قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮛ

ﱆ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ٩١ ٩١ ﭖ ﭗ
ﭘ ٩٢ ٩٢
ﭚ ﭛ ﭜ ٩٣ ٩٣ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ٩٤ ٩٤
ﭥ ﭦ ﭧ ٩٥ ٩٥ ﭩ
ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ٩٦ ٩٦
ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ٩٧ ٩٧
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ٩٨ ٩٨
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ٩٩ ٩٩
Surah Header

ﮜ

ﭦﭛﭣﭤ
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
١ ١
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ٢ ٢
ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ٣ ٣
ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ٤ ٤
ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
٥ ٥
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ٦ ٦
267
سورۃ الحجر آیات 92 - 93

فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔلَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٩٢ عَمَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٩٣

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ معلوم کرنے کے لئے ان سے یہ سوال نہیں پوچھے گا کہ کیا تم نے ایسا اور ایسا عمل کیا تھا؟ کیونکہ اللہ تو ہر چیز کو جاننے والا ہے لہذا ان سے جو سوال پوچھے گا وہ ڈانٹ ڈپٹ اور پھٹکار والا سوال ہوگا۔(القرطبی: ۱۲؍۲۶۰)
سوال: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کافروں سے ان کے اعمال کے بارے میں جو سوال پوچھے گا وہ کس قسم کا سوال ہوگا؟

سورۃ الحجر آیات 0 - 95

إِنَّا كَفَيۡنَٰكَ ٱلۡمُسۡتَهۡزِءِينَ ٩٥

یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ سے وعدہ ہے کہ آپ کا مذاق اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ تعالیٰ جس قسم کا عذاب چاہے گا اس کے ذریعہ انہیں سزادے کر آپ کے لئے کافی ہوجائیگا۔اور اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کردکھایا کہ جس نے بھی رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین وتعلیمات کا مذاق اڑایا تو نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک وبرباد کردیا اور اسے بہت بری موت دے کر مارڈالا ۔ (السعدی؍۵۳۴)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ مذاق اڑانے والوں کے مقابلہ کے لئے کافی ہوجائیگا۔تو یہ وعدہ کس طرح پورا ہوتا ہے؟ اور جو شخص رسول اللہ ﷺ کا مذاق اڑائے اس کا کیا حکم ہے؟

سورۃ الحجر آیات 95 - 96

إِنَّا كَفَيۡنَٰكَ ٱلۡمُسۡتَهۡزِءِينَ ٩٥ ٱلَّذِينَ يَجۡعَلُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَۚ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ ٩٦

مذاق اڑانے والوں کو شرک کی صفت سے موصوف کرنے میں رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی ہے اور آپ کی پریشانی کو ہلکاکرنے کا پہلو ہے کیونکہ اس میں اشارہ ہے کہ ان لوگوں نے صرف آپ کا مذاق اڑانے پر ہی بس نہیں کیا بلکہ انہوں نے اللہ کی شان میں بھی بہت بڑی گستاخی کی جرأت کی ہے اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ (الالوسی: ۱۴؍۴۴۱)
سوال:اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تکلیف پہنچانے اور آپ کا مذاق اڑانے والوں کے مقابلہ میں کافی ہوجائیگا۔اس بیان کے بعد ان مخالفین کو شرک کی صفت کے ساتھ موصوف کیا گیا؟اس میں کیا فائدہ ہے؟

سورۃ الحجر آیات 0 - 99

وَٱعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأۡتِيَكَ ٱلۡيَقِينُ ٩٩

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہتے تھے: موت پر یقین رکھنے کے باوجود میں نے لوگوں کو اس یقینی چیزمیں شک کرتے ہوئے دیکھا۔اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے لئے تیاری نہیں کرتے گویا انہیں موت آنے میں شک ہے۔ (القرطبی: ۱۲؍۲۶۵)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں موت کو یقین کا نام دیا ہے۔اس سے مومن بندے کو کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 1

أَتَىٰٓ أَمۡرُ ٱللَّهِ

اللہ تعالیٰ نے قیامت کےبہت قریب ہونے کو ماضی کے صیغہ سے بیان فرمایا ہے جو دلالت کرتا ہے کہ یہ بات بالکل پکی اور یقینی ہے اور قیامت لامحالہ آکر رہے گی۔ (ابن کثیر: ۲؍۵۴۱)
سوال:اللہ تعالیٰ نےماضی کے صیغہ کے ساتھ یہ کیوں فرمایا:(أتى أمر الله) اللہ کا حکم آپہنچا۔یہ کیوں نہیں کہا: “سَيَاتِيْ اَمْرُ اللّٰهِ” عنقریب اللہ کا حکم آجائیگا۔ اس سے مومن کو کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 2

يُنَزِّلُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ بِٱلرُّوحِ مِنۡ أَمۡرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦٓ

اللہ نے وحی کو روح کا نام دیا ہے اس لئے کہ اس کے ذریعہ دلوں کو زندگی ملتی ہے۔ (البغوی: ۲؍۶۰۲)
سوال:اللہ تعالیٰ نے وحی کو روح کا نام کیو ں دیا ہے؟

سورۃ النحل آیات 5 - 6

وَٱلۡأَنۡعَٰمَ خَلَقَهَاۖ لَكُمۡ فِيهَا دِفۡءٞ وَمَنَٰفِعُ وَمِنۡهَا تَأۡكُلُونَ ٥ وَلَكُمۡ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسۡرَحُونَ ٦

اس سورت کو “سُوْرَةُ النِّعَم” یعنی نعمتوں والی سورت بھی کہا جاتا ہے اس لئے کہ اس کی شروعات میں نعمتوں کے اصول اور قاعدے بیان کئے گئے ہیں اور آخر میں وہ چیزیں بیان کی گئی ہیں جن کے ذریعہ نعمتیں پوری ہوتی ہیں۔ (السعدی: ۴۳۵-۴۳۶)
سوال:سورۂ نحل کا دوسرا نام سورۂ نِعم بھی ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟