قرآن
ﮠ
ﱈ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ١٢٧ ١٢٧ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ
ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ١٢٨ ١٢٨
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ١٢٩ ١٢٩
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ
ﮚ ١٣٠ ١٣٠ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ١٣١ ١٣١ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ١٣٢ ١٣٢ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ١٣٣ ١٣٣ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ١٣٤ ١٣٤ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ
ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ١٣٥ ١٣٥
قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتۡكَ ءَايَٰتُنَا فَنَسِيتَهَاۖ وَكَذَٰلِكَ ٱلۡيَوۡمَ تُنسَىٰ ١٢٦
اس آیت میں بھول جانے کا مطلب اللہ کی آیات کو چھوڑدینا ہے۔غفلت کا امکان یہاں نہیں ہے۔ اور(تُنْسٰى) یعنی تجھے عذاب میں چھوڑدیا جائیگا۔ (ابن عطیہ: ۴؍۶۹)
سوال:آیت میں بھول جانے سے کیا مراد ہے؟
وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبۡقَىٰٓ ١٢٧
(آخرت کا عذاب کافی سخت ہے)کیونکہ وہ کبھی ختم نہیں ہوگا برخلاف دنیا کےعذاب کے کہ وہ تو کبھی نہ کبھی ختم ہو ہی جاتا ہے۔پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔ (السعدی؍۵۱۶)
سوال:ایک مسلمان اپنی زندگی میں بہت ساری مشکلات اورپریشانیوں کا سامنا کرتا ہے۔تووہ اپنی پریشانیوں کو ہلکا کرنے میں مذکورہ آیت سے کیسے فائدہ اٹھاسکتاہے؟
فَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوعِ ٱلشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوبِهَاۖ وَمِنۡ ءَانَآيِٕ ٱلَّيۡلِ فَسَبِّحۡ وَأَطۡرَافَ ٱلنَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرۡضَىٰ ١٣٠
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ اپنے آپ کا اور اپنے اہل ِخانہ کا نماز کے ذریعہ تزکیہ کرنے پر توجہ دیں اور ان تمام دنیاوی آرام وآسائش سے منہ پھیرلیں جو اللہ نے کافروں کو دے رکھی ہیں۔ آپ کے لئے اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ بہتر انجام پرہیزگاروں کے لئے ہی ہے۔(ابن عاشور: ۱۶؍۳۳۷)
سوال:مشرکین کی طرف سے تکلیفوں کا سلسلہ بڑھ جائے تو ایسے وقت میں ایک مومن کو چاہئے کہ عبادتوں کے ذریعہ اپنے نفس کا تزکیہ اور اسے مضبوط کرنے کی طرف پوری توجہ دے تاکہ ان کی تکلیفوں کے سامنے ثابت قدم رہ سکے۔ اس بات کو آیت کی روشنی میں واضح کیجئے.
وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعۡنَا بِهِۦٓ أَزۡوَٰجٗا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيهِۚ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰ ١٣١
اس آیت کریمہ میں اشارہ ہے کہ بندہ جب یہ دیکھے کہ اس کا نفس حرص وہوس میں پڑکر دنیا کی زیب وزینت کی طرف مائل اور متوجہ ہے تو وہ اپنے رب کے اس رزق کو یاد کرے جو آئندہ زندگی میں اسے ملنے والا ہے۔پھر ان دونوں کے درمیان موازنہ اور مقابلہ کرے۔ (السعدی؍۵۱۷)
سوال:ایک مسلمان پر بھی ایسے لمحات گذرتے ہیں جب اسے یہ خواہش ہوتی ہے کہ کاش وہ بھی آرام وآسائش اور دنیاوی زیب وزینت کا مالک ہوتا۔تو ایسے لمحات میں اسے کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے؟
وَأۡمُرۡ أَهۡلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَاۖ
کسی چیز کا حکم دینا ان تمام امور کا حکم دینا ہے جن کے بغیر وہ چیز پوری نہیں ہوتی۔چنانچہ یہاں گھروالوں کونماز کا حکم دینے میں یہ حکم بھی ہے کہ انہیں وہ باتیں سکھائی جائیں جن سے نماز کی اصلاح ہو،جن کے کرنے سے نماز خراب ہوتی ہو اور جن کی انجام دہی سے نماز پوری ہوتی ہو۔کیونکہ بندۂ مومن جب اس طریقہ سے نماز قائم کرتا ہے جس طریقہ سے نماز قائم کرنے کا اسے حکم دیا گیا ہے تو نماز کے علاوہ دین کے دوسرے امور کی حفاظت کرنے اور انہیں قائم کرنے کی اس سے زیادہ امیدکی جاسکتی ہے لیکن اگر وہ نماز ہی کو ضائع کردیتا ہے تو دین کے دوسرے امور کو اور برے طریقے سے ضائع کریگا۔ (السعدی؍۵۱۷)
سوال:اہل ِخانہ وغیرہ کو نماز کا حکم کیسے دیا جائے؟ نیز دوسری عبادتوں کو چھوڑکر صرف نماز کا حکم دینے اور اس پر جم جانے کو خاص طور سے کیوں ذکر کیا گیا؟
وَأۡمُرۡ أَهۡلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَاۖ لَا نَسۡـَٔلُكَ رِزۡقٗاۖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكَۗ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلتَّقۡوَىٰ ١٣٢
یعنی ہم آپ سے رزق کا سوال نہیں کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ اپنے لئے اور اپنے اہل ِ خانہ کے لئے روزی کا انتظام کریں بلکہ آپ اور آپ کے اہل ِخانہ نماز کے لئے فارغ ہوکر رہیں اور آپ سب کی روزی کی ذمہ داری ہماری ہوگی۔
بعض اسلاف کرام کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے گھر والے فاقہ میں مبتلا ہوتے تو ان سے کہتے:چلو نماز پڑھو،اللہ نے تمہیں اسی کا حکم دیا ہے۔پھر یہ آیت کریمہ تلاوت کرتے۔ (ابن جُزی: ۲؍۲۹)
سوال:اس آیت میں ایک عظیم منفعت اور نماز کے نتیجوں میں سے ایک نتیجہ کی طرف اشارہ ہے۔وہ کیا ہے؟
وَأۡمُرۡ أَهۡلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَاۖ لَا نَسۡـَٔلُكَ رِزۡقٗاۖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكَۗ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلتَّقۡوَىٰ ١٣٢
یعنی:ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ اپنے او ر اپنے گھرو الوں کے لئے روزی کاانتظام کریں اور پھر روزی کی مشغولیت میں نماز سے غافل ہوجائیں بلکہ ہم تو خود آپ کی اور آپ کے اہل ِخانہ کی روزی کی ذمہ داری لیتے ہیں۔چنانچہ آپ ﷺ کے اہل ِخانہ کو جب کوئی تنگی لاحق ہوتی تو آپ انہیں نماز کا حکم دیتے۔ (القرطبی: ۱۴؍۱۶۵)
سوال:کیا روزی کی تلاش میں مشغول رہنا نماز میں دیر کرنے کے لئے عذر ہے؟اور آپ اس شخص کو (بطور نصیحت) کیا کہیں گے جو نماز کے وقت اپنے کام میں مشغول رہتا ہے.