قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٥٦ ٥٦


٥٧ ٥٧


٥٨ ٥٨
ﭿ
٥٩ ٥٩


٦٠ ٦٠


٦١ ٦١

٦٢ ٦٢


٦٣ ٦٣

٦٤ ٦٤
339
سورۃ الحج آیات 0 - 57

فَأُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ ٥٧

(مُّهِينٌ) رسوا کرنے والا۔ یہ عذاب اپنی سختی اور تکلیف ان کے دلوں تک پہنچاکر انہیں رسوا کرنے والاہوگا۔چنانچہ جس طرح انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو رسوا کرنا چاہا اور اللہ کی نشانیوں کا مذاق اڑایا،اسی طرح اللہ بھی انہیں رسوا کریگا۔ (السعدی؍۵۴۳)
سوال:اللہ تعالیٰ مجرموں کو ان کے اعمال کا بدلہ انہی کی جنس سے کیسے دیگا؟

سورۃ الحج آیات 0 - 58

وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوٓاْ أَوۡ مَاتُواْ لَيَرۡزُقَنَّهُمُ ٱللَّهُ رِزۡقًا حَسَنٗاۚ

ہجرت کے مقام ومرتبہ کو بتلانے کے لئے مومنوں میں خاص طور سے ان مہاجرین کا ذکر کیا گیا جو شہید کردئیے گئے ہوں یا وفات پاچکے ہوں۔(ابن عاشور:۱۷؍۳۰۹)
سوال:اس آیت میں خصوصی طور سے مہاجرین کا ذکر کیوں کیا گیا حالانکہ پچھلی آیتوں میں جملہ مومنین میں یہ بھی شامل ہیں؟

سورۃ الحج آیات 0 - 58

وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوٓاْ أَوۡ مَاتُواْ لَيَرۡزُقَنَّهُمُ ٱللَّهُ رِزۡقًا حَسَنٗاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ خَيۡرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ٥٨

اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ جنہوں نے اللہ کے دشمنوں سے جہاد کی خاطر اس کی اطاعت اور رضا جوئی کی خاطر اپنا وطن،قبیلہ اور گھر بار سب چھوڑدیا،پھر شہید کردئیے گئے،یا ہجرت ہی کی حالت میں وفات پاگئے۔ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت میں عمدہ یعنی باعزت رزق عطاکریگا۔ (الطبری: ۱۸؍۶۷۳)
سوال:وطن کو چھوڑنا کب اچھا عمل مانا جائیگا؟

سورۃ الحج آیات 0 - 60

ذَٰلِكَۖ وَمَنۡ عَاقَبَ بِمِثۡلِ مَا عُوقِبَ بِهِۦ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيۡهِ لَيَنصُرَنَّهُ ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٞ ٦٠

(إن الله لعفو غفور)بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ سزا کے مقابلہ میں ان دونوں صفتوں کو کیوں لایا گیا؟تو اس کے دو جواب ہوں گے: 1۔ ان دونوں صفتوں کوذکر کرکے یہ بتانا ہے کہ معاف کردینا سزادینے سے زیادہ افضل ہے۔گویا اس میں معاف کرنے پر ابھارا گیا ہے۔
2۔ ان دونوں کو ذکر کرکے یہ خبر دینا ہے کہ بیشک اللہ بدلہ میں سزادینے والے کو معاف کرنے والا ہے۔(ابن جزی: ۲؍۶۲)
سوال: (لَعَفُوٌّ) اور(غَفُوْرٌ) ان دونوں صفتوں کے ذریعہ آیت کو ختم کرنے کی کیا مناسبت ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 60

ذَٰلِكَۖ وَمَنۡ عَاقَبَ بِمِثۡلِ مَا عُوقِبَ بِهِۦ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيۡهِ لَيَنصُرَنَّهُ ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٞ ٦٠

یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی،دائمی اور لازمی وصف ہے۔اپنے بندوں کے ساتھ اس کا معاملہ ہر وقت عفوودرگزر اور مغفرت کا ہوتا ہے اسی لئے اے وہ لوگو! جن پر ظلم کیا گیا ہے تمہارے لئے یہی مناسب ہے کہ تم معاف کردو،درگزر سے کام لو اور بخش دوتاکہ اللہ بھی تمہارے ساتھ وہی معاملہ کرے جو تم نے دوسرے کے ساتھ کیا ہے۔ارشاد باری ہے: ﴿فَمَنۡ عَفَا وَأَصۡلَحَ فَأَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِ﴾ [الشورى: 40]جس نے معاف کردیا اور اپنی اصلاح کرلی تو اس کا اجر اللہ کے یہاں واجب ٹھہرا۔ (السعدی: ۵۴۳)
سوال:آیت کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان(إِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ)پر کیوں ختم کیا گیا؟

سورۃ الحج آیات 0 - 61

ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِ وَأَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٞ ٦١

بیشک مدد اور فتحیابی اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ دومخالف چیزوں میں سے ایک کو دوسرے پر غالب کیا جائے اور لڑائی کے میدان میں ایک فوج کو دوسری فوج میں داخل کردیا جائے۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ مثال بیان کی کہ وہ کبھی سال کے بعض حصوں میں دن کے اوقات کو رات کے اوقات پر غالب کردیتا ہے اور کبھی سال کے بعض حصوں میں رات کے اوقات کو دن کے اوقات پر غالب کردیتا ہے۔ (ابن عاشور: ۱۷؍۳۱۴)
سوال:لوگوں کی حالت بدلتی رہتی ہے کبھی غالب ہوتے ہیں تو کبھی مغلوب۔آیت کریمہ نے اس مفہوم کو کیسے اجاگر کیا ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 62

وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡكَبِيرُ ٦٢

یہ اللہ کی کبریائی(بزرگی وبڑائی)ہے کہ زمین اورآسمان والوں سے صادر ہونے والی تمام عبادات کاواحد مقصد صرف اس کی تعظیم وکبریائی، اس کی بڑائی کا اقرار اور اس کے اجلال واکرام کا اعتراف ہے۔یہی وجہ ہے کہ تکبیر(اللہ اکبر)تمام بڑی بڑی عبادات مثلاً نماز وغیرہ کا شعار ہے۔ (السعدی؍۵۴۴)
سوال:تکبیر بڑی بڑی عبادتوں کا شعار کیوں ہے؟