قرآن
ﮞ
ﱇ
ﭛ ﭜ ٦٢ ٦٢ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ٦٣ ٦٣ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ٦٤ ٦٤ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ٦٥ ٦٥ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ٦٦ ٦٦ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ٦٧ ٦٧ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ٦٨ ٦٨ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ٦٩ ٦٩ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
٧٠ ٧٠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ٧١ ٧١ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ٧٢ ٧٢ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ٧٣ ٧٣ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ
ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ٧٤ ٧٤
ءَاتِنَا غَدَآءَنَا
انسان کو کھانے میں خادم کو بھی شریک کرنا اور ایک ساتھ کھانا مستحب ہے کیونکہ (آتنا غداءنا) میں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے جس سے بظاہر اس چیز کا پتہ چلتاہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خادم نے بھی کھانا کھایاتھا۔ (السعدی؍۴۸۳)
سوال:خادموں کے ساتھ طرز تعامل اور برتاؤ سے متعلق اس آیت کے اندر بعض آداب کی جانب تنبیہ کی گئی ہے۔ اس کی وضاحت کریں.
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَىٰهُ ءَاتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدۡ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَٰذَا نَصَبٗا ٦٢
اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ انسان اپنی تکلیف اور بیماری کا اظہار کرسکتاہے۔اس سے تقدیر پر کوئی فرق نہیں پڑیگا بشرطیکہ یہ اظہار جزع فزع اور ناراضگی کے ساتھ نہ ہو۔ (القرطبی: ۱۳؍۳۲2)
سوال:کیا اپنی حالت کے بارے میں خبر دینا تقدیر پر اعتراض کرنا ہے؟
وَمَآ أَنسَىٰنِيهُ إِلَّا ٱلشَّيۡطَٰنُ أَنۡ أَذۡكُرَهُۥۚ
یہاں برائی اور اس کے اسباب کی نسبت شیطان کی طرف اس لئے کی گئی ہے کیونکہ وہی برائیوں کو مزین کرکے پیش کرتا ہے،ورنہ ساری چیزیں اللہ کے ہی فیصلہ سے ہوتی ہیں۔ (السعدی؍۴۸۳)
سوال:بھول جانے کو شیطان کی طرف کیوں منسوب کیا گیا ہے حالانکہ یہ تقدیر الٰہی سے ہوتاہے؟
قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰ هَلۡ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰٓ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدٗا ٦٦
یہ اجباری والزامی سوال نہیں بلکہ شفقت ومہربانی والا سوال ہے ۔اور ایک طالب علم کی طرف سے عالم کے لئے ایسے ہی سوالات ہونے چاہئے۔ (ابن کثیر: ۳؍۹۴)
سوال:آیت میں ایک ادب کی جانب رہنمائی کی گئی ہے جس سے آراستہ ہونا ایک طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ عالم کے ساتھ اس کا خیال رکھے۔ وہ کون سا ادب ہے؟
قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰ هَلۡ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰٓ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدٗا ٦٦
نفع بخش علم ہی خیر وبھلائی کی طرف لے جانے والا ہے چنانچہ ہر وہ علم جس کے اندر بھلائی اور خیر کے راستوں کی طرف رہنمائی نیز برے راستوں سے تنبیہ پائی جائے تو وہی نفع بخش علم ہے اورجو اس کے علاوہ ہے یا تو وہ مکمل نقصان دہ ہے یا بے سود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (تعلِّمَنِ مما علمت رشدًا)(السعدی؍۴۸۴)
سوال: موسیٰ علیہ السلام نے خضر علیہ السلام سے مطلق علم کانہ کہہ کر خیر وبھلائی والا علم کیوں طلب کیا؟
قَالَ إِنَّكَ لَن تَسۡتَطِيعَ مَعِيَ صَبۡرٗا ٦٧
اس آیت میں علم کی ایک بنیاد کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ معلم طالب علم کو سیکھے جانے والے علوم کے موضوعات کے تعلق سے ان پریشانیوں سے آگاہ کردے جن کا سامنا حصول علم کے دوران ہوسکتا ہے۔(ابن عاشور: ۱۵؍۳۷۲)
سوال:آیت میں تعلیم کے ایک بنیادی امرکی طرف اشارہ ہے۔وہ کیا ہے؟
قَالَ إِنَّكَ لَن تَسۡتَطِيعَ مَعِيَ صَبۡرٗا ٦٧
یعنی آپ میرے ساتھ نہیں رہ سکتے کیونکہ آپ میری طرف سے ایسی بہت ساری چیزیں دیکھیں گے جو آپ کی شریعت کے خلاف ہیں۔ (ابن کثیر: ۳؍۹۴)
سوال:خضر علیہ السلام کے کاموں پر موسیٰ علیہ السلام کو صبر کیوں نہ ہوسکا؟