قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮎ

ﰺ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ٢٢٥ ٢٢٥
ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ٢٢٦ ٢٢٦
ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ٢٢٧ ٢٢٧
ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ٢٢٨ ٢٢٨
ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ
ﯸ ﯹ ٢٢٩ ٢٢٩
ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ
ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ
ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ﰙ ﰚ ٢٣٠ ٢٣٠
36
سورۃ البقرہ آیات 0 - 225

لَّا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغۡوِ فِيٓ أَيۡمَٰنِكُمۡ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتۡ قُلُوبُكُمۡۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٞ ٢٢٥

اللہ تعالیٰ نے صرف انہی ظاہری اقوال واعمال پر پکڑ اور باز پرس کی ہے جن کے ساتھ دل کا عمل اور ارادہ شامل ہو،جیسا کہ ارشاد فرمایا: (وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتۡ قُلُوبُكُمۡۗ) ہاں تمہاری پکڑ اس چیز پرہوتی ہے ، جو تمہارے دل کا فعل ہو۔جن باتوں اور کاموں کو دل جانتا ہی نہیں اور نہ ہی ان کا قصد وارادہ رکھتاہے ، اللہ نے ان پر پکڑ نہیں کی ہے اور اسی طرح وہ بات جو آدمی اپنے دل سے کرتا ہے (یعنی حدیثِ نفس)، ان میں سے بھی صرف اسی کی پکڑ ہوگی جسے آدمی کہے یا کربیٹھے۔ (ابن تیمیہ:۱؍۵۱۷)
سوال: انسان اپنے تصرفات اورحرکات وسکنات پر جوابدہ کب ہوتا ہے؟آیت کی روشنی میں وضاحت کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 225

لَّا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغۡوِ فِيٓ أَيۡمَٰنِكُمۡ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتۡ قُلُوبُكُمۡۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٞ ٢٢٥

(اللہ تعالیٰ اپنی صفت حلم یعنی بردباری کی بناء پر)ان کو پکڑنے اور سزادینے میں عجلت سے کام نہیں لیتا۔
اورغالب وبرتر ذات کا اپنے سے کم تر وحقیر کی جانب سے پہنچنے والی اذیت کو برداشت کرنا اور سزانہ دینا، حلم اور بردباری ہے۔ (البقاعی:۱؍۴۲۶)
سوال:آیت کو اللہ تعالیٰ کی صفت ‘‘حلیم’’ سے ختم کرنے میں کیا دلالت ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 228

وَلَهُنَّ مِثۡلُ ٱلَّذِي عَلَيۡهِنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيۡهِنَّ دَرَجَةٞۗ

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: میں اپنی بیوی کے لئےزیب و زینت اختیار کرنا پسند کرتا ہوں،جیسے میری بیوی میرے لئے بناؤ سنگھار کرنا پسند کرتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَلَهُنَّ مِثۡلُ ٱلَّذِي عَلَيۡهِنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ) عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جس طرح ان پر مردوں کے ہیں ، بھلائی کے ساتھ۔) (البغوی:۱؍۲۲۵)
سوال: شریعت نے محض طلاق کے اسباب کو دور کرنے کا ارادہ نہیں کیا بلکہ میاں بیوی کے درمیان نیک بختی اور اچھائی کی مختلف صورتیں بھی چاہی ہیں ۔اس بات کی وضاحت کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 228

وَلَهُنَّ مِثۡلُ ٱلَّذِي عَلَيۡهِنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيۡهِنَّ دَرَجَةٞۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ٢٢٨

عقدِ نکاح، میاں بیوی میں سے ہر ایک پر دوسرے کے لئے جو حق اور ذمہ داری عائد کرتا ہے، وہ اک دم طے شدہ اور متعین نہیں ہے بلکہ اس بارے میں عرفِ عام کی طرف رجوع کیا جائے گا اور اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَلَهُنَّ مِثۡلُ ٱلَّذِي عَلَيۡهِنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ)معروف طریقہ سے عورتوں کا حق ویسا ہی ہے جیسا ان پر مردوں کا حق ہے۔ (ابن تیمیہ:۱؍۵۲۳)
سوال: میاں بیوی کے حقوق طے کرنے میں کس چیز کا اعتبار کیا جائیگا؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 228

وَلِلرِّجَالِ عَلَيۡهِنَّ دَرَجَةٞۗ

کسی عقلمند آدمی سے عورتوں پر مردوں کی فضیلت وبرتری پوشیدہ نہیں ہے۔ اگر کوئی دوسری وجہ نہ ہوتی سوائے اس کے کہ عورت ، مرد سے پیدا کی گئی ہے(تو فضیلت کے لئے یہی کافی ہوتا۔)لہٰذاعورت کی اصل مرد ہے ۔اور مرد کو حق ہے کہ وہ بلا اجازت تصرف کرنے سے عورت کو روک دے ۔نیز عورت شوہرکی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہیں رکھ سکتی اور تنہا حج نہیں کرسکتی اِلا یہ کہ شوہر یا کوئی محرم ساتھ ہو۔ (القرطبی:۴؍۵۳)
سوال:کفار ومنافقین مرد وعورت کے درمیان برابری کا نعرہ لگاتے ہیں ۔آپ کس طرح ان کی تردید کریں گے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 229

ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ

(طلاق دو بار دینا ہے)اس لئے کہ جو شخص دومرتبہ سے زیادہ طلاق دیتاہے یا تو حرام کام کے ارتکاب کا اس کے دل میں ڈر نہیں ہے یا پھر اسے بیوی میں کوئی رغبت اور چاہت نہیں ہے بلکہ وہ صرف عورت کو ستانا اورنقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ (السعدی:۱۰۲)
سوال: طلاق رجعی کو صرف دومرتبہ میں محدود کیوں کیا گیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 230

فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ

اس آیت میں اس بات کی رہنمائی ہے کہ انسان کے لئے مناسب ہے کہ جب وہ کسی بھی معاملہ میں داخل ہوناچاہے ،خاص طور پر چھوٹی بڑی ذمہ داریوں اور عہدوں کو لینے میں،تو اپنی ذات میں اچھی طرح غوروفکر کرلے اور اگر ذمہ داری کو نبھانے کی طاقت وصلاحیت پائے اورخودپر پورا بھروسہ ہو تواقدام کرے ورنہ پیچھے ہٹ جائے۔ (السعدی:۱۰۳)
سوال: انسان پر جو عہدے اور ذمہ داریاں پیش کی جاتی ہیں ان کے متعلق اس کا کیا رویہ ہونا چاہئے؟