قرآن
ﮨ
ﱌ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ٨٥ ٨٥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ٨٦ ٨٦ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ٨٧ ٨٧ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ٨٨ ٨٨
ﮩ
ﮫ ﮬ ٢ ٢ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ٣ ٣ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ٤ ٤ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ٥ ٥ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ٦ ٦
وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ بَعۡدَ إِذۡ أُنزِلَتۡ إِلَيۡكَۖ وَٱدۡعُ إِلَىٰ رَبِّكَۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٨٧
یعنی تبلیغ ِدین میں آپ کو ان کی باتیں،ان کا جھوٹ اور ان کی ایذا رسانی بالکل نہ روکیں،آپ ان امور کی طرف بالکل دھیان نہ دے کر اپنے اس اہم کام اور ذمہ داری میں لگے رہیں۔ (القرطبی: ۱۴؍۳۳۰)
سوال:ہمت پست کرنے والی رکاوٹوں کے باوجود دعوت کے میدان میں کام کرتے رہنے پر یہ آیت کیسے دلالت کرتی ہے؟
أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتۡرَكُوٓاْ أَن يَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا وَهُمۡ لَا يُفۡتَنُونَ ٢
کیا لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ انہیں بغیر امتحان اور آزمائش کے چھوڑدیا جائیگا؟ (أن يقولوا) یعنی ان کے یہ کہنے پر کہ وہ ایمان لائے۔ (آمنا وهم لا يفتنون) یعنی ایمان لانے کے بعد کیا جان ومال میں ان کی آزمائش نہیں ہوگی؟ بالکل ہوگی تاکہ مخلص،منافق سے اورسچا،جھوٹے سے الگ ہوسکے۔ (البغوی: ۳؍ ۴۶۱)
سوال:اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کیوں آزماتا ہے؟
أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتۡرَكُوٓاْ أَن يَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا وَهُمۡ لَا يُفۡتَنُونَ ٢
یہ آیت کریمہ مکہ میں موجود کمزور مومنوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہیں اسلام لانے کی وجہ سے کفار قریش تکلیف دیتے تھے جس کی وجہ سے ان کے دل تنگ ہوگئے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعہ انہیں تسلی دی اورنصیحت کرکے یہ خبر دی ہے کہ دراصل یہ آزمائش ہے تاکہ ایمان پر ثابت قدم رہیں اور تکلیفوں پر صبر کرنے میں مطمئن ہوجائیں۔پس اللہ نے انہیں باخبر کردیا کہ بندوں کے تعلق سے اس کی یہی سنت رہی ہے کہ کافروں کو مومنوں پر مسلط کرتا رہتا ہے تاکہ وہ مخلص بن جائیں اور سچا ایمان والا جھوٹے سے الگ ہوجائے۔یہاں لفظ عام ہے چنانچہ اس کا حکم بھی ہر اس شخص کے بارے میں عام ہوگا جو جان ومال کے نقصان اور مصائب کے فتنوں سے دوچار ہوا ہو۔ (ابن جزی: ۲؍ ۱۵۴)
سوال:آیت کی روشنی میں ابتلاء وآزمائش کے فوائد بتائیے.
وَلَقَدۡ فَتَنَّا ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ فَلَيَعۡلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱلۡكَٰذِبِينَ ٣
پہلے کے لوگوں سے مراد انبیاء سابقین کے وہ مومن پیروکار ہیں جو مختلف فتنوں اور آزمائشوں سے دوچار ہوئے تو صبر سے کام لیا اور مضبوطی سے اپنے دین پر جمے رہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے بھی ظاہر ہوتا ہے: ﴿وَكَأَيِّن مِّن نَّبِيّٖ قَٰتَلَ مَعَهُۥ رِبِّيُّونَ كَثِيرٞ فَمَا وَهَنُواْ لِمَآ أَصَابَهُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا ٱسۡتَكَانُواْ﴾ (سورۂ آل عمران: ۱۴۶)اور بہت سے انبیاء کے ساتھ اللہ والوں کی ایک بڑی تعداد نے جہاد کیا تو اللہ کی راہ میں ان کو جو تکلیف پہنچی اس کی وجہ سے نہ ہار مان لی اور نہ کمزور پڑے اور نہ دشمن سے دبے۔ (الالوسی: ۱۰؍ ۳۴۰)
سوال:مومنوں کی آزمائش اللہ کی سنت میں سے ہے۔ایسے حالات میں ایک مومن پر کیا واجب ہوتاہے؟
وَلَقَدۡ فَتَنَّا ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ فَلَيَعۡلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱلۡكَٰذِبِينَ ٣
یعنی آزمائش سے پہلے اللہ تعالیٰ ہی انہیں بہتر جانتاہے۔آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سچوں کو جھوٹوں سے ضرور ظاہر کردیگا یہاں تک کہ اس کا ازلی علم سامنے آجائے۔ (البغوی: ۳؍ ۴۶۲)
سوال:یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے تو پھر یہاں (فليعلمن الله) اللہ جان لے گا،کی کیا توجیہ ہوگی؟
أَمۡ حَسِبَ ٱلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَسۡبِقُونَاۚ
جن کا ارادہ برے اعمال اور جرائم کا ارتکاب ہے،کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کے اعمال کو یونہی چھوڑدیا جائیگا، اور اللہ تعالیٰ ان سے غافل رہے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نکل بھاگیں گے اسی لئے وہ گناہوں کا ارتکاب کررہے ہیں اور ان کے لئے گناہوں کے کام کرنا آسان ہوگیا ہے۔ (السعدی؍ ۶۲۶)
سوال:بندے کے لئے گناہوں اور جرائم کے ارتکاب کو کون سی چیز آسان بناتی ہے؟
مَن كَانَ يَرۡجُواْ لِقَآءَ ٱللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ لَأٓتٖۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ٥
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ کے ثواب کی امید ہو اسے چاہئے کہ وہ دنیا کے اندر اللہ کی فرمانبرداری میں مشقت اٹھاکر صبر کرے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ سے ملاقات کرے جو اسے اس کا بدلہ عنایت کریگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات قریب ہی آنے والی ہے۔ (ابن جزی: ۲؍۱۵۵)
سوال:اللہ تعالیٰ کے ثواب کو حاصل کرنے کے لئے کیا شرط ہے؟