قرآن
ﮛ
ﱆ
ﮛ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ٢ ٢ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ٣ ٣ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ٤ ٤ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ٥ ٥ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ٦ ٦ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ٧ ٧ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ٨ ٨ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ٩ ٩
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ١٠ ١٠ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ١١ ١١ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ١٢ ١٢ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
١٣ ١٣ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ١٤ ١٤
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ١٥ ١٥
رُّبَمَا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡ كَانُواْ مُسۡلِمِينَ ٢
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں:مشرکین جب مومنوں کو دیکھیں گے کہ وہ جنت میں چلے گئے اور ان میں سے کوئی بھی جہنم میں نظر نہیں آئیگا اس وقت مشرکین تمنا کریں گے کہ کاش! وہ بھی مسلمان ہوتے۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۷۶)
سوال: کافر کس وقت یہ آرزو کریگا کہ کاش وہ مسلم ہوتا؟
ذَرۡهُمۡ يَأۡكُلُواْ وَيَتَمَتَّعُواْ وَيُلۡهِهِمُ ٱلۡأَمَلُۖ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ ٣
لمبی امیدیں ایک لاعلاج بیماری او ر پرانا روگ ہے۔یہ مرض جب دل میں گھر کرلیتا ہے تو اس کا مزاج بگڑجاتا ہے اور اس کا علاج مشکل ہوجاتا ہے۔ نہ بیماری اسے چھوڑتی ہے اور نہ کوئی دوا اسے فائدہ دیتی ہے بلکہ یہ بیماری علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو تھکاکر لاچار بنادیتی ہے اور حکما ء وعلماء اس سے شفاء پانے کی امید چھوڑدیتے ہیں۔طول امل یعنی لمبی امید کی حقیقت اور مطلب ہے:دنیا کی چاہت رکھنا،اسی کے چکر میں پھنسے رہنا،اسی دنیا سے محبت کرنا اور آخرت سے منہ موڑلینا۔ (القرطبی: ۱۲؍۳۸۹)
سوال:وہ کون سی بڑی بیماری ہے جس سے اللہ نے خبردار کیا ہے؟
ذَرۡهُمۡ يَأۡكُلُواْ وَيَتَمَتَّعُواْ وَيُلۡهِهِمُ ٱلۡأَمَلُۖ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ ٣
آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت کی تیاری اور اس کا انتظام چھوڑکر لطف ولذت اٹھانا،ناز ونعمت میں پڑے رہنا یہ ان لوگوں کا کردار نہیں ہوتا جو نجات چاہتے ہیں۔حسن رحمہ اللہ سے یہ بات منقول ہے کہ: جس بندے نے اپنی امید لمبی کرلی اس نے عمل کو خراب کرلیا۔
بعض آ ثار میں علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے تم لوگوں کے بارے میں بس دوچیزوں کاڈر ہے:۱) لمبی چوڑی امید اور ۲) خواہشاتِ نفس کی پیروی۔اس لئے کہ لمبی امید آخرت کو بھلادیتی ہے اور خواہشات کی اتباع حق سے روک دیتی ہے۔ (الالوسی: ۱۴؍۳۴۱)
سوال: لمبی چوڑی امیدوں کے بہت سے نقصانات ہیں۔آیت کی روشنی میں بیان کیجئے.
لَّوۡ مَا تَأۡتِينَا بِٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ٧
اب چونکہ نبیﷺ فرشتوں کو اپنے ساتھ نہیں لاسکے اسی لئے آپ (مشرکین کی نظروں میں)سچے نہیں ہیں۔ مشرکین کا یہ کہنا سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی جہالت تھی۔رہا اس کا ظلم ہونا تو بالکل ظاہر سی بات ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے خلاف کھلی جسارت ہے اور بے جا اعتراض کے ساتھ ہٹ دھرمی ہے کہ وہ اپنی جانب سے ایسے معجزات اور نشانیاں متعین کررہے ہیں جنہیں اللہ نے نشانی کے طور پر اختیار نہیں کیا۔یعنی اللہ کی مرضی پر اپنی مرضی تھوپ رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے علاوہ بھی دیگربہت ساری نشانیاں ہیں جو نبیﷺ کی لائی ہوئی شریعت کو صحیح او ر سچا ثابت کرتی ہیں اور ان سے ہی مقصد حاصل ہوجاتا اور کھلا ثبوت مل جاتا ہے۔
اب رہا ان کی بات کا جہالت ہونا تو وہ اس طرح ہے کہ وہ لوگ خود اپنا فائدہ اور نقصان نہیں جان سکے کیونکہ فرشتوں کو اتارنے میں ان کے لئے خیر وبھلائی نہیں تھی بلکہ اللہ تعالیٰ جب فرشتوں کو نازل کرتا ہے تو حق کے ساتھ نازل کرتا ہے پھر جو لوگ حق کی اتباع اور تابعداری نہیں کرتے تو انہیں کوئی مہلت اور ڈھیل نہیں ملتی۔ (السعدی: ۴۲۹)
سوال:مشرکین کے اس مطالبہ میں کہ نبی ﷺ اپنے ساتھ فرشتوں کو لائیں اس میں ظلم اور جہالت تھی۔ اس کی وضاحت کیجئے.
إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ
یعنی: قرآن کہ جس میں احکام ومسائل ہیں یا واضح ثبوت ودلائل ہیں ہر چیز کی یاددہانی اور بیان ہے اور اس میں وہ سب کچھ ہے کہ جو نصیحت حاصل کرنا چاہے وہ نصیحت لے سکتا ہے۔ (السعدی: ۴۲۹)
سوال:قرآن کو “الذِّكْرَ” کانام دینے کی کیا وجہ ہے؟
إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ ٩
اس کی حفاظت کرنے کا معنی ہے: جس طرح قرآن سے پہلے دوسری کتابوں میں تحریف اور تبدیلی واقع ہوچکی ہے،قرآن کو ایسی ہر تبدیلی اور ہیرپھیر سے بچانا اور ردوبدل سے محفوظ رکھنا۔ اس لئے قرآن کی حفاظت اللہ نے خود اپنے ذمہ لے رکھی ہے چنانچہ دوسری آسمانی کتابوں کے برخلاف قرآن میں کچھ بڑھانا،کچھ گھٹانا اور کچھ بدل دینا کسی کے بس میں نہیں رہا۔وجہ یہ ہے کہ پچھلی کتابوں کی نگرانی اور حفاظت کرنا ان کتابوں کے ماننے والوں کے ذمہ تھا جو اللہ کے اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے: ﴿بِمَا ٱسۡتُحۡفِظُواْ مِن كِتَٰبِ ٱللَّهِ﴾ [المائدة: 44]. اس لئے کہ وہ اللہ کی کتاب کے نگراں اور محافظ بنائے گئے تھے یعنی انہیں اللہ کی کتاب کی حفاظت کا حکم دیا گیا تھا۔ (ابن جزی: ۱؍۴۵۰)
سوال:قرآن کریم اور دوسری آسمانی کتابوں میں تبدیلی سے محفوظ رکھنے کے اعتبار سے کیا فرق ہے؟
مَا نُنَزِّلُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَمَا كَانُوٓاْ إِذٗا مُّنظَرِينَ ٨
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں:حق کے ساتھ کا معنی ہے: رسالت اور عذاب کے ساتھ۔ ہاں،رسولوں پراللہ جس حق کے ساتھ فرشتوں کو بھیجتا ہے وہ اقوال (تعلیمات وہدایت) کا حق ہوتا ہے۔اب وہ لوگ جنہیں ڈرایا جاچکا ہے یعنی حق کی دعوت جن کو دی جاچکی ہوتو ان کے پاس فرشتے اللہ کے فیصلوں کو نافذ کرنے والے افعال کا حق لے کر اترتے ہیں۔یا تونافرمانوں کے لئے ہلاکت وبربادی کا فعل، یافرمانبرداروں کے لئے نجات وحفاظت کا عمل لے کر اترتے ہیں۔ (البقاعی: ۴؍۲۰۶)
سوال:وہ “حق” کیا ہے جس کے واسطے فرشتے اترتے ہیں؟