قرآن
ﮟ
ﱈ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ١٣ ١٣ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ١٤ ١٤ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ١٥ ١٥ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ١٦ ١٦ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ١٧ ١٧ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ١٨ ١٨ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ١٩ ١٩ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ٢٠ ٢٠ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ٢١ ٢١ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ٢٢ ٢٢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ٢٣ ٢٣
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ٢٤ ٢٤
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ٢٥ ٢٥
وَبَرَّۢا بِوَٰلِدَيۡهِ وَلَمۡ يَكُن جَبَّارًا عَصِيّٗا ١٤
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ یحییٰ علیہ السلام والدین کے فرمانبردار تھے،دونوں کی بات ماننے اور ان سے محبت کرنے میں سبقت کرنے والے تھے اوران کے نافرمان نہیں تھے(ولم يكن جبارًا عصيًا) یعنی انہوں نے اپنے رب او ر اپنے والدین کی فرمانبرداری میں کبھی تکبر سے کام نہیں لیا بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور والدین کی فرمانبرداری میں خاکساری ظاہر کی۔انہیں جس کا م کا حکم ملتا اسے بجالاتے اور جس کام سے روکا جاتا اس سے رک جاتے۔ نہ تو آپ نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور نہ ہی والدین کی۔(طبری: ۱۸؍۱۶۰)
سوال:وہ دوحق کون سے ہیں جن کاذکر اس آیت میں کیا گیا؟
وَسَلَٰمٌ عَلَيۡهِ يَوۡمَ وُلِدَ وَيَوۡمَ يَمُوتُ وَيَوۡمَ يُبۡعَثُ حَيّٗا ١٥
سفیان بن عُيينہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ: تین جگہیں ایسی ہیں جہاں آدمی سب سے زیادہ وحشت میں ہوتا ہے:جس دن پیدا ہوتا ہے اس وقت اپنے آپ کو اس جگہ سے باہر پاتا ہے جہاں وہ پہلے تھا،جس دن اس کی موت ہوتی ہے اس وقت وہ ایسے لوگوں کو دیکھتا ہے جنہیں پہلے کبھی نہیں دیکھاتھااور جس دن اسے اٹھایا جائیگا اس وقت وہ اپنے آپ کو بڑے میدان ِمحشر میں دیکھے گا۔ چنانچہ ان ساری جگہوں پر اللہ تعالیٰ نے یحییٰ علیہ السلام کے ساتھ اکرام واحسان کیا۔ اسی لئے آپ کے ساتھ سلامتی کو خاص کیا گیا ہے۔ (ابن کثیر:۳؍۱۱۱)
سوال:یحییٰ علیہ السلام کے ساتھ آیت میں مذکورہ تینوں جگہوں پر سلامتی کو خاص کیوں کیا گیا ہے؟
قَالَتۡ إِنِّيٓ أَعُوذُ بِٱلرَّحۡمَٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيّٗا ١٨
مریم علیہا السلام نے فرشتے کو اللہ کی یاد دلائی۔بچاؤ اور دفاع کے وقت یہی مشروع ہے کہ ایسے موقع پر سب سے پہلے آسان ترین طریقہ اپنایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پہلے فرشتے کو اللہ کا خوف دلایا۔ (ابن کثیر:۳؍۱۱۳)
سوال:انسان پر حملہ آور اور ظالم کو روکنے کے لئے سب سے بہتر طریقہ کیا ہے؟
قَالَتۡ إِنِّيٓ أَعُوذُ بِٱلرَّحۡمَٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيّٗا ١٨
مریم علیہا السلام نے اللہ کی دوسری صفات کو چھوڑ کر صفت ”رحمن“ کو ذکر کیا کیونکہ اس وقت انہوں نے آنے والے شخص کو بدکار اور فاجر سمجھا چنانچہ ان کی چاہت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو ان سے دورہٹاکر ان پر رحم فرمائے۔ (ابن عاشور: ۱۶؍۸۱)
سوال:مریم علیہا السلام نےاللہ کی دوسری صفات کو چھوڑکر صفت ”رحمن“ ہی کو خاص کر کیوں ذکر کیا؟
وَلِنَجۡعَلَهُۥٓ ءَايَةٗ لِّلنَّاسِ
یہ آیت اللہ تعالیٰ کی کمال ِقدرت پر دلالت کرتی ہے اور اس بات پر بھی کہ اسباب بذات خودمؤثر نہیں ہوتے بلکہ ان کا اثر صرف اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہوتا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کچھ ایسی کرامات دکھاتا ہے جو عام اسباب کے خلاف ہوتی ہیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ لوگ اسباب کے سہارے بیٹھ جائیں اور اسباب کو مقدر کرنے والے مسبّب الاسباب یعنی ذات باری تعالیٰ سے بے پرواہ ہوجائیں۔ (السعدی: ۴۹۱)
سوال:مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے کا قصہ ایسا ہے جو دیگر دنیوی اسباب کو چھوڑکر صرف اللہ تعالیٰ سے دلوں کو جوڑ دیتا ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.
وَهُزِّيٓ إِلَيۡكِ بِجِذۡعِ ٱلنَّخۡلَةِ تُسَٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبٗا جَنِيّٗا ٢٥
اس آیت سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ آدمی کے لئے ضروری ہے کہ وہ رزق کی تلاش میں اسباب اختیار کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے
مریم علیہا السلام کو کھجور کے درخت کو ہلانے کا حکم دیا تھا۔ (ابن جزی: ۲؍۶)
سوال:آیت سے پتہ چلتاہے کہ بندے پر واجب ہے کہ وہ رزق کی تلاش میں اسباب کو اپنائے۔اس کی وضاحت کیجئے.
وَهُزِّيٓ إِلَيۡكِ بِجِذۡعِ ٱلنَّخۡلَةِ تُسَٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبٗا جَنِيّٗا ٢٥ فَكُلِي وَٱشۡرَبِي وَقَرِّي عَيۡنٗاۖ
بعض علماء نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ عورتوں کے لئے حالت ِنفاس میں سب سے بہتر چیز تازہ کھجور یعنی رُطَب ہے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اگر ایسی عورتوں کے لئے رطب سے زیادہ بہتر کوئی چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے وقت مریم علیہا السلام کو ضرور وہ چیز کھلاتا۔یہ بات
ربیع بن خُثَیم وغیرہ نے کہی ہے۔ (شنقیطی: ۳؍۳۹۹)
سوال:قرآن پاک اس آیت کے اندر ایک طبی طریقہ پیش کرتا ہے۔وہ کیا ہے؟