قرآن
ﮘ
ﱅ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ٧٠ ٧٠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ٧١ ٧١ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ٧٢ ٧٢ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
٧٣ ٧٣ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ٧٤ ٧٤ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
٧٥ ٧٥ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ٧٦ ٧٦ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ٧٧ ٧٧ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ٧٨ ٧٨
فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمۡ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِي رَحۡلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلۡعِيرُ إِنَّكُمۡ لَسَٰرِقُونَ ٧٠
آیت میں ایسے حیلوں کو استعمال کرنے یا کام میں لانے کا جوازملتا ہے جن کے ذریعہ آدمی اپنے حقوق حاصل کرلے۔اور وہ بندہ قابل تعریف ہے جو ایسے خفیہ طریقوں کا علم رکھے جو مقصد تک پہنچا دے۔ اور یقیناً ممنوع اور ناجائز وہ حیلہ سازی ہے جس سے کسی فرض وواجب کو ساقط کیا جائے یا کوئی حرام کام کیاجائے۔ (السعدی؍۴۱۱)
سوال: اس آیت کے پیش نظر جائز حیلے کون سے ہیں اور ناجائز حیلے کون سے ہیں؟
فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمۡ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِي رَحۡلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلۡعِيرُ إِنَّكُمۡ لَسَٰرِقُونَ ٧٠
یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے حقیقت میں چوری نہیں کی تھی پھر بھی انہیں چور کے نام سے پکارنے کی علماء نے دووجہیں بیان کی ہیں: اول : یہ تعریضات و اشارات کے قبيل سے ہے اور یوسف علیہ السلام نے چور کے لفظ سے دل میں یہ مراد لیا تھا کہ ان کے بھائیوں نے خود انہیں ان کے باپ کے پاس سے چرایا تھا،وہ اس طرح کہ ان کے خلاف ایک چال چل کر انہیں اپنے والد کے پاس سے ہٹادیا اور غائب کردیا تھا۔اس طرح یوسف علیہ السلام کے بارے میں انہوں نے باپ سے خیانت کی تھی اورخیانت کرنے والے کو چور کہا جاتاہے اور یہ ایک مشہور بات ہے یہاں تک کہ حکومت کے اہل کاروں اور سرکاری کارندوں میں سے جو لوگ خیانت کرتے ہیں انہیں عام طور سے چور ہی کہا جاتا ہے۔ دوم: یہ کہ پکارنے والے نے انہیں چور یوسف علیہ السلام کے حکم کے بغیر اپنی طرف سے کہا تھا۔(ابن تیمیہ: ۴؍۵۷)
سوال: یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو چور کیسے کہا گیا جبکہ انہوں نے حقیقت میں چوری نہیں کی تھی؟
كَذَٰلِكَ كِدۡنَا لِيُوسُفَۖ مَا كَانَ لِيَأۡخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ ٱلۡمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ
اب اس مرحلہ میں یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس رکھنے کا منشاء اور منصوبہ پوراہوگیا اور ان کی یہ خواہش اس طرح پوری ہوئی کہ دوسرے بھائیوں کو اصل حقیقت کا علم او ر احساس بھی نہیں ہوسکتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (كذلك كدنا ليوسف) اس طرح ہم نے یوسف علیہ السلام کے لئے اس طرح کی تدبیر کو آسان کردیا۔ جس کی بدولت وہ اپنے غیر مذموم مقصد تک پہنچ گئے۔ (السعدی؍۴۰۲)
سوال: اللہ تعالیٰ جب اپنے اولیاء کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے فیصلہ کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔آیت کی مدد سے اس بات کی وضاحت کیجئے.
نَرۡفَعُ دَرَجَٰتٖ مَّن نَّشَآءُۗ وَفَوۡقَ كُلِّ ذِي عِلۡمٍ عَلِيمٞ ٧٦
یعنی:یہاں رفعت سے مراد علم کے ذریعہ بلندی ہے۔ یہ معنی اگلے جملہ سے معلوم ہوتا ہے: (وفوق كل ذي علم عليم) اور ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے۔ یعنی ہر عالم سے بالاتر ایسی ذات یا ہستی ہے جو اس سے زیادہ علم والی ہے،وہ انسانوں میں سے ہو یا پھر اللہ عزوجل کی ہستی ہو۔ (ابن جُزی: ۱؍۴۲۲)
سوال: اس آیت میں بلند درجات ومراتب کی تفسیر علم سے کیوں کی گئی ہے؟
نَرۡفَعُ دَرَجَٰتٖ مَّن نَّشَآءُۗ
یعنی علم اور ایمان کے ذریعہ ہم درجے بلند کرتے ہیں۔
سوال: وہ کون سی چیزیں ہیں جن کی بدولت بندہ بلند درجات اور اونچائیوں کی طرف بڑھتا چلاجاتا ہے؟
وَفَوۡقَ كُلِّ ذِي عِلۡمٍ عَلِيمٞ ٧٦
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:ہر عالم سے بڑھ کر ایک عالم ہوتا ہے، یہاں تک کہ علم کا یہ سلسلہ اللہ تک پہنچ جاتا ہےجوہر علم والے سے بالاتر اورکامل علم والا ہے۔ (البغوی:۲؍۴۸۱)
سوال: اللہ تعالیٰ کے علم کی کشادگی اور وسعت بیان کیجئے.
قَالُوٓاْ إِن يَسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ أَخٞ لَّهُۥ مِن قَبۡلُۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفۡسِهِۦ وَلَمۡ يُبۡدِهَا لَهُمۡۚ قَالَ أَنتُمۡ شَرّٞ مَّكَانٗاۖ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُونَ ٧٧
(والله أعلم بما تصفون)جو کچھ تم بیان کررہے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ یعنی: اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتاہے کہ تم نے جو کچھ کہا ہے اوریوسف علیہ السلام کے بارے میں جو الزام تراشی کی ہے،وہ جھوٹ ہے۔
اور ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ:یوسف علیہ السلام کے بھائی اس وقت انبیاء نہیں تھے۔ (القرطبی: ۹؍۲۲۸)
سوال: یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی طرف جھوٹ کی نسبت کیسے کی گئی جبکہ وہ انبیاء یعنی پیغمبر تھے؟