قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١١١ ١١١



١١٢ ١١٢

ﭿ
١١٣ ١١٣

١١٤ ١١٤



١١٥ ١١٥


١١٦ ١١٦

١١٧ ١١٧

١١٨ ١١٨
280
سورۃ النحل آیات 0 - 111

يَوْمَ تَأْتِى كُلُّ نَفْسٍۢ تُجَٰدِلُ عَن نَّفْسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ١١١

(يوم تأتي كل نفس تجادل عن نفسها): جس دن ہر شخص صرف اپنے لئے ہی لڑتا جھگڑتا آئیگا۔ یعنی حجت وتکرار کرتے ہوئے اور دنیا میں جو بھلائی اور برائی کی تھی اس کے ذریعہ اپنے نفس کے حق میں دلیل اور عذر اور اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے آئیگا اور بس اپنی ذات کے معاملہ میں ہی مشغول رہیگا،دوسرے کسی کی کوئی فکر نہیں کریگا۔ (البغوی: ۲؍۶۴۱)
سوال:بندہ کب صرف اپنے نفس کے لئے مشغول رہیگا اور دوسروں کے عیوب اور غلطیوں کے لئے فرصت نہیں پائیگا؟

سورۃ النحل آیات 0 - 112

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ ءَامِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍۢ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ ٱللَّهِ فَأَذَٰقَهَا ٱللَّهُ لِبَاسَ ٱلْجُوعِ وَٱلْخَوْفِ بِمَا كَانُواْ يَصْنَعُونَ ١١٢

امن کو اطمینان سے پہلے لایا گیا ہے اس لئے کہ امن کے بغیر اطمینان حاصل نہیں ہوتا۔ٹھیک اسی طرح جیسے کہ ڈر،گھبراہٹ اور بے چینی کا سبب ہوتا ہے۔
(ابن عاشور: ۱۴؍۳۰۵)
سوال:آیت کریمہ میں اطمینان سے پہلے امن کو کیوں ذکر کیا گیاہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 112

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ ءَامِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍۢ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ ٱللَّهِ فَأَذَٰقَهَا ٱللَّهُ لِبَاسَ ٱلْجُوعِ وَٱلْخَوْفِ بِمَا كَانُواْ يَصْنَعُونَ ١١٢

اللہ نے بھوک اور ڈر سے پیدا ہونے والی حالت اور کیفیت کو لباس کا نام دیا اس لئے کہ ان پر جو کمزوری چھاگئی،چہروں کے رنگ فق پڑگئے اور بد حال ہوئے، یہ کیفیات ان کے اوپر اسی طرح ظاہر ہوئیں اور چھاگئیں جیسے بدن پر لباس ہوتا ہے۔ (القرطبی: ۱۲؍۴۵۲)
سوال:ہلاک ہونے والی قوموں پر آنے والی بھوک اور خوف کی مصیبت کو اللہ نے لباس کا نام کیوں دیا؟

سورۃ النحل آیات 0 - 112

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ ءَامِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍۢ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ ٱللَّهِ فَأَذَٰقَهَا ٱللَّهُ لِبَاسَ ٱلْجُوعِ وَٱلْخَوْفِ بِمَا كَانُواْ يَصْنَعُونَ ١١٢

اللہ تعالیٰ نے ان بستی والوں کو مثال اور عبرت و نصیحت کا نشان بنادیا ان تمام لوگوں کے لئے جو اُن کی طرح اللہ کی نعمتوں کا انکار اور ناشکری کرتے ہیں۔ (ابن عاشور: ۱۴؍۳۰۳)
سوال:ہلاک ہونے والی بستیاں کس طرح دوسروں کے لئے مثال اور عبرت کا سامان ہوتی ہیں؟

سورۃ النحل آیات 0 - 115

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحۡمَ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦۖ

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور احسان کی بنیاد پر ہم پر وہی چیزیں حرام ٹھہرائی ہیں جو خبیث(گندی اور نقصاندہ) ہیں اور مقصد یہ ہے کہ ہمیں ہر گندی اور مکروہ چیز سے بچالے۔ (السعدی: ۴۵۱)
سوال:کچھ غذاؤں کو حرام ٹھہرانے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 116

وَلَا تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلۡسِنَتُكُمُ ٱلۡكَذِبَ هَٰذَا حَلَٰلٞ وَهَٰذَا حَرَامٞ لِّتَفۡتَرُواْ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُونَ ١١٦

اللہ پر جھوٹ باندھنے میں ہر وہ شخص شامل ہے جو کوئی بدعت ایجاد کرےجبکہ اس کے پاس اس چیز کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔ (ابن کثیر: ۲؍۵۷۰)
سوال:آیت سے کس طرح معلوم ہوتا ہے کہ دین میں بدعت حرام ہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 116

وَلَا تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلۡسِنَتُكُمُ ٱلۡكَذِبَ هَٰذَا حَلَٰلٞ وَهَٰذَا حَرَامٞ لِّتَفۡتَرُواْ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُونَ ١١٦

اس آیت میں ان عربوں سے خطاب ہے جنہوں نے اپنی طرف سے کچھ چیزوں کو حلال بنالیا تھا اور کچھ کو حرام ٹھہرالیا تھا جیسے بحیرہ وغیرہ جن کا ذکر سورۂ مائدہ اور سورۂ اَنعام میں گزر چکا ہے۔پھر اس آیت کے خطاب میں ہر وہ شخص داخل ہے جو علم اور دلیل کے بغیر کہتا ہے کہ:یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے۔ (ابن جزی: ۱؍۴۷۶)
سوال:ان لوگوں کی قسمیں بتائیے جو اس آیت کے معنی اور خطاب میں داخل ہیں؟