
(اللہ نے)میاں بیوى كے درمیان محبت اور رحمت كو پیدا کیا، سو دونوں آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور ایك دوسرے پر رحم كرتےہیں، چنانچہ ان دونوں میں سے ہرایک کو اپنے جوڑے سے زیادہ محبوب کوئی اور چیز نہیں ہوتی جبکہ ان دونوں کے درمیان کوئی خونی رشتہ نہیں ہوتا (إن في ذلك لآيات لقوم يتفكرون) یقینا اس میں نشانى ہے ان لوگوں كیلئے جو الله كى عظمت اور اسكى قدرت میں غور وفكر كرتےہیں۔ (البغوى: 3؍491)
سوال: میاں بیوى كے درمیان محبت و رحمت پیداكرنے میں الله تعالىٰ كے عظیم نعمت كى وضاحت كیجئے.
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ خَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفُ أَلۡسِنَتِكُمۡ وَأَلۡوَٰنِكُمۡۚ
بندوں كے ساتھ الله تعالىٰ كى یہ عنایت اور رحمت ہے كہ ان كے درمیان زبان ورنگ كے اختلاف كو مقدر كردیا تاكہ ان میں تشابہ(یکسانیت) پیدا نہ ہوجس سے اضطراب كى صورت پیدا ہو اور بہت سارے مقاصد فوت ہوجائیں۔(السعدى: 639)
سوال: غوروفكر كرنے والوں كے نزدیك زبان ورنگ كے اختلاف میں الله كى رحمت کا بیان ہے ، اس كى كیا وجہ ہے؟
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ خَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفُ أَلۡسِنَتِكُمۡ وَأَلۡوَٰنِكُمۡۚ
روئے زمین کے تمام لوگ بلكہ آدم علیہ السلام كى پیدائش سے قیامت تك كے سارے لوگوں كے پاس دو آنکھیں، دو ابرو، ایك ناك، ایك پیشانى، ایك منہ اور دو رخسارہیں، اور ان میں كوئى كسى كے مشابہ نہیں ہے، بلكہ ضرور کسی نہ کسی چیز میں ایک دوسرے سے جداگانہ ہے چال ڈھال میں ہو یا شکل و صورت میں ہو، یا انداز گفتگو میں، چاہے وہ ظاہر ہو یا پوشیدہ۔جوغور وفکر کے وقت ظاہر ہوجاتا ہے، ہر ایک چہرہ بذات خود ایک اسلوب (طرز تخلیق کا نمونہ) ہے اور اس کی ہیئت ایک دوسرے سے جداگانہ ہے۔ (ابن كثیر: 6؍279)
سوال: پیدائشی ہیئت میں انسان کی جومختلف قسمیں ہیں ان پر غور و فکر کرنے سے آپ کو كیا فائده حاصل ہوتا ہے؟
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ خَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفُ أَلۡسِنَتِكُمۡ وَأَلۡوَٰنِكُمۡۚ
(واختلاف ألسنتكم وألوانكم) زبان منہ میں ہے، جس كے اندر زبانوں(لغات) كا اختلاف پایا جاتا ہے، عربى ، عجمی، تركى، رومى وغیره، اور رنگ كا اختلاف شكل وصورت میں ہے، جیسے گورا، كالا، سرخ ، كہ جسے بھى آپ دیكھ لیں اسے دوسرے سے فرق كرلیں، اور ان سارى چیزوں میں نہ تو نطفوں كا عمل دخل ہے اور نہ ہى والدین كا ، تو ضرورى ہے كہ ان كا فاعل(ان سارے امور کو انجام دینے والا) كوئى ہو ، اوروه الله تعالىٰ ہے، اور یہى مدبر بارى كى سب سے بڑى دلیل ہے(یعنی اس کائنات کو پیداکرنے والا اور اس کے نظام کو چلانے والا کوئی ہے اور وہ اللہ ہے)۔(القرطبى: 16؍413)
سوال: زبان ورنگ كا اختلاف كس چیز پر دلالت كرتاہے؟
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ مَنَامُكُم بِٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱبۡتِغَآؤُكُم مِّن فَضۡلِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَسۡمَعُونَ ٢٣
فضلِ الٰہی کو تلاش و جستجو کے ساتھ جوڑنے میں اس بات كى طرف اشاره ہے كہ بنده یہ نہ سمجھے كہ رزق اس كى ذات اور اسكى عقلمندى سے حاصل ہوتى ہے، بلكہ یہ سمجھے كہ سب کچھ الله كے فضل وكرم سے حاصل ہوتا ہے۔(الألوسى: 11؍33)
سوال: الله كے قول: (وابتغاؤكم من فضله)میں فضلِ الٰہی کو تلاش و جستجو سے جوڑنے سے كیا فائده حاصل ہوتا ہے؟
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ يُرِيكُمُ ٱلۡبَرۡقَ خَوۡفٗا وَطَمَعٗا وَيُنَزِّلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَيُحۡيِۦ بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَآۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٢٤
مذكوره نشانیوں سے فائده اٹھانے كو اصحاب عقل سے جوڑ دیا دیا گیا ؛ كیونكہ مذكوره نشانیوں میں جو دلائل اور حکمتیں ہیں ان کو وہی عقل مستقیم سمجھ سکتی ہے جو ہٹ دھرمى اور بغض وعناد جیسى بیماریوں سے پاك ہو۔ (ابن عاشور: 21؍79)
سوال: آیت كریمہ كے اندر فائده اٹھانے كو اہل عقل كے ساتھ كیوں خاص كردیا گیا ہے؟