قرآن
ﮩ
ﱌ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
٢٤ ٢٤ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ٢٥ ٢٥ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ٢٦ ٢٦
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ٢٧ ٢٧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ٢٨ ٢٨ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ٢٩ ٢٩ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ٣٠ ٣٠
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱقۡتُلُوهُ أَوۡ حَرِّقُوهُ
جب ان پر تمام دلیلیں اور حجتیں قائم ہوگئیں تو انہوں نے (آخری حربہ کے طور پر)اپنے مقام ومرتبہ اور جاہ وسلطنت کو استعمال کیا۔ (ابن کثیر: ۳؍ ۳۹۵)
سوال:ظالموں کا طاقت کے استعمال کا سہارا لینا کس بات پر دلالت کرتا ہے؟
فَأَنجَىٰهُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلنَّارِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٢٤
آیت میں آپ کو ایک نشانی بتاکر کئی نشانیاں بتائی گئیں کیونکہ وہ نشانی ان سارے لوگوں کے لئے تھی جنہوں نے اس کا مشاہدہ کیا اور اس کے لئے وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے رسول کی عزت وکرامت پر دلالت کرتی ہے۔اللہ کے وعدہ کی تصدیق اور اس کے دشمن کو ذلیل کرنے پر دلیل ہے اور یہ کہ چھوٹی اور بڑی تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دائرے سے ہٹ کر نہیں ہیں۔(ابن عاشور: ۲۰؍۲۳۵)
سوال:اللہ تعالیٰ کا ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے نجات دلانے کو ایک نہیں کئی نشانیاں بتایا گیا۔اس کی وضاحت کیجئے.
وَقَالَ إِنَّمَا ٱتَّخَذۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡثَٰنٗا مَّوَدَّةَ بَيۡنِكُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ ثُمَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُم بِبَعۡضٖ وَيَلۡعَنُ بَعۡضُكُم بَعۡضٗا
اس میں وہ سب داخل ہیں جوگناہ کا ارتکاب کرنے والوں کی موافقت کرتے ہیں اور گھٹیا لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں اور اسے حسن ِمعاشرت اور تہذیب واخلاق میں شمار کرتے ہیں۔یا وہ ایسی حرکتیں اس لئے کرتے ہیں تاکہ انہیں برا اور سخت طبیعت والا نہ کہا جائے۔اللہ کی قسم! اِس وقت یہ بلا عام ہوچکی ہے کہ لوگ اپنے دوستوں اور ساتھیوں کی رضا اور موافقت کی خاطر مالک ِمختار کی رضا او ر خوشنودی کو قربان کردیتے ہیں۔ (البقاعی: ۱۴؍۴۲۴)
سوال:دوستوں اور ساتھیوں کو خوش کرنے کی ایک حد ہوتی ہے۔آیت کی روشنی میں ا س کی وضاحت کیجئے.
وَقَالَ إِنَّمَا ٱتَّخَذۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡثَٰنٗا مَّوَدَّةَ بَيۡنِكُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ ثُمَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُم بِبَعۡضٖ وَيَلۡعَنُ بَعۡضُكُم بَعۡضٗا
امام قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ:دنیا کی تمام دوستیاں قیامت کے دن دشمنی میں بدل جائیں گی سوائے متقیوں کی دوستی کے۔ (الطبری: ۲۰؍۲۵)
سوال:اچھی اور بری صحبت کا فائدہ واضح کیجئے.
ثُمَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُم بِبَعۡضٖ وَيَلۡعَنُ بَعۡضُكُم بَعۡضٗا
تمام بت اپنی عبادت کرنے والوں سے اور سارے پیر اپنے پیروکاروں سے براء ت کا اظہار کریں گے اور تمام پیروکار اپنے پیروں پر لعنت بھیجیں گے۔ (البغوی: ۳؍ ۴۶۷)
سوال:اگر دنیا میں کسی کی پیروی اللہ کی معصیت پر ہوگی تو قیامت کے دن اس کا کیا نتیجہ ہوگا؟
۞فَـَٔامَنَ لَهُۥ لُوطٞۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّيٓۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٢٦
اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے ان کو(ابراہیم علیہ السلام کی قوم کو) ہلاک کردیا تھا بلکہ صرف یہ فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے وہاں سے ہجرت کرلی اور اپنی قوم کو چھوڑ گئے۔چنانچہ اگر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعہ ان کو تہس نہس کیا ہوتا تو اس کا ذکر ضرور فرماتا جیسے دیگر جھٹلانے والی قوموں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا ہے۔لیکن شاید اس قصہ کا راز یہ ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام مخلوق میں سب سے زیادہ رحیم وشفیق،سب سے زیادہ افضل،سب سے زیادہ بردبار اور سب سے زیادہ جلیل القدر لوگوں میں سے تھے۔آپ نے کبھی اپنی قوم کے لوگوں کے لئے بددعا نہیں کی جیسے دیگر انبیاء کرام علیہم السلام نے بددعا کی۔اس موقف پر یہ واقعہ بھی دلالت کرتا ہے کہ جب فرشتے قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لئے آئے اور ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کی تو آپ نے قوم ِلوط کی مدافعت میں ان فرشتوں سے تکرار کی۔ حالانکہ وہ آپ کی قوم نہ تھی اور اصل صورت حال تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ (السعدی: ۶۲۹-۶۳۰)
سوال:اللہ تعالیٰ کے اولیاء کی صفتوں میں سے یہ بھی ہے کہ لوگوں پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہوتے ہیں۔اس نکتہ کو ابراہیم علیہ السلام کے قصہ کی روشنی میں واضح کیجئے.
وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ إِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٢٨
بہت سی برائیوں کے لوگ عادی نہیں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ ان کا ارتکاب عام طور سے نہیں کرتے بلکہ ان سے غافل ہوتے ہیں یہاں تک کہ جب کوئی اس کا ارتکاب کرلیتا ہے اور اس کا مشاہدہ ہوجاتا ہے تب لوگوں کا ذہن اس جانب جاتا ہے اور پھر کچھ لوگوں کو اس برائی کے کرنے کی خواہش ہوجاتی ہے۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۲۴۱)
سوال:برائیوں کو رواج دینے کی سنگینی واضح کیجئے.