قرآن
ﮪ
ﱍ
٦ ٦ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ٧ ٧ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ٨ ٨ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ٩ ٩ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ١٠ ١٠ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
١١ ١١ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ١٢ ١٢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ
١٣ ١٣ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ١٤ ١٤ ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ١٥ ١٥
وَعۡدَ ٱللَّهِۖ لَا يُخۡلِفُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٦
وعدے كو الله كى طرف اضافت کرنے میں یہ اشارہ ہے كہ یہ وعده پورا ہوكر رہےگا ؛ كیونكہ الله جیسى سچى قادر بے نیاز ذات كے وعدے كو توڑنے كا كوئى سبب نہیں ۔ (ابن عاشور: 21؍48)
سوال: وعدے كو الله كى طرف اضافت كرنے كا كیا فائده ہے؟
يَعۡلَمُونَ ظَٰهِرٗا مِّنَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُمۡ عَنِ ٱلۡأٓخِرَةِ غَٰفِلُونَ ٧
تعجب تو یہ ہے كہ اس قسم كے لوگوں میں بہت سے ایسے ہیں جو دنیاوى معاملات میں اس حد تك ذہین وفطین ہوتےہیں كہ جنہیں دیكھ كر عقلیں حیران ہوجائیں اور دل ششدر ہوكر ره جائیں۔ دیکھیں انہوں نے ایسی انوکھی انوکھی ایٹمی اور الکٹرانک چیزیں، بری، بحری اور فضائی سواریاں ایجاد کیں جن سے ان کی فوقیت اور برتری عیاں ہے لیكن ساتھ ہى یہى لوگ دینى معاملات میں سب سے زیاده گئے گزرے ، اپنى آخرت سے سب سے زیادہ غافل اور اپنے انجام كار سے سب سے زیادہ ناآشنا ہیں، صاحب بصیرت انہیں دیکھتے ہیں كہ وه اپنى جہالت وضلالت میں كس قدر ٹامك ٹوئیاں مار رہےہیں، اور اپنى باطل پرستى میں بھٹك رہےہیں۔ تو یہ سمجھ لیتےہیں كہ سارا معاملہ الله كے ہاتھ میں ہے ، بندوں پر سارا فیصلہ اسى كا چلتا ہے، اور توفیق وعدم توفیق اسى كے ہاتھ میں ہے، یہ دیكھ كر اپنے رب سے ڈرتےہیں اور دعا كرتےہیں كہ انہیں عقل وایمان كى جو روشنى نصیب فرمائى ہے اسے پورا كردے یہاں تك وہ اس کے پاس پہنچ جائیں اور اس کے جوار میں نازل ہوجائیں ۔ (السعدى: 637)
سوال: ہم دنیاوى اور اخروى علم كے درمیان موازنہ كیسے كریں گے؟
يَعۡلَمُونَ ظَٰهِرٗا مِّنَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُمۡ عَنِ ٱلۡأٓخِرَةِ غَٰفِلُونَ ٧
حسن بصرى رحمہ اللہ نے كہا: “کوئی ایك دنیا دار درہم كو اپنے ناخن كے كنارے سے ٹٹول كر اسكا صحیح وزن بتادیتا ہے اور اس میں غلطى نہیں كرتا جبكہ وه صحیح سے نماز بھى پڑھنا نہیں جانتا، ”
اس طرح بہت سارے لوگ پائےجاتےہیں، اور یہ لوگ گرچہ اہل دنیا كے نزدیك بڑے عظیم مانے جاتےہیں لیكن الله كے نزدیك ایسے لوگوں كى كوئى وقعت نہیں ہوتى، اسى لئے الله تعالىٰ نے اس علم کو (جو صرف ظاہری دنیا تک محدود ہے) حقیر بتایا کیوں کہ صرف ایسا علم رکھنے والے ان چوپایوں کے برابر ہیں جو اپنے لئے نفع بخش چیزوں کا ادراک کرکے مختلف حیلوں سے انہیں حاصل کرتے ہیں، اور نقصان دہ چیزوں کو جان کر انہیں مختلف حربوں سے دور کرتے ہیں ایسے لوگ ان چوپایوں سے کچھ بھی آگے نہیں ہیں۔(البقاعى: 15؍44- 45)
سوال: آخرت كیلئے علم نافع كیا ہے؟
يَعۡلَمُونَ ظَٰهِرٗا مِّنَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُمۡ عَنِ ٱلۡأٓخِرَةِ غَٰفِلُونَ ٧
یعنى اپنے گزران حال كےبارےمیں جانتےہیں كہ كیسے كمائیں، کیسےتجارت كریں، كب پودا لگائیں، كب کھیتی كریں ، كب كٹائى كریں، كیسے گھر تعمیر كریں اور كیسے زندگى گزاریں، (وهم عن الآخرة هم غافلون) جبكہ وه آخرت سے غافل ہیں، یعنى اسے بھولے ہوئےہیں اور اسكے بارےمیں كچھ نہیں جانتے، نہ ہى اس كے بارےمیں كوئى فكر كرتےہیں اور نہ ہى اس كے لئے عمل كرتےہیں۔ (البغوى: 3؍488)
سوال: دنیوى علوم كے دلدادوں كى مذمت كب كى جائیگى؟
فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ ٩
(يظلمون) یعنی وہ نفع حاصل کرنے کے بجائے اپنے نفسوں پر نت نئے ظلم کرتے رہتے ہیں کیونکہ وہ (از خود) اپنی ان عقلوں سے غور نہیں کرتے جنہیں ہم نے ان میں ودیعت کررکھا ہے تاکہ وہ ان سے روشنی حاصل کرکے حق کو باطل سے پہچان سکیں، اور نہ ہی ہدایت کی راہ دکھانے والوں کی مانتے ہیں جب وہ ان کی عقلوں پر پڑے پردوں کو اٹھاتے ہیں، اور نہ ہی گمراہی سے باز آتے ہیں جب راہ دکھانے والے لاجواب کردینے والی نشانیوں سے انہیں بے بس کردیتے ہیں، بلکہ غفلت سے سرکشی کی حد تک جاپہنچتے ہیں۔ (البقاعی: 15؍52)
سوال: عقل کو صحیح طور سے کام میں نہ لاناظلم ہے کیسے؟
وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ ٩
ان كے ظلم كے تسلسل اور تكرار كو بتانے كیلئےانكے اپنے نفسوں پر ظلم كرنے كو صیغۂ مضارع سے تعبیر كیا گیا ، اور یہ بھی بتانے کے لئے كہ الله نے انہیں ڈھیل دے ركھی تھی پس وہ اپنے رویے سے باز نہیں آئے یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ (ابن عاشور: 21؍58)
سوال: مشركین كا اپنے اوپر ظلم كرنے كو صیغۂ مضارع سے تعبیر كرنے كا كیا فائده ہے؟
وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ ٩
(يحبرون): یعنى ان پر نعمتوں كا اثر ظاہر ہوگا، اور یحیى بن ابى كثیر نے كہا: (في روضة يحبرون)- سے مراد جنت میں (پرسوز نغمےکا) سننا ہے، اور یہی بات علامہ اوزاعى نے بھى كہاہے كہ جب اہل جنت نغمے سننے كى خواہش كریں گے تو جنت میں كوئى ایسا درخت نہیں بچےگا جو تسبیح وتقدیس کی نغمہ سرائی نہ کرنے لگے۔ (القرطبى: 16؍406)
سوال: آیت كى روشنى میں واضح کیجئے كہ جنت میں مومن كا حال كیسا ہوگا؟