قرآن
ﮤ
ﱊ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ
ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ٦٢ ٦٢ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ٦٣ ٦٣ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ٦٤ ٦٤
ﮥ
١ ١ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ٢ ٢
إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَإِذَا كَانُواْ مَعَهُۥ عَلَىٰٓ أَمۡرٖ جَامِعٖ لَّمۡ يَذۡهَبُواْ حَتَّىٰ يَسۡتَـٔۡذِنُوهُۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَـٔۡذِنُونَكَ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۚ
(عَلَى أَمرٍ جَامِعٍ) یعنی ایسے اہم مسئلہ پر جس پر سارے لوگ متفق ہوجائیں جیسے کسی جنگ کی نوبت پیش آجائے یا نماز کا وقت ہوجائے یا کسی اہم معاملہ کے اچانک پیش آجانے پر مشورے کے لئے سب اکٹھاہوجائیں (لَم يَذهَبوا) یعنی اگر کسی مسئلہ پر فیصلہ کے لئے اکٹھاہوتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ کی اجازت کے بغیر اٹھتے نہیں ہیں۔ (الطبری: ۱۹؍۲۲۸)
سوال:اجازت لینا ایمان کی دلیل ہے اور اجتماعی مسئلہ کی کامیابی کی دلیل ہے۔ آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں.
وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمُ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٦٢
(واستغفر لهم) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یعنی ان کے لئے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی غلطیوں کو معاف فرمائے (إن الله غفور) بیشک اللہ تعالیٰ اپنے توبہ کرنے والے بندے کے گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے (رحيم) یعنی بہت مہربان ہے،توبہ قبول کرنے کے بعد سزادینے والا نہیں ہے۔ (الطبری: ۱۹؍۲۲۹)
سوال:کسی بھی رہنما کے مہربان اور کامیاب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کے لئے ان کی غیر موجودگی میں دعاکرے۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں.
لَّا تَجۡعَلُواْ دُعَآءَ ٱلرَّسُولِ بَيۡنَكُمۡ كَدُعَآءِ بَعۡضِكُم بَعۡضٗاۚ
لوگوں کو اس بات سے منع کردیا گیا کہ آپس میں ایک دوسرے کو پکارنے کی طرح رسول اللہ ﷺ کو نہ پکاریں چاہے لفظ میں ہو یا ہیئت وشکل میں ہو۔ چنانچہ لفظی طور پر “اے محمد!” یا “اے عبداللہ کے بیٹے!” یا “اے عبدالمطلب کے بیٹے!” نہ کہے بلکہ “اے اللہ کے رسول!”یا“اے اللہ کے نبی!” یا آپ کی کنیت کے ساتھ “اے ابوالقاسم!” کہہ کر پکارے۔
اور کیفیت وشکل میں گھر کے باہر سے نہ پکاریں اور اگر آپ نہ نکلیں تو پکارتے ہی نہ رہ جائیں۔ (ابن عاشور: ۱۸؍۳۰۹)
سوال:رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اللہ کی تعظیم ہے۔ آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
لَّا تَجۡعَلُواْ دُعَآءَ ٱلرَّسُولِ بَيۡنَكُمۡ كَدُعَآءِ بَعۡضِكُم بَعۡضٗاۚ
اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعظیم تو ہے ہی اس کے علاوہ اس بات کی جانب اشارہ بھی ہے کہ اپنی جماعت کے شیخ کو امت کے نبی جیسا کہنا بھی منع ہے لہذا گفتگو میں اس کا احترام ضروری ہے اور یہ کہ اسے دوسروں سے ممتاز مانا جائے۔(الوسی: ۹؍۴۱۹)
سوال:ایک طالب کے لئے اس کے شیخ،مربی، علماء اور بڑے لوگوں کے ساتھ تعامل کے عمدہ آداب ہیں۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں.
تَبَارَكَ ٱلَّذِي نَزَّلَ ٱلۡفُرۡقَانَ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦ لِيَكُونَ لِلۡعَٰلَمِينَ نَذِيرًا ١
قرآن کریم کو “ الْفُرْقَانَ” دووجہوں سے کہا گیا ہے: 1۔ کیونکہ اس نے حق وباطل اور مومن وکافر کے درمیان فرق کردیا ہے۔
اس لئے کہ اس کے اندر شرعی طور پر تمام حلال وحرام کی وضاحت کردی گئی ہے۔(القرطبی: ۱۵؍۳۶۶)
سوال:قرآن کریم کو “ الْفُرْقَانَ” کیوں کہا گیا؟
تَبَارَكَ ٱلَّذِي نَزَّلَ ٱلۡفُرۡقَانَ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦ لِيَكُونَ لِلۡعَٰلَمِينَ نَذِيرًا ١
آیت میں مذکور “عَبْدِ”سے مراد ہمارے نبی محمد ﷺ ہیں۔آپ کے لئے عبد کا لفظ آپ کے شرف وفضیلت کے لئے لایا گیا ہے،نیز یہ بتانے کے لئے کہ آپ ﷺ عبودیت کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہیں اور اس بات سے آگاہ کرنے کے لئے کہ بیشک رسول اللہ کا بندہ ہی ہوتا ہے جس میں نصاریٰ پر رد بھی ہے۔ (الوسی: ۹؍۲۴۲)
سوال:اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے مقام پر نبی ﷺ کے لئے عبودیت کو ذکر کیا نہ کہ نبوت ورسالت کو۔اس سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٖ فَقَدَّرَهُۥ تَقۡدِيرٗا ٢
یعنی: اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اسی کے مناسب حال سے سنوارا،نہ اس میں کوئی خلل ہے نہ کوئی فرق۔اور کہا گیا: ہر چیز کی عمر اور رزق مقدر کردیا ہے چنانچہ اسی پیدائش پر تقدیر نافذ ہوتی ہے۔ (البغوی: ۳؍۳۲۱)
سوال:بندوں کی تقدیر بنانے میں اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کی تھوڑی وضاحت کریں.