قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٣١ ٣١


٣٢ ٣٢

ﭿ

٣٣ ٣٣


٣٤ ٣٤

٣٥ ٣٥


٣٦ ٣٦

٣٧ ٣٧


٣٨ ٣٨
400
سورۃ العنكبوت آیات 0 - 31

وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَآ إِبۡرَٰهِيمَ بِٱلۡبُشۡرَىٰ قَالُوٓاْ إِنَّا مُهۡلِكُوٓاْ أَهۡلِ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِۖ إِنَّ أَهۡلَهَا كَانُواْ ظَٰلِمِينَ ٣١

ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی یہ مہربانی تھی کہ قوم ِلوط کی ہلاکت کے بارے میں خبر دینے سے پہلے انہیں خوشخبری دے دی کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ابراہیم علیہ السلام کی بردباری معلوم تھی۔ (ابن عاشور: ۲۰؍ ۲۴۲)
سوال:قوم ِلوط کی ہلاکت کے بارے میں خبر دینے سے پہلے خوشخبری دینے کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 34

إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَىٰٓ أَهۡلِ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِ رِجۡزٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ ٣٤

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:قوم ِلوط کے اندر فحش کاری کے علاوہ بھی دوسرے گناہ پائے جاتے تھے چنانچہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کرتے،ایک دوسرے کو گالیا ں دیتے،مرد اور عورتیں ایک دوسرے کا لباس پہن کر مخالف جنس کی مشابہت اختیار کرتے،اس بستی سے ہر گزرنے والے سے ٹیکس وصول کرتے اور ان کی سب سے بری بات یہ تھی کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک بھی کرتے تھے۔ اور یہی قوم ہے جس کے اندر سب سے پہلے لواطت اور سحاق جیسی گندی عادتوں نے جنم لیا۔ (القرطبی: ۱۳؍۳۴۲)
سوال:آیت کریمہ کی روشنی میں ملکوں اور بستیوں کی ہلاکت وبربادی کے اسباب پر روشنی ڈالئے.

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 35

وَلَقَد تَّرَكۡنَا مِنۡهَآ ءَايَةَۢ بَيِّنَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٣٥

یعنی ہم نے ان کے ساتھ جو بھی سلوک کیا اس میں ہم نے ایک نشانی چھوڑدی جس کے اندر ایسی قوم کے لئے واضح عبرت او ر نصیحت ہے جواللہ تعالیٰ کی دلیلوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور اس کی نصیحتوں میں غوروفکر کرتے ہیں۔ (الطبری: ۲۰؍۳۳)
سوال:پچھلی ہلاک شدہ قوموں کے آثار اور ان کی نشانیوں کو باقی رکھنے میں کیا فائدے ہیں؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 36

وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ ٣٦

یعنی کفر نہ کروکیونکہ یہی ہر فساد کی جڑ ہے اور زمین میں تباہی مچانا سب سے بڑا فساد ہے۔ (القرطبی: ۱۶؍۳۶۱)
سوال:سب سے بڑافساد کون ساہے جس سے شعیب علیہ السلام نے منع کیا تھا؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 38

وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّبِيلِ وَكَانُواْ مُسۡتَبۡصِرِينَ ٣٨

یعنی وسوسہ ڈال کر اور گمراہ کرکے شیطان نے ان کے برے اور کفریہ اعمال کو مزین کردیا۔
یعنی وہ عقل والے ہیں جو غوروفکر اور دلیلوں کی روشنی میں حق وباطل کے درمیان تمیز کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے غفلت سے کام لیا اور غور وفکر کرنے کی کوئی ضرورت نہ سمجھی۔(الالوسی: ۱۰؍۳۶۲)
سوال:عقلمندوں کو گمراہ کرنے کے لئے شیطان کن اہم ہتھکنڈوں کا استعمال کرتاہے؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 38

وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّبِيلِ وَكَانُواْ مُسۡتَبۡصِرِينَ ٣٨

(وكانوا مستبصرين) یعنی اپنی عقل اور بصیرت کی بنیاد پر اپنی پسند سے وہ کفر میں پڑگئے اور یہ معنی بھی بتایا گیا ہے کہ وہ ایمان کی حقانیت سے واقف تھے لیکن ہٹ دھرمی کی وجہ سے وہ کفر پر ڈٹے رہے۔(ابن جزی: ۲؍۱۵۹)
سوال:کیا ہر کفر کی وجہ جہالت ہی ہوتی ہے؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 38

وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّبِيلِ وَكَانُواْ مُسۡتَبۡصِرِينَ ٣٨

(كانوا مستبصرين) یعنی دلیلوں کی روشنی میں حق وباطل کوسمجھتے تھے۔امام فَرّاء رحمہ اللہ نے کہا: وہ صاحب ِبصیرت اور عقلمند تھے لیکن ان کی عقلمندی او ر بصیرت نے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔(القرطبی: ۱۶؍۳۶۲)
سوال:اگر بندہ اپنے رب کی نافرمانی پر اڑا رہے تو کیا وہ اپنی عقل سے فائدہ اٹھاسکتاہے؟