قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٢٤ ٢٤



٢٥ ٢٥

ﭿ
٢٦ ٢٦

٢٧ ٢٧



٢٨ ٢٨

٢٩ ٢٩



٣٠ ٣٠
335
سورۃ الحج آیات 0 - 25

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ ٱلَّذِي جَعَلۡنَٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءً ٱلۡعَٰكِفُ فِيهِ وَٱلۡبَادِۚ وَمَن يُرِدۡ فِيهِ بِإِلۡحَادِۢ بِظُلۡمٖ نُّذِقۡهُ مِنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ ٢٥

“الحاد” درستگی سے ہٹ جانے اور چھوڑدینے کو کہتے ہیں۔ اور “ظلم”یہاں اپنے عام معنی میں ہے۔بڑے گناہوں میں کفر سے لے کر چھوٹے چھوٹے گناہوں تک پر اس کا اطلاق ہوگا کیونکہ دوسری جگہوں کے بالمقابل مکہ مکرمہ میں گناہوں کی سختی اور سنگینی بہت زیادہ ہے۔
اور بعض نے کہا: یہاں ظلم سے کسی حرام کام کو حلال سمجھنا مرادہے۔(ابن جزی: ۲؍۵۴)
سوال:اللہ تعالیٰ کی نظر میں خانہ کعبہ کی بڑی عظمت ہے۔ آیت میں اس بات کی کیا دلیل ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 26

وَطَهِّرۡ بَيۡتِيَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلۡقَآئِمِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ ٢٦

یہاں بیت اللہ کی صفائی سے ہر طرح کی صفائی مراد ہے چاہے اس کا تعلق باطنی گندگی سے ہو جیسے کفر وبدعات،یا ظاہری گندگی سے ہو جیسے ہر طرح کی گندگیاں اور خون وغیرہ۔ (القرطبی: ۱۴؍۳۵۹)
سوال:بیت اللہ کی صفائی کیسے ہوگی؟ واضح کیجئے.

سورۃ الحج آیات 0 - 27

وَأَذِّن فِي ٱلنَّاسِ بِٱلۡحَجِّ يَأۡتُوكَ رِجَالٗا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٖ يَأۡتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٖ ٢٧

اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام سے جو وعدہ کیا تھا وہ بالکل ویسے ہی پورا ہوا چنانچہ لوگ دنیا کے تمام حصوں سے وہاں پہنچتے ہیں، پیدل بھی اور سواری پر بھی۔
(السعدی؍537)
سوال:آیت میں غیبی امور کی خبروں سے متعلق قرآن کے اعجاز کی صورتوں میں سے ایک صورت کی طرف اشارہ ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الحج آیات 0 - 27

وَأَذِّن فِي ٱلنَّاسِ بِٱلۡحَجِّ يَأۡتُوكَ رِجَالٗا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٖ يَأۡتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٖ ٢٧

حج کی مشروعیت کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ عقیدۂ توحید کا مشاہدہ کرکے اور اسے کھلی آنکھو ں سے دیکھ کر حاصل کیا جائے کیونکہ اسے اسی لئے قائم کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کے دلوں میں توحید کا مطلب راسخ اور پیوست ہوجائے اس لئے کہ لوگوں کے دل محسوس چیز کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں کیونکہ محسوس چیزوں کا مشاہدہ کرنے سے عقل ِانسانی کی قوت ِادراک اور چیزوں کا جاننا اور سمجھنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ (ابن عاشور: ۱۷؍۲۴۳)
سوال:مشروعیت ِ حج کی کسی ایک حکمت کا ذکر کیجئے.

سورۃ الحج آیات 0 - 29

وَلۡيَطَّوَّفُواْ بِٱلۡبَيۡتِ ٱلۡعَتِيقِ ٢٩

قتادہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ:بیت اللہ کو عتیق کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ہر جابرو ظالم بادشاہ کے قبضہ سے اللہ نے اس گھر کو ہمیشہ آزاد رکھا،کبھی کوئی اسے تباہ کرسکا نہ اس پر قبضہ کرسکا۔سفیان بن عُيینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے عتیق اس لئے کہا گیا کیونکہ کبھی کوئی اس کا مالک نہیں ہوا۔ (البغوی: ۳؍۲۱۶)
سوال:مسجد حرام کو بیت ِعتیق کیوں کہا گیا؟

سورۃ الحج آیات 0 - 30

ذَٰلِكَۖ وَمَن يُعَظِّمۡ حُرُمَٰتِ ٱللَّهِ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّهُۥ عِندَ رَبِّهِۦۗ

یعنی جو شخص اپنے دل سے یہ جان کرگناہوں اور حرام چیزوں سے پرہیز کرے کہ حرم کے اندر گناہوں کا ارتکاب بہت بڑا جرم ہے۔(فهو خير له عند ربه) مطلب: ایسی صورت میں اس کے لئے اس کے رب کے نزدیک خیر وبھلائی اور نیکی کاکام ہوگا۔چنانچہ جس طرح اطاعت کے کاموں پر بڑا اجروثواب ملتا ہے اسی طرح منع کردہ چیزوں سے بچنے اور حرام چیزوں کو چھوڑدینے سے بھی بڑا اجروثواب ملتا ہے۔ (ابن کثیر: ۳؍۲۱۲)
سوال:ایک مسلمان کے لئے کیسے ممکن ہے کہ کوئی عمل کئے بغیر بڑا اجر کمائے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 30

فَٱجۡتَنِبُواْ ٱلرِّجۡسَ مِنَ ٱلۡأَوۡثَٰنِ وَٱجۡتَنِبُواْ قَوۡلَ ٱلزُّورِ ٣٠

بتوں کو گندہ کہنے سے یہاں معنوی گندگی مراد ہے کیونکہ دلوں میں بتوں کے معبود ہونے کا عقیدہ رکھنا ویسے ہی ہے جیسے بدن کے ساتھ گندگی کا تعلق ہے۔
(ابن عاشور: ۱۷؍۲۵۳)
سوال:آیت کریمہ میں بتوں کو گندگی سے متصف کیوں کیا گیا؟