قرآن
ﮎ
ﰺ
ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ٢٣١ ٢٣١ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ٢٣٢ ٢٣٢ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ
ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ
ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ٢٣٣ ٢٣٣
وَلَا تَتَّخِذُوٓاْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ هُزُوٗاۚ
اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق نہ بناؤ۔ وہ یوں کہ تم ان سے منہ موڑلو اور ان کی رعایت و حفاظت کرنے سے لاپرواہی برتوبلکہ انہیں تھام لینےان کی تعلیمات پر عمل کرنے ان کی حفاظت ورعایت کرنے کی پوری کوشش کرو۔ (الألوسی:۲؍۱۴۳)
سوال: شادی بیاہ کے احکام سے کھلواڑ کا نتیجہ احکامِ طلاق سے کھلواڑ اور احکامِ شریعت کا مذاق اڑانے کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.
وَلَا تَتَّخِذُوٓاْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ هُزُوٗاۚ
اللہ کے دین کا مذاق اڑاناکبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔اوردین کا مذاق اڑانے کا مطلب اس پر ہنسنا اورٹھٹھاکرناہے یعنی اقوال وافعال کو بکواس بیہودگی،اور ہنسی کھیل کا رنگ دے دیا جائے ۔ (ابن تیمیہ:۱؍۵۴۳)
سوال: اللہ کے دین کے ساتھ مذاق اڑانے کا کیا حکم ہے؟
وَإِذَا طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحۡنَ أَزۡوَٰجَهُنَّ إِذَا تَرَٰضَوۡاْ بَيۡنَهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِۗ
یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنی بیوی کو ایک یا دوطلاق دے چکا ہو اور عدت یعنی رجوع کی مدت ختم ہوجائے۔ پھر اب وہ چاہتاہے کہ اُسی عورت سے شادی کرلے اور دوبارہ زوجیت میں لے آئے ۔عورت بھی یہی چاہتی ہے لیکن اس کے اولیاء اس سے روک رہے ہوں۔تو اللہ نے انہیں روکنے سے منع کردیا۔
اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت بذاتِ خود اپنی شادی کرنے کااختیار نہیں رکھتی ،اور یہ کہ نکاح میں ولی کا ہونا ضروری ہے۔ (ابن کثیر:۱؍۲۶۷)
سوال: نکاح میں عورت کے لئے ولی کا ہوناشرط ہے ۔اس بات پر آیت سے کس طرح دلیل پکڑی جاتی ہے؟
وَإِذَا طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحۡنَ أَزۡوَٰجَهُنَّ إِذَا تَرَٰضَوۡاْ بَيۡنَهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِۗ ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ مِنكُمۡ يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۗ ذَٰلِكُمۡ أَزۡكَىٰ لَكُمۡ وَأَطۡهَرُۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٢٣٢
(ذَٰلِكُمۡ أَزۡكَىٰ) میں (ذَٰلِكُمۡ) سے اشارہ ہے ‘‘نکاح سے نہ روکنے’’ کی طرف ۔ اور(اَزْكٰى) وَ (أَطۡهَرُ) کا مطلب ہے کہ دونوں کو آپس میں نکاح سے نہ روکنا نفس کی پاکیزگی و صفائی اور عزت و آبرو کی حفاظت و طہارت اور دین کی پاکیزگی وسلامتی کا بہترین ذریعہ ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان جو تعلقات ہوتے ہیں، ولی اکثر وبیشتر ان سے لاعلم ہوتے ہیں ۔چنانچہ نکاح سے روکنا، فساد وبگاڑ کا دروازہ کھول سکتا ہے اورناجائزطریقہ سے میل جول کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے بارے میں جو کچھ جانتا ہے وہ انسان نہیں جانتا۔ (ابن عطیہ:۱؍۳۱۰)
سوال: میاں بیوی کے آپسی معاملات میں کسی تیسرے کی دخل اندازی کب نقصان دہ ہوجاتی ہے؟
ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ مِنكُمۡ يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۗ
یہاں آگاہ کیا جارہا ہے کہ جس حکم کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اسے ہر کوئی نہیں سمجھ سکتابلکہ اسے سمجھنے کے لئے اللہ کی جانب سے تائید و توفیق کا ہونا ضروری ہے ۔
(يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ مِنكُمۡ يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ) اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو خصوصی طور پر ذکرفرمایا کیونکہ اللہ کی تعظیم میں اور اس کی سزاکے ڈر سےیہی لوگ حکم الہٰی کی اطاعت وفرماں برداری میں جلدی کرتے ہیں۔ (الألوسی:۲؍۱۰۵)
سوال: مذکورہ نصیحت کو خاص طور سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کے ساتھ کیوں ذکر کیا؟
وَٱلۡوَٰلِدَٰتُ يُرۡضِعۡنَ أَوۡلَٰدَهُنَّ حَوۡلَيۡنِ كَامِلَيۡنِۖ لِمَنۡ أَرَادَ أَن يُتِمَّ ٱلرَّضَاعَةَۚ
آیت اس بات پر دلیل ہے کہ (پورے دوسال دودھ پلانے)سے رضاعت پوری ہوجاتی ہے ۔اب اس مدت کے بعد ماں کا دودھ دیگر غذاؤں کی طرح ایک غذا ہوجاتا ہے ۔ (ابن تیمیہ:۱؍۵۵۳)
سوال: رضاعت(دودھ پلانے کی مدت)پوری کرنے کی کیا حد ہے؟
لَا تُضَآرَّ وَٰلِدَةُۢ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوۡلُودٞ لَّهُۥ بِوَلَدِهِۦۚ وَعَلَى ٱلۡوَارِثِ مِثۡلُ ذَٰلِكَۗ
بچے کے باپ کو نقصان اور تکلیف پہنچانے کے لئے ماں، بچے کو دودھ پلانے سے انکار نہ کرے یا دودھ پلانے کی معقول اجرت سے زیادہ کا مطالبہ نہ کرے۔ اسی طرح باپ کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ ماں کو دودھ پلانے سے روک دے،اگر وہ اسےدودھ پلانا چاہتی ہو۔ (القرطبی:۴؍۱۱۶)
سوال: رضاعت کے معاملہ میں ماں باپ کی جانب سےایک دوسرے کو کس طرح تکلیف پہنچائی جاتی ہے؟