قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮥ

ﱋ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
٢١ ٢١
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ٢٢ ٢٢
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ٢٣ ٢٣
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ٢٤ ٢٤
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ٢٥ ٢٥
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ٢٦ ٢٦
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ٢٧ ٢٧
ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ٢٨ ٢٨
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ٢٩ ٢٩
ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ٣٠ ٣٠
ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ٣١ ٣١
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ٣٢ ٣٢
362
سورۃ الفرقان آیات 0 - 23

وَقَدِمۡنَآ إِلَىٰ مَا عَمِلُواْ مِنۡ عَمَلٖ فَجَعَلۡنَٰهُ هَبَآءٗ مَّنثُورًا ٢٣

عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ وہ اعمال ہونگے جو غیر اللہ کی خاطر انجام دئیے گئے ہونگے۔
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ وہ اعمال ہونگے جو قابل قبول نہیں ہونگے۔
سوال:وہ عمل جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود نہ ہو‘اس کی خطرناکی بیان کیجئے.

سورۃ الفرقان آیات 0 - 26

ٱلۡمُلۡكُ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡحَقُّ لِلرَّحۡمَٰنِۚ

اور جس چیز سے دل کو راحت،نفس کو اطمینان اور انشراح ِصدر حاصل ہوتا ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اقتدار کی اضافت اپنے اسم مبارک (للرحمن) کی طرف کی ہے جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ فگن ہے اور ہر ذی روح کے لئے عام ہے۔
یہ کمزور آدمی اس لئے پیدا کیا گیا ہے اور اسے عزت وتکریم اس لئے عطاکی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمت کا اتمام کرے اور اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔لوگ تذلّل،خضوع اور انکساری کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوکر انتظار کریں گے کہ وہ ان کے حق میں کیا حکم جاری کرتا ہے اور انہیں کن چیزوں سے دوچار کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خود بندوں کی اپنی ذات پر رحم کرنےاور والدین کے اپنے بچوں پر رحم کرنے سے زیادہ رحم کرتا ہے، لہٰذاآپ کا کیا خیال ہے وہ اپنے بندوں کے ساتھ کیسا سلوک کریگا؟(سعدی: ۵۸۲)
سوال:اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اقتدار کی اضافت اپنے نام (للرحمن) کی طرف کی ہے۔اس سے کیا معلوم ہوتا ہے؟

سورۃ الفرقان آیات 0 - 27

وَيَوۡمَ يَعَضُّ ٱلظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيۡهِ يَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي ٱتَّخَذۡتُ مَعَ ٱلرَّسُولِ سَبِيلٗا ٢٧

جو اللہ کو ناراض کرکے لوگوں کو خوش کرےوہ جان لے کہ لوگ اسے اللہ کے عذاب سے ذرہ برابر بھی نہیں بچا پائیں گے۔ایسا آدمی اس ظالم کی طرح ہے جو اپنا ہاتھ کاٹتے ہوئے (شرمندہ ہوکر کہے گا:(يا ليتني اتخذت مع الرسول سبيلًا * يا ويلتى ليتني لم اتخذ فلانًا خليلًا)کاش! میں نے رسول کا راستہ اپنایا ہوتا، ہائے میری تباہی! کاش! میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔(ابن تیمیہ: ۵؍۱۲)
سوال:جو اللہ کو ناراض کرکے لوگوں کو خوش کرے وہ جان لے کہ لوگ اسے اللہ کے عذاب سے ذرہ برابر بھی نہیں بچا پائیں گے۔اس کی دلیل پیش کیجئے.

سورۃ الفرقان آیات 28 - 29

يَٰوَيۡلَتَىٰ لَيۡتَنِي لَمۡ أَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِيلٗا ٢٨ لَّقَدۡ أَضَلَّنِي عَنِ ٱلذِّكۡرِ بَعۡدَ إِذۡ جَآءَنِيۗ وَكَانَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لِلۡإِنسَٰنِ خَذُولٗا ٢٩

آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خُلّت(خالص دوستی)کی شان یہ ہے کہ خلیل(محبوب دوست)پر پورا پورا بھروسہ کیا جائے اور اس کے مشورے کو نصیحت پر محمول کیا جائے۔لہذا کسی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنی دوستی کا استعمال کرے مگر ایسی جگہ جہاں شک وشبہ اور غلط فہمیوں سے بچنے کا یقین ہو۔(ابن عاشور: ۱۹؍۱۴)
سوال:آیت کی روشنی میں دوستوں کے درمیان نصیحت کی اہمیت واضح کریں.

سورۃ الفرقان آیات 0 - 29

لَّقَدۡ أَضَلَّنِي عَنِ ٱلذِّكۡرِ بَعۡدَ إِذۡ جَآءَنِيۗ وَكَانَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لِلۡإِنسَٰنِ خَذُولٗا ٢٩

یعنی: اللہ کی قسم! اس نے قرآن کے راستہ سے مجھے بھٹکادیا حقیقت میں جس کے علاوہ کوئی ذکر نہیں ہے اور اس سے مجھے پھیردیا۔ (البقاعی: ۱۳؍۳۷۵)
سوال:برے دوستوں کی کیا نشانیاں ہیں؟

سورۃ الفرقان آیات 0 - 31

وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوّٗا مِّنَ ٱلۡمُجۡرِمِينَۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيٗا وَنَصِيرٗا ٣١

اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ سے فرمارہا ہے: اے محمد! جس طرح ہم نے آپ کی قوم مشرکین میں سے آپ کے دشمن بنائے ہیں اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے تمام نبیوں کی قوم کے مشرکین میں سے ان کے دشمن بنائے تھے۔ بنابریں آپ کو نبیوں میں اس تعلق سے کوئی خصوصیت حاصل نہیں ہے۔لہذا ان کی تکلیفوں پرویسا ہی صبر کیجئے جیسا آپ سے پہلے اولواالعزم رسولوں نے صبر کیا۔ (طبری: ۱۹؍۲۶۵)
سوال: آزمائش سچے داعی کی نشانیوں میں سے ہے۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الفرقان آیات 0 - 32

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ ٱلۡقُرۡءَانُ جُمۡلَةٗ وَٰحِدَةٗۚ كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِۦ فُؤَادَكَۖ وَرَتَّلۡنَٰهُ تَرۡتِيلٗا ٣٢

(كذلك لنثبت به فؤادك) یہ کافروں کے اعتراض کا جواب ہے جس کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو وقفے وقفے سے اس لئے اتارا ہے تاکہ ہم محمدﷺ کا دل مضبوط رکھ سکیں۔ نیز اس کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ قرآن الگ الگ اسباب کی بناپر نازل ہوا ہے جس کا تقاضہ یہ ہے کہ جب کوئی واقعہ پیش آیا اسی کے مطابق قرآن نازل ہوا۔اور ایک فائدہ یہ ہے کہ اس میں ناسخ ومنسوخ بھی ہے اور یکبارگی قرآن کے نزول میں اس کا بیان ممکن نہیں ہے۔(ورتلناه ترتيلا) یعنی ہم نے اسے بکھیرکروقتاً فوقتاً اتاراہے چنانچہ یہ بیس سالوں کی طویل مدت میں نازل ہوا ہے۔ (ابن جزی: ۲؍ ۱۰۷)
سوال:قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہونے کے بعض فوائد کا ذکر کریں.