قرآن
ﮎ
ﰺ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
٢٠٣ ٢٠٣ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ٢٠٤ ٢٠٤
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ٢٠٥ ٢٠٥ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ٢٠٦ ٢٠٦ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ٢٠٧ ٢٠٧ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ٢٠٨ ٢٠٨ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
٢٠٩ ٢٠٩ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ٢١٠ ٢١٠
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُعۡجِبُكَ قَوۡلُهُۥ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَيُشۡهِدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلۡبِهِۦ وَهُوَ أَلَدُّ ٱلۡخِصَامِ ٢٠٤
آیت میں یہ اشارہ ہے کہ لڑائی جھگڑے میں سختی قابل مذمت ہے۔نبی ﷺ سے روایت ہے : اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے،جو بہت زیادہ جھگڑالو ہے۔جھگڑے میں شدت اختیار کرنا منافقین کی صفات میں سے ہے اس لئے کہ وہ دنیا سے محبت کرتے ہیں لہذا اس کے لئے خوب لڑتے ہیں۔ (الألوسی:۲؍۹۵)
سوال:لڑائی (اپنے مقام پر ) جائز ہے لیکن اس میں سختی برتنا مذموم اور ناپسندیدہ ہے ۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُعۡجِبُكَ قَوۡلُهُۥ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَيُشۡهِدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلۡبِهِۦ وَهُوَ أَلَدُّ ٱلۡخِصَامِ ٢٠٤ وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ لِيُفۡسِدَ فِيهَا وَيُهۡلِكَ ٱلۡحَرۡثَ وَٱلنَّسۡلَۚ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلۡفَسَادَ ٢٠٥
آیت میں اس بات کا ثبوت موجودہے کہ جو باتیں اور اقوال ، افراد سے ظاہر ہوتی ہیں وہ بذاتِ خود ان کے سچے یا جھوٹے اور اچھے یا برے ہونے کی دلیل نہیں ہوتیں۔جب تک کہ ان باتوں کی تصدیق کرنے والا ،انہیں بے داغ اور درست قرار دینے والا عمل نہ پایا جائے۔اور بہتر ہے کہ گواہی دینے والوں کو اور لوگوں میں اہلِ حق اور اہلِ باطل کے حالات کو ان کے اعمال کی روشنی میں جانچ اورپرکھ لیا جائے۔اور ان کی حالات کے قرائن (وہ امور جو حقیقت پر دلالت کریں) میں غور وفکر کر لیا جائے۔نیز ان کی پرفریب ،جھوٹی اور چکنی چپڑی باتوں سے اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے اور ان کے پارسائی کے ذاتی دعووں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔ (السعدی:۹۴)
سوال: لوگوں کے کلام وگفتار کی صداقت کا حقیقی پیمانہ کیا ہے؟
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُعۡجِبُكَ قَوۡلُهُۥ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَيُشۡهِدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلۡبِهِۦ وَهُوَ أَلَدُّ ٱلۡخِصَامِ ٢٠٤
آیت میں اس بات کی دلیل اور تنبیہ ہے کہ دین اور دنیا سے تعلق رکھنے والے تمام معاملات میں احتیاط برتی جائے اور معلوم کرلیا جائے کہ گواہوں اور قاضیوں کے حالات صاف ستھرے اور ٹھیک ٹھاک ہیں۔اور حاکم کو چاہئے کہ وہ لوگوں کے ظاہری حالات ، اور ظاہری ایمانداری اور اچھائی (نیکی) پر کوئی کارروائی نہ کرے۔یہاں تک کہ وہ لوگوں کی باطنی حالت اور حقیقت کی تحقیق کرلے۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے حالات بیان کردئے ہیں اور بتادیا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اچھی بات کا اظہار کرتے ہیں لیکن دل میں برائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ (القرطبی:۳؍۳۸۳)
سوال:ہم سے بہت سی غلطیاں محض اس لئے ہوجاتی ہیں کہ ہم لوگوں کو پرکھنے اور ان کے متعلق اندازہ لگانے میں غلطی کربیٹھتے ہیں۔آیت نے ہمیں اس سے ہوشیار اور آگاہ کیا ہے۔آپ اس کی وضاحت کیجئے.
وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ لِيُفۡسِدَ فِيهَا وَيُهۡلِكَ ٱلۡحَرۡثَ وَٱلنَّسۡلَۚ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلۡفَسَادَ ٢٠٥
(وَإِذَا تَوَلَّىٰ) یعنی اپنی باتوں کے ذریعہ جسے دھوکہ دیا ہے ،جب اس کے پاس سے پلٹتاہے (سَعَىٰ) تو زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ مسلمانوں کے دلوں میں شکوک وشبہات ڈالتا ہے اور کفر کو قوت ومدد پہنچانے کی ترکیب وتدبیرکرتا ہے۔ (القاسمی:۱؍۸۲)
سوال:آدمی کی باتوں اور اس کے کاموں کو ملا کر دیکھنا اور ان میں موازنہ کرنا، حکمت ودانائی کا حصہ ہے ۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱدۡخُلُواْ فِي ٱلسِّلۡمِ كَآفَّةٗ وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ
(ٱدۡخُلُواْ فِي ٱلسِّلۡمِ كَآفَّةٗ) اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ۔ یعنی مسلمانوں کو چاہئے کہ اسلام کے تمام احکام کی تابعداری کریں ۔ان میں سے کچھ بھی ترک نہ کریں اور نہ ہی ان لوگوں میں سے ہوجائیں جنہوں نے اپنی خواہشات کو معبود بنالیاکہ اگر شریعت کا حکم ان کی خواہش کے موافق ہوا تو اس پر عمل کرلیااور اگر اس کے خلاف ہوا تو چھوڑدیا۔بلکہ ضروری ہے کہ خواہشِ نفس دین کے تابع ہو۔ اور بندہ خیر وبھلائی کے جن کاموں کے کرنے کی قدرت رکھتا ہو ان سب پر عمل کرے۔ (السعدی:۹۴)
سوال:ہمیں اسلام میں کامل طور سے داخل ہونے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱدۡخُلُواْ فِي ٱلسِّلۡمِ كَآفَّةٗ وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ
چونکہ شیطان کے راستوں کی مخالفت کئے بغیر دین میں پورا پورا داخل ہونا ممکن نہیں اور نہ اس کا تصور کیا جاسکتا ہے۔اس لئے فرمایا: (وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ) یعنی شیطان کے نقش قدم کی پیروی مت کرو۔ (السعدی:۹۴)
سوال: اسلام میں مکمل داخل ہونے کے بعد شیطان کے راستوں پر چلنے سے ممانعت کا حکم کیوں دیا گیا؟
فَإِن زَلَلۡتُم مِّنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡكُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ٢٠٩
آیت سے پتہ چلتا ہے کہ نادانی اور جہالت کی بنیاد پر گناہ کرنے کے مقابلے میں جان بوجھ کر گناہ کرنے کی سزا زیادہ بڑی ہوتی ہے ۔ (القرطبی:3؍395)
سوال: عالم کی عبادت(کا درجہ)دوسروں کی عبادت سے بڑھ کر ہے اور اس کا گناہ بھی دوسروں کے مقابلے میں سنگین ہے ۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.