قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٨٧ ٨٧



٨٨ ٨٨
ﭿ
٨٩ ٨٩


٩٠ ٩٠

٩١ ٩١


٩٢ ٩٢

٩٣ ٩٣


٩٤ ٩٤
٩٥ ٩٥
246
سورۃ يوسف آیات 0 - 87

يَٰبَنِيَّ ٱذۡهَبُواْ فَتَحَسَّسُواْ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَاْيۡـَٔسُواْ مِن رَّوۡحِ ٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ لَا يَاْيۡـَٔسُ مِن رَّوۡحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ ٨٧

امید بندے کو اپنا مقصد پانے کے لئے کوشش او ر محنت کرنے پر ابھارتی ہے جبکہ مایوسی اورناامیدی اسے سست، کاہل اور بوجھل بنادیتی ہے۔(السعدی؍۴۰۴)
سوال: اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہونے کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 87

إِنَّهُۥ لَا يَاْيۡـَٔسُ مِن رَّوۡحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ ٨٧

مایوسی کافر کی ایک صفت اور پہچان بتائی گئی ہے۔کیونکہ یہ دراصل اللہ کی ربوبیت(پروردگاری)کو جھٹلانے کا نتیجہ ہوتا ہے یا پھر اللہ کی قدرت،اس کے فضل واحسان اور اس کی رحمت جیسی صفات سے لاعلمی اورناواقفیت کی وجہ سے کافر کے اندر ناامیدی اور مایوسی پیدا ہوجاتی ہے۔(ابن جزی: ۱؍۴۲۵)
سوال: مایوسی کافروں کی ایک صفت اور پہچان کیوں بتائی گئی ہے؟

سورۃ يوسف آیات 88 - 89

فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَيۡهِ قَالُواْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهۡلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَٰعَةٖ مُّزۡجَىٰةٖ فَأَوۡفِ لَنَا ٱلۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَآۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجۡزِي ٱلۡمُتَصَدِّقِينَ ٨٨ قَالَ هَلۡ عَلِمۡتُم مَّا فَعَلۡتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذۡ أَنتُمۡ جَٰهِلُونَ ٨٩

جب بھائیوں نے اپنا دکھڑا سنایا تو یوسف علیہ السلام کا دل پسیج گیا، اور انہوں نے اپنا تعارف کراکے خود کو ظاہر کردیا۔(ابن جزی: ۱؍۴۲۵)
سوال:دلوں کو متاثر کرنےاور فیصلوں و موقفوں کو بدلنے میں اچھی بات کا جو اثر ہوتاہے،اسے بیان کیجئے.

سورۃ يوسف آیات 0 - 90

إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصۡبِرۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٩٠

یعنی: جواللہ سے ڈرتا ہے، مصیبتوں پر صبر کرتا ہے اور گناہوں سے بچتا ہے(فإن الله لا يضيع أجر المحسنين) تو آزمائش اور مصیبت میں صبر کرنے والے اور اس کی اطاعت وفرمانبرداری پر قائم رہنے والے کے اجر و ثواب کو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا ہے۔ (القرطبی: ۱۱؍۴۴۳)
سوال: بندہ دنیا وآخرت میں عزت کے مقام تک کب پہنچتا ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 92

قَالَ لَا تَثۡرِيبَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡيَوۡمَۖ يَغۡفِرُ ٱللَّهُ لَكُمۡۖ وَهُوَ أَرۡحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ٩٢

یوسف علیہ السلام نے یہ کہہ کر بھائیوں سے اپناحق معاف کردیا کہ (لا تثريب عليكم اليوم) (آج تم پر میری جانب سے کوئی ملامت اور گرفت نہیں۔) اس کے بعداللہ سے دعامانگی کہ وہ بھی انہیں معاف کردے۔ (ابن جزی: ۱؍۴۲۶)
سوال: اس آیت میں ایک عظیم الشان طرز عمل اور طریقہ ہے اور انبیاء کے اخلاق میں سے بلند کردار کا ایک نمونہ ہے۔اسے بیان کیجئے.

سورۃ يوسف آیات 0 - 92

قَالَ لَا تَثۡرِيبَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡيَوۡمَۖ يَغۡفِرُ ٱللَّهُ لَكُمۡۖ وَهُوَ أَرۡحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ٩٢

میری طرف سے آج تم کو عار نہیں دلائى جائیگی، اور نہ ہی آج کے بعد میں تمہارے سامنے تمہارے گناہ کا ذکر کروں گا۔(البغوی: ۲؍۴۹۴)
سوال: یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائیوں کی غلطی کو معاف کردینا اور اسے درگذر کردینا کس درجہ تک پہنچا ہوا تھا؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 93

ٱذۡهَبُواْ بِقَمِيصِي هَٰذَا فَأَلۡقُوهُ عَلَىٰ وَجۡهِ أَبِي يَأۡتِ بَصِيرٗا

یعقوب علیہ السلام پر جو غم ٹوٹا تھا چونکہ اس کی شروعات یوسف علیہ السلام کی اس قمیص سےہوئی تھی جسے ان کے بھائی جھوٹ موٹ کا خون لگاکر لائے تھے،اس لئے یوسف علیہ السلام نے اپنی کسی دوسری نشانی کے بجائے اپنی قمیص کو ہی سرور وخوشی کا مقدمہ بنادیا تاکہ وہ اپنے والد کے پاس اسی راستہ سے خوشی پہنچائیں جس راستہ سے ان پر غم امنڈ آیا تھا۔(الالوسی: ۱۴؍۱۰۳)
سوال:یہاں یوسف علیہ السلام کی نشانیوں اور استعمال کی چیزوں میں سے قمیص ہی کو چننے کی کیا وجہ تھی؟