قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮥ

ﱊ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ١٢ ١٢
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
١٣ ١٣
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ١٤ ١٤
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ١٥ ١٥
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ١٦ ١٦
ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ١٧ ١٧
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ١٨ ١٨

ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ١٩ ١٩

ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ٢٠ ٢٠
361
سورۃ الفرقان آیات 0 - 12

إِذَا رَأَتۡهُم مِّن مَّكَانِۢ بَعِيدٖ سَمِعُواْ لَهَا تَغَيُّظٗا وَزَفِيرٗا ١٢

جہنم اپنے خالق کے غضب کی وجہ سے ان پر غضبناک ہوجائیگی اور ان کے کفر اور شر کی زیادتی کی وجہ سے کہ اس کے شعلے میں تیزی آجائے گی۔ (السعدی؍۵۷۹)
سوال:جہنم جہنمیوں پر اس قدر غضبناک کیوں ہوگی؟

سورۃ الفرقان آیات 0 - 13

وَإِذَآ أُلۡقُواْ مِنۡهَا مَكَانٗا ضَيِّقٗا مُّقَرَّنِينَ

انہیں ایسی جگہ رکھاجائیگا جو بہت ہی تنگ ہوگی،وہاں بہت بھیڑہوگی او ر انہیں زنجیروں او ر بیڑیوں میں جکڑکر رکھاجائیگا۔ (السعدی؍۵۷۹)
سوال:آیت میں کافروں کو عذاب دینے کی مختلف شکلیں بتائی گئی ہیں۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الفرقان آیات 0 - 17

وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَقُولُ ءَأَنتُمۡ أَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِي هَٰٓؤُلَآءِ أَمۡ هُمۡ ضَلُّواْ ٱلسَّبِيلَ ١٧

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ وہ بت جن کی پوجا کی جاتی تھی وہ میدان محشر میں جمع ہوکر کیسے باتیں کریں گے حالانکہ وہ جمادات میں سے ہیں؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جس طرح ہاتھوں اور پیروں سے بلوائیگا اسی طرح انہیں بھی بولنے کی قوت دے گا۔ (القرطبی: ۱۵؍۳۷۸)
سوال:بت قیامت کے دن کیسے بات کریں گے حالانکہ وہ جمادات ہیں؟

سورۃ الفرقان آیات 0 - 17

وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَقُولُ ءَأَنتُمۡ أَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِي هَٰٓؤُلَآءِ أَمۡ هُمۡ ضَلُّواْ ٱلسَّبِيلَ ١٧

مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرمائیگا جن کی عبادت کی جاتی تھی: (أأنتم أضللتم عبادي هؤلاء أم هم ضلوا السبيل) یعنی: کیا میرے ان بندوں کو تم نے گمراہ کررکھا تھا یا یہ خود اپنے اختیار اور مرضی سے گمراہ ہوئے تھے، تم نے انہیں گمراہ نہیں کیا تھا؟اسی مفہوم کی وضاحت کے لئے: “ هُمْ” کا لفظ لایا تاکہ گمراہی کی نسبت ان کی طرف متحقق ہوجائے سب کچھ جانتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان سے یہ سوال کریگاتاکہ ان کافروں کو ڈانٹ پلائے جنہوں نے اُن کی عبادت کی تھی۔ (ابن جزی: ۲؍۱۰۴)
سوال:معبودان باطلہ سے سوال کرنا دراصل کافروں کو ڈانٹ پلانا ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الفرقان آیات 0 - 18

وَلَٰكِن مَّتَّعۡتَهُمۡ وَءَابَآءَهُمۡ حَتَّىٰ نَسُواْ ٱلذِّكۡرَ وَكَانُواْ قَوۡمَۢا بُورٗا ١٨

یعنی:دنیا میں صحت وتندرستی،مالداری اور رسولوں کی وفات کے بعد لمبی عمر دے کر انہیں عیش وآرام دیا (حتى نسوا الذكر) یہاں تک کہ انہوں نے تیرا ذکر چھوڑدیا اور تکبر وجہالت میں تیرے ساتھ شرک کربیٹھے۔ (القرطبی: ۱۵؍۳۷۹)
سوال:دنیا کی زیب وزینت میں مست ہونے اور لہوولعب میں مشغول ہوجانے کی بھیانک خطرناکی کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الفرقان آیات 0 - 18

قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ مَا كَانَ يَنۢبَغِي لَنَآ أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِكَ مِنۡ أَوۡلِيَآءَ وَلَٰكِن مَّتَّعۡتَهُمۡ وَءَابَآءَهُمۡ حَتَّىٰ نَسُواْ ٱلذِّكۡرَ وَكَانُواْ قَوۡمَۢا بُورٗا ١٨

(سُبحانَكَ) یعنی: انہوں نے اللہ کو اس بات سے پاک سمجھا کہ اس کے ساتھ دوسرے معبود ہوں گے۔(مَا كانَ يَنبَغِي لَنا أَن نَتَّخِذَ مِن دُونِكَ مِن أَولِياءَ) یعنی: ہمارے لئے بالکل یہ مناسب نہیں ہے کہ تیرے دشمنوں کے ساتھ ہم دوستی کریں بلکہ انہیں چھوڑتے ہیں تو ہی ہمارا ساتھی اور دوست ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ: ہمارے لئے مناسب نہیں ہے کہ ہم انہیں اپنی عبادت کرنے کا حکم دیں جبکہ ہم تیری عبادت کررہے ہیں۔ (البغوی: ۳؍۳۲۶)
سوال:آیت کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کیجئے کہ اللہ کے اولیاء اُن جاہلوں سے کیسے براء ت کا اظہار کریں گے جو اُن کی قبروں پر غلط اعمال انجام دیتے ہیں؟

سورۃ الفرقان آیات 0 - 20

وَجَعَلۡنَا بَعۡضَكُمۡ لِبَعۡضٖ فِتۡنَةً أَتَصۡبِرُونَۗ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرٗا ٢٠

(وجعلنا بعضكم لبعض فتنة) یعنی مصیبت،فتنہ۔ چنانچہ مالدارفتنہ ہے فقیر کے لئے۔کیونکہ فقیر کہتا ہے کہ کیا ہوا میں اس جیسا نہ ہوسکا۔ اور تندرست مصیبت و فتنہ ہے ایک مریض کے لئے اوربلند مرتبہ شخص مصیبت وفتنہ ہے ایک کم مرتبہ شخص کے لئے۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:یعنی میں نے تم میں سے بعض کو بعض کے لئے فتنہ بنادیا تاکہ ان سے سنی ہوئی باتوں پر صبر کرسکو۔
سوال:لوگ آپس میں ایک دوسرے کے لئے فتنہ ومصیبت کس طرح ہیں؟