قرآن
ﮩ
ﱍ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
٤٦ ٤٦ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ٤٧ ٤٧ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ٤٨ ٤٨ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ٤٩ ٤٩ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ٥٠ ٥٠ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ٥١ ٥١ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ
ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ٥٢ ٥٢
۞وَلَا تُجَٰدِلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنۡهُمۡۖ وَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا بِٱلَّذِيٓ أُنزِلَ إِلَيۡنَا وَأُنزِلَ إِلَيۡكُمۡ وَإِلَٰهُنَا وَإِلَٰهُكُمۡ وَٰحِدٞ وَنَحۡنُ لَهُۥ مُسۡلِمُونَ ٤٦
اہل كتاب سے مباحثہ كرنے میں بہترطریقہ اپنانے كى جو وصیت كى گئى ہے اس کی وجہ یہ ہے كہ اہل كتاب كا الله پر ایمان ہے، (قریش كى طرح )وه اسكے ساتھ شرك نہیں كرتے ہیں، اس لئے وه حجت ودلیل كو قبول كرنے كى اہلیت ركھتے ہیں نیز ان پر تكبر وعناد كا شبہ نہیں ہے، اور اس لئے بھى كہ انكے دین اور كتاب نے انہیں مباحثہ کا طریقہ سکھا ركھا ہے؛ اس لئے مناسب یہى ہے كہ ان سے دوران گفتگو صرف دلائل پیش كرنے پر اكتفا كیا جائے اور كسى طرح كى سختى سے مطلق پرہیز كیا جائے تاكہ وه متنفر نہ ہوں۔ (ابن عاشور: 21؍6)
سوال: اہل كتاب سے مباحثہ كرنے میں بہتر طریقہ اپنانے كى جو وصیت كى گئى ہے اسكى كیا وجہ ہے؟
وَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا بِٱلَّذِيٓ أُنزِلَ إِلَيۡنَا وَأُنزِلَ إِلَيۡكُمۡ وَإِلَٰهُنَا وَإِلَٰهُكُمۡ وَٰحِدٞ
ان كے ساتھ تمہار ا مناظره اس طرح نہ ہو كہ کسی بھى آسمانى کتاب یا كسى بھی رسول پرکسی قسم کا قدح وتنقید لازم آئےجیسا كہ مخالف سے مناظرے كے وقت ایك جاہل كرتا ہےكہ اپنے مد مقابل کی ہر چیز پر تنقید كرتا ہے چاہے وه حق ہو یا باطل، جبكہ یہ صریح ظلم اور علمى گفتگو اور آداب مناظره كےخلاف ہے، بلكہ واجب یہ ہے كہ مدمقابل كے باطل پر رد كیا جائے اور اسكے پاس جو حق ہے اسے قبول كیا جائے نہ كہ اسے رد كیا جائے كہ یہ مخالف كا ہے گرچہ وه كافر ہى كیوں نہ ہو۔ (السعدى: 632)
سوال: كافر سے مناظرہ كرنے میں عدل وانصاف اور حكمت كو اپنانا ضرورى ہے ، آیت كى روشنى میں اسكى وضاحت كیجئے.
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَۚ فَٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يُؤۡمِنُونَ بِهِۦۖ وَمِنۡ هَٰٓؤُلَآءِ مَن يُؤۡمِنُ بِهِۦۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلۡكَٰفِرُونَ ٤٧
مذكوره جملے كو الله تعالىٰ نے صیغہ مضارع كے ساتھ پیش كیا ہے یہ بتلانے كیلئے كہ مستقبل میں ایسا واقع ضرور ہوگا، یا یہ بتلانے كیلئے یہ لوگ اپنے ایمان كى تجدید ضرور كریں گے، یعنى ان میں جو لوگ مومن ہیں ان كا ایمان باقى رہے گا اور اس طرح دن بدن مومنوں كى تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ (ابن عاشور: 21؍9)
سوال: آیت كے اندر (يؤمنون) فعل كو صیغۂ مضارع كے ساتھ كیوں لایا گیا ہے؟
وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلۡكَٰفِرُونَ ٤٧
یعنى جن لوگوں كى روش ہى انكار حق اور ہٹ دھرمى ہے، اور اس چیز كو الله نے كافروں كے ساتھ منحصر كردیا كہ ان میں سے كسى كا مقصد حق كى اتباع نہیں ہوتا ، ورنہ جس كا مقصد صحیح ہوتا ہےوه ان آیتوں پر ایمان ضرور لاتاہےكہ یہ واضح دلیلوں پر مشتمل ہیں جنہیں ہر وه شخص جانتا ہے جس كے پاس كچھ بھى عقل ہو یا جو دل ودماغ كو حاضر كركے انہیں سنے ۔ (السعدى: 633)
سوال: كیا اس قرآن كا انكار وه شخص كرسكتا ہے جس كى نیت اچھى ہو؟
بَلۡ هُوَ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٞ فِي صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلظَّٰلِمُونَ ٤٩
حسن بصرى نے فرمایا: اس امت كو قرآن كے حفظ كا شرف حاصل ہے جبكہ پہلے كے لوگ اپنى كتابوں كو صرف دیكھ كر پڑھتے تھے، بند كردینے پر انہیں نہیں یاد رہتا سوائے انبیاء كے۔ (القرطبى: 16: 376)
سوال: حفظ قرآن كى بڑى فضیلت ہے ، اسكى وضاحت كیجئے.
أَوَ لَمۡ يَكۡفِهِمۡ أَنَّآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ يُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحۡمَةٗ وَذِكۡرَىٰ لِقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٥١
مفہوم یہ ہے كہ یہ كیونكر نشانى طلب كررہے ہیں جبكہ قرآن كریم نبوت كى سچائى پر سب سے بڑى نشانى اور واضح دلیل ہے، نشانیوں كے طلب كرنے میں اسى پر اكتفا كیوں نہیں كرتے! (ابن جزى: 2؍161)
سوال: نزول قرآن كو اس شخص پر بطور رد كے كیسے پیش كرسكتےہیں جس كا گمان یہ ہو كہ اسے نبى - - خود لیكر آئے ہیں ؟
قُلۡ كَفَىٰ بِٱللَّهِ بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡ شَهِيدٗاۖ
الله كے تعلق سے میں جو بھى تمہیں خبر دے رہا ہوں وه اسے اچھى طرح جانتا ہے كہ اسى نے مجھے بھیجا ہے ، اگر میں اس پر جھوٹ بولتا تو وه مجھ سے ضرور انتقام لیتا۔ (ابن كثیر: 3؍404)
سوال: محمد ﷺ كى نبوت كى صداقت پر الله كى گواہى كیسے ہوسكتى ہے؟