قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮩ

ﱌ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ
ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ٧ ٧
ﭞ ﭟ
ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ٨ ٨

ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
٩ ٩
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
١٠ ١٠
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
١١ ١١
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ١٢ ١٢
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
١٣ ١٣
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ١٤ ١٤
397
سورۃ العنكبوت آیات 0 - 7

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَئِّاتِهِمۡ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَحۡسَنَ ٱلَّذِي كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٧

یعنی ان کے اچھے اعمال کابہترین بدلہ دیں گے۔اس سے مراد اطاعت وفرمانبرداری ہے اور بقول بعض: ہم ان کے عمل سے کہیں زیادہ اور اچھا بدلہ دیں گے۔ (البغوی: ۲؍۴۶۳)
سوال:اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومنوں کو ان کے عمل سے بہتر بدلہ کیسے دیا جائیگا؟

سورۃ العنكبوت آیات 8 - 9

وَإِن جَٰهَدَاكَ لِتُشۡرِكَ بِي مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَآۚ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٨ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَنُدۡخِلَنَّهُمۡ فِي ٱلصَّٰلِحِينَ ٩

ادب کے اس مقام پر ایک لطیف مناسبت یہ ہے کہ شرک کا حکم دینے پر جب مومن کو والدین کی نافرمانی کے لئے کہا گیا جو کہ اس کے اور والدین کے بیچ اختلاف اور آپسی نفر ت کا سبب بن سکتا ہے تو اختلاف کی اس وحشت کے بدلے ایسی الفت ومحبت عطاکردی جس نے اسے نیک بندوں میں شامل کردیا جن سے وہ مانوس ہوگئے۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۲۱۵)
سوال:جو اللہ کی فرمانبرداری کو مخلوق کی فرمانبرداری پر مقدم کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کی عزت واکرام میں اضافہ کرتاہے۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 10

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ فَإِذَآ أُوذِيَ فِي ٱللَّهِ جَعَلَ فِتۡنَةَ ٱلنَّاسِ كَعَذَابِ ٱللَّهِۖ

یعنی لوگوں کی تکلیف اور ایذا کو آخرت میں اللہ کے عذاب کی طرح بناڈالا۔مطلب یہ کہ لوگوں کی تکلیف سے گھبراگیا،جزع فزع کرنے لگا اور صبر نہ کرسکا چنانچہ لوگوں کی اطاعت کربیٹھا،اسی طرح جیسے وہ شخص جو اللہ کے عذاب سے ڈر کر اس کی اطاعت کرتاہے۔(البغوی: ۳؍ ۴۶۴)
سوال:لوگوں کے فتنہ کو ایک منافق کیسے عذاب ِالٰہی کی طرح سمجھ لیتا ہے؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 13

وَلَيَحۡمِلُنَّ أَثۡقَالَهُمۡ وَأَثۡقَالٗا مَّعَ أَثۡقَالِهِمۡۖ

اس آیت میں کفر وگمراہی کی طرف دعوت دینے والوں کے بارے میں خبر دی گئی ہے کہ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جن کو انہوں نے گمراہ کیا تھا جبکہ ان لوگوں کے بوجھ میں کوئی کمی نہیں آئیگی۔ (ابن کثیر: ۶؍۲۲۶)
سوال:کیا فساد کی طرف بلانے والے کا گناہ بالکل اسی کی مانند ہوگا جس نے اس کی بات مانی تھی۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 13

وَلَيَحۡمِلُنَّ أَثۡقَالَهُمۡ وَأَثۡقَالٗا مَّعَ أَثۡقَالِهِمۡۖ

وہ گناہ جس کا ارتکاب کوئی تابع شخص کرتاہےاس میں تابع اور متبوع دونوں کا حصہ ہوتا ہے۔تابع کا حصہ اس لئے کہ اس نے اس گناہ کا ارتکاب کیا اور متبوع کا حصہ اس لئے کہ وہ اس گناہ کا سبب بنا اور اس نے اس گناہ کی طرف دعوت دی۔بالکل اسی طرح جب کوئی تابع شخص نیکی کرتا ہے تو اسے اس کا ثواب ملتا ہے اور وہ شخص بھی اس ثواب سے بہرہ ور ہوتاہے جس نے اسے نیکی کی دعوت دی اور نیکی کا سبب بنا۔ (السعدی؍ ۶۲۷)
سوال:آیت میں بڑی باریکی سے دعوت دین کی طرف ابھارا گیا ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 14

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ فَلَبِثَ فِيهِمۡ أَلۡفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمۡسِينَ عَامٗا فَأَخَذَهُمُ ٱلطُّوفَانُ وَهُمۡ ظَٰلِمُونَ ١٤

سال کے لئے لفظ “عَام” کی بجائے “سَنَة” کو اختیار کرنے میں باریکی یہ ہے کہ لفظ“سَنَة” سختی اور قحط پر دلالت کرتا ہے برخلاف لفظ“عَام”کے۔ اور چونکہ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کی طرف سے دعوت کے زمانہ میں بڑی تکلیفیں جھیلی تھیں اس لئے لفظ “سَنَة” کا استعمال زیادہ مناسب ہوا۔ (الالوسی: ۱۰؍۳۴۸)
سوال:اللہ کے فرمان(اَلْفَ سَنَةٍ)میں لفظ “عَام”کے “سَنَة” سے تعبیر کرنے کے کیا فائدے ہیں؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 14

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ فَلَبِثَ فِيهِمۡ أَلۡفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمۡسِينَ عَامٗا فَأَخَذَهُمُ ٱلطُّوفَانُ وَهُمۡ ظَٰلِمُونَ ١٤

اے محمد ﷺ! آپ اپنی قوم کے ان لوگوں پر بالکل افسوس نہ کریں جو کفر پر اڑے ہوئے ہیں اور نہ ان پر غم کریں؛کیونکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے،سارا معاملہ اسی کے ہاتھ میں ہے اور ساری چیزیں اسی کی طرف لوٹ کر جانے والی ہیں۔ (ابن کثیر: ۳؍۳۹۳)
سوال:کیا ہدایت عقل کی بنیاد پر ملتی ہے یا اس کی کوئی اور وجہ ہے؟