قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٤٧ ٤٧


٤٨ ٤٨
٤٩ ٤٩
٥٠ ٥٠

ﭿ
٥١ ٥١


٥٢ ٥٢


٥٣ ٥٣



٥٤ ٥٤

٥٥ ٥٥
338
سورۃ الحج آیات 0 - 48

وَكَأَيِّن مِّن قَرۡيَةٍ أَمۡلَيۡتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٞ

یعنی ان کا ظلم میں سبقت کرنا ہمارے عذاب میں جلدی کا سبب نہیں بنا۔ (السعدی: ۵۴۱)
سوال:کیا ظالم کا ناز ونعمت،امن وامان اور سکون میں ہونا اس کے اعمال کے صحیح ہونے کی دلیل ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 50

فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ ٥٠

آیت میں روزی کو (كَرِيْمٌ) کہنا اس کی بہتات اور فضول چیزوں سے اس کی پاکی کو شامل ہے۔ (ابن عاشور: ۱۷؍۲۹۴)
سوال:آیت کریمہ میں روزی کو (كَرِيْمٌ) کہنا کس بات پر دلالت کرتا ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 53

لِّيَجۡعَلَ مَا يُلۡقِي ٱلشَّيۡطَٰنُ فِتۡنَةٗ لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمۡۗ وَإِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَفِي شِقَاقِۢ بَعِيدٖ ٥٣

“فِتْنَةً ”سے مراد آزمائش اور مصیبت ہے جبکہ “مَّرَضٌ ”سے مرادشک اور نفاق ہے اور “ الْقَاسِيَةِ”سے مراد سخت اور ٹھوس ہے۔یعنی ان کے دل حق کوقبول کرنے سے سخت ہیں۔اس سے مراد مشرک لوگ ہیں۔یہ اس وجہ سے کہا کہ مشرکین نے جو کچھ سنا تھا وہ ان کے لئے آزمائش تھی۔ (البغوی: ۳؍۲۲۸)
سوال:وہ کون سے دل ہوتے ہیں جن پر شیطانی وسوسے اثر ڈال کر انہیں آزمائش میں مبتلا کردیتے ہیں؟

سورۃ الحج آیات 53 - 54

لِّيَجۡعَلَ مَا يُلۡقِي ٱلشَّيۡطَٰنُ فِتۡنَةٗ لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمۡۗ وَإِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَفِي شِقَاقِۢ بَعِيدٖ ٥٣ وَلِيَعۡلَمَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَيُؤۡمِنُواْ بِهِۦ فَتُخۡبِتَ لَهُۥ قُلُوبُهُمۡۗ

(ليجعل ما يلقي الشيطان فتنة) تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے شیطان کے وسوسہ کوآزمائش بنادے۔ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ دوایسے گروہوں کے لئے فتنہ وآزمائش بنادے جن کی اسے کوئی پرواہ نہیں۔او ر یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں بیماری یعنی کمزوری ہے۔ اور وہ کمزوری یہ ہے کہ ان کے ایمان کامل نہیں ہیں اور ان کے یہاں پختہ تصدیق نہیں پائی جاتی ہے۔پس ایسے دلوں پر ادنیٰ سا شبہ بھی اثر کرجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان لوگوں نے شیطانی خیالات اور وسوسے سنے تو شک وشبہ نے ان کے دلوں کو گھیرلیا اور یہی ان کے لئے آزمائش بن گئی۔(وَالقاسِيَةِ قُلوبُهُم)یعنی دوسرا گروہ:یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل سخت ہوتے ہیں۔ان کی سخت دلی اور قساوت قلبی کی بناپر کوئی زجر وتوبیخ اور کوئی وعظ ونصیحت ان پر اثر کرتی ہے نہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کوئی بات ان کی سمجھ میں آتی ہے۔پس شیطان جو کچھ وسوسے ڈالتا ہے وہ ان دونوں قسم کے گروہوں کے لئے فتنہ وآزمائش بن جاتے ہیں۔اور یوں ان کے دلوں میں جو خباثت چھپی ہوتی ہے وہ ظاہر ہوجاتی ہے۔
اوررہا تیسرا گروہ تو یہ شیطانی وسوسہ ان کے حق میں رحمت بن جاتاہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے: (وَلِيَعلَمَ اَّلذِينَ أُوتُوا العِلمَ أَنَّهُ الحَقُّ مِن رَّبِّكَ)اور تاکہ وہ لوگ جان لیں جنہیں آپ کے رب کی جانب سے علم دیا گیا۔اور ایسا اس لئے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں علم سے نواز رکھا ہے جس کے ذریعہ وہ حق اور باطل،ہدایت اور گمراہی کے درمیان پتہ لگاکر دونوں امور کے درمیان تفریق کرلیتے ہیں۔(السعدی: ۵۴۲)
سوال:شبہات کے وقت لوگ تین حصوں میں بٹ جاتے ہیں۔وہ کیا ہیں؟

سورۃ الحج آیات 53 - 54

لِّيَجۡعَلَ مَا يُلۡقِي ٱلشَّيۡطَٰنُ فِتۡنَةٗ لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمۡۗ وَإِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَفِي شِقَاقِۢ بَعِيدٖ ٥٣ وَلِيَعۡلَمَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَيُؤۡمِنُواْ بِهِۦ فَتُخۡبِتَ لَهُۥ قُلُوبُهُمۡۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهَادِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٥٤

اللہ تعالیٰ نے دلوں کی تین قسمیں بتائی ہیں:پہلی قسم سخت،دوسری بیمار اور تیسری فرمانبردار مومن۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۴۴۱)
سوال:آیات کریمہ میں دلوں کی کتنی قسمیں بتائی گئی ہیں؟اور آپ اپنے دل کو کس خانہ میں رکھیں گے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 54

وَلِيَعۡلَمَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَيُؤۡمِنُواْ بِهِۦ فَتُخۡبِتَ لَهُۥ قُلُوبُهُمۡۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهَادِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٥٤

اہل ِحق سے جس قدر بحث ومباحثہ کیا جائیگا حق کی حجتیں اسی قدر غالب ہوتی جائیں گی،چہرہ صاف ہوتا جائیگا، دلیلیں واضح ہوتی جائیں گی اور اس کی گہرائیاں بڑھتی جائیں گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ (آیت:۲۶)میں فرمایا: ﴿يُضِلُّ بِهِۦ كَثِيرٗا وَيَهۡدِي بِهِۦ كَثِيرٗا﴾ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت عطاکرتا ہے۔(فيؤمنوا به)پس اہل ِحق اس پر ایمان لے آتے ہیں۔کیونکہ ان شبہات کے واضح ہوجانے کے بعد حق کا صریح ہونا ان کے لئے ظاہر ہوجاتا ہے۔(فتخبت له قلوبهم) تو ایسی صورت میں ان کے دل حق کے واسطے نرم پڑجاتے ہیں، مطمئن ہوجاتے ہیں اور انہیں سکون میسر آجاتا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں سکینت نازل فرماتا ہے۔ (بقاعی: ۱۳؍۷۳)
سوال:اہل ِحق کا دوسروں سے بحث ومباحثہ کرنا پوری انسانیت کے لئے باعث ِخیر ہے۔ اسے واضح کیجئے.

سورۃ الحج آیات 0 - 55

وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي مِرۡيَةٖ مِّنۡهُ حَتَّىٰ تَأۡتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغۡتَةً أَوۡ يَأۡتِيَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَقِيمٍ ٥٥

اس سے مراد “بدر کا دن” ہے۔ اس دن کو کافروں کے حق میں بانجھ کہا گیا کیونکہ اس کے بعد ان کے لئے کوئی رات آئیگی نہ کوئی دن کیونکہ اس دن وہ لوگ قتل کردئیے جائیں گے۔ (ابن جزی: ۲؍۶۲)
سوال: “بدركے دن” کو بانجھ کہنے میں کافروں کے لئے دھمکی اور تنبیہ ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.