قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮎ

ﰺ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ١٨٢ ١٨٢
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ١٨٣ ١٨٣
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
١٨٤ ١٨٤
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ١٨٥ ١٨٥
ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ١٨٦ ١٨٦
28
سورۃ البقرہ آیات 183 - 184

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُتِبَ عَلَيۡكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ١٨٣ أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۚ

أ۔ اللہ کے فرمان: (كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ) جس طرح تم سے پہلے کے لوگوں پر فر ض کیا گیا تھا۔
ب۔ اور اس کے فرمان: (أَيَّامًا مَّعۡدُودَٰتٖۚ) گنتی کے چند روز۔
ان دونوں کا مقصد ہے مسلمانوں کے لئے روزوں کو آسان اور سہل بنا کر پیش کرنا اور ان کے ساتھ بھرپور مہربانی ونرمی برتنا۔ (ابن جزی:۱؍۹۵)
سوال:اللہ سبحانہ نے اپنی شریعت میں حکمت اور رحمت کو یکجا اور اکٹھاکردیا ہے ۔اس بات کو آیت کی روشنی میں واضح کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 183

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُتِبَ عَلَيۡكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ

(تم پر پچھلی امتوں کی طرح روزہ فرض ہے۔)اس لئے کہ روزہ ان شرعی اعمال اور احکام میں سے ہے جو ہرزمانہ کے لوگوں کی مصلحت میں ہے ۔نیز اس بیان میں (کہ پچھلی امتوں پر بھی فرض تھا)اس امت کو جوش وجذبہ دلانا بھی ہے کہ تمہیں چاہئے کہ اعمال کو پورے طور پر انجام دینے میں دوسروں سے بازی لے جاؤ،سبقت کرو اور اچھی خصلتوں میں دوسروں سے آگے بڑھ جاؤ۔اسی طرح آیت کے بیان میں یہ بات بھی ہے کہ روزہ کوئی ایسا بھاری اور بوجھل حکم نہیں ہے، جو بطورِ خاص صرف تم پر عائد کیا گیا ہے۔ (السعدی:۸۶)
سوال:روزے ہم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض تھے ۔اس خبر سے کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 183

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُتِبَ عَلَيۡكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ١٨٣

مطلب ہے:تاکہ تم گناہوں سے بچ جاؤ،اس لئے کہ روزہ گناہوں کی جڑ ،شہوت کو بانجھ بنادیتا ہے یا پھر اس کو توڑدیتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ‘‘یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَاءَ ۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ فَاِنَّہٗ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّومِ فَاِنَّہٗ لہٗ وِجَاءٌ’’۔ (متفق علیہ) (اے نوجوانوں کی جماعت!تم میں جو بھی نکاح کی قوت ووسعت رکھتا ہو وہ شادی کرلے۔اس لئے کہ شادی، نگاہ کو پست اور شرم گاہ کو پاک وصاف رکھنے کا بڑا ذریعہ ہے۔اور جو شادی نہیں کرسکتاتو وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ شہوت کو توڑ دیتا ہے)۔ (الألوسی: ۲؍۵۷)
سوال:روزہ ، تقوی تک کس طرح پہنچاتا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 183

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُتِبَ عَلَيۡكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ١٨٣

حدیثِ قدسی میں ہے: ‘‘یَقُوْلُ اﷲُ تَبَارَكَ وَتَعَالیٰ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَہٗ اِلَّا الصَّومَ فَاِنَّہٗ لِیْ وَأَنَا أَجْزِیْ بِہٖ ... ’’ الحدیث۔(متفق علیہ) ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: انسان کا ہر عمل اسی کے لئے ہوتا ہے سوائے روزے کے ،وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا)۔
حالانکہ ساری عبادات اسی (اللہ ) کے لئے ہیں لیکن ان تمام میں صرف روزہ کو خصوصیت دی (اور فرمایا:) وہ اس کے لئے ہے۔ اس کے دوسبب ہیں جن کی بنا پر روزہ تمام عبادات سے الگ ہوجاتا ہے:
روزہ جس طرح نفس کو لذتوں اور شہوتوں سے روکتا ہے، اس طرح کوئی اور عبادت۔سوائے نماز کے۔نہیں روکتی۔
روزہ درحقیقت بندے اور اس کے رب کے درمیان راز ہوتا ہے، جو رب کے علاوہ کسی پر ظاہر نہیں ہوتا،اسی لئے یہ رب کے ساتھ خاص ہو گیا۔ جبکہ اس کے علاوہ دیگر عبادات (سب کے سامنے) ظاہر ہوتی ہیں،جنہیں بندہ کبھی بناوٹی انداز میں اور دکھاوے کے لئے بھی کرتا ہے ۔چنانچہ اسی لئے روزے کو دوسری عبادات کے مقابل اپنے لئے خاص بنالیا۔ (القرطبی:۳؍۱۲۳)
سوال:دوسری عبادات پر عبادتِ صوم (روزہ) کی فضیلت بیان کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 185

وَلِتُكۡمِلُواْ ٱلۡعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡ

اس حکم کا ایک بہت بڑا رازاور حکمت یہ ہے کہ: عید، خوشی اور مسرت کا موقع ہے اور انسان کے اندر حد سے آگے بڑھ جانا ، اس کی طبیعت و مزاج میں ہے۔کبھی غفلت کی وجہ سے اور کبھی زیادتی اور نافرمانی کرتے ہوئے وہ حد پارکرجاتا ہے ۔ اسی لئے تکبیر (اللہ کی عظمت و کبریائی اور بڑائی بیان کرنے) کا حکم دیا گیا ۔تاکہ وہ اپنے دائرہ میں رہے اور حد سے تجاوز نہ کرے۔ (البقاعی:۱؍۳۴۵)
سوال:اللہ نے عیدِ رمضان کی رات میں تکبیر(اللہ اکبر )کہنے کا حکم کیوں دیاہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 186

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ

اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ جل وعلا نزدیک ہے۔دعا کرنے والے کی دعا وپکار سنتا اورقبول کرتا ہے۔جبکہ ایک دوسری آیت میں اس چیز کو اللہ جل وعلا کی مشيئت اور ارادے پر منحصر بتایا ہے۔اور وہ اللہ کا یہ فرمان ہے: (فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَيْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَؒ۰۰۴۱) (اَنعام:۴۱) پھر تم جس چیز کے لئے اللہ کو پکارتے ہو اگر اللہ چاہے تو اس (مصیبت)کو ہٹابھی دیتا ہے اور (اس وقت) تم جن کو شریک ٹھہراتے تھےان سب کو بھول بھال جاتے ہو۔
بعض علماء کا کہنا ہے کہ: دعاکی قبولیت کو اللہ کے ارادے اور مشيئت سے جوڑدیا جانا کفار کی دعاؤں کے سلسلہ میں ہے جیسا کہ آیت کے سیاق وسباق سے ظاہر ہے اور کسی قیداور شرط کے بغیر دعا کی قبولیت کا وعدہ کرنامومنوں کی دعا کے سلسلہ میں ہے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومنوں کی دعا ، ردنہیں ہوتی ۔ (ہاں،قبول ہونے کی کئی شکلیں ہیں ، چنانچہ)یا تو وہ جو مانگتے ہیں، وہی انہیں دے دیا جاتا ہے،یا ان کے لئے مطلوب سے بہتر بدلہ آخرت کے لئے محفوظ کردیا جاتا ہے، یا پھر دعا کے حساب واعتبار سے آنے والی مصیبت وپریشانی کو اس سے روک دیا جاتا ہے۔ (الشنقیطی :۱؍۷۴)
سوال:قبولیت واجابت کے اعتبار سے مومن کی دعا اور کافر کی دعا کے درمیان کیا فرق ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 186

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِي وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ ١٨٦

آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روزہ دار جو دعا کرتا ہے ،اس کے قبول ہونے کی پوری امید ہوتی ہے اور یہ بھی اشارہ ہے کہ ماہِ رمضان میں روزہ دار سے یہ امید ہے کہ وہ (خوب) دعائیں کرے۔نیز آیت یہ اشارہ بھی کرتی ہے کہ رمضان کے ہر دن کے آخروقت میں دعاکرنا مشروع ہے۔ (ابن عاشور: ۲؍۱۷۹)
سوال: روزوں کی آیتوں کے درمیان دعا کی آیت آنے کی کیا حکمت ہے؟