قرآن
ﮘ
ﱄ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ٢٣ ٢٣ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ٢٤ ٢٤ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ
ﮚ ٢٥ ٢٥ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ٢٦ ٢٦ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ٢٧ ٢٧ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ٢٨ ٢٨ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ
٢٩ ٢٩ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ
ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ٣٠ ٣٠
وَرَٰوَدَتۡهُ ٱلَّتِي هُوَ فِي بَيۡتِهَا عَن نَّفۡسِهِۦ
یوسف علیہ السلام کے لئے یہ عظیم آزمائش اُن کے بھائیوں کی آزمائش سے زیادہ بڑی تھی اور یہاں صبر کرنابھائیوں کے ذریعہ دی گئی تکلیف پر صبر کرنے کی بہ نسبت کہیں زیادہ اجروثواب کا باعث تھا۔اس لئے کہ یہاں کا صبر اختیاری تھا اوریہاں اس برے کام کے سرزد ہوجانے کے بہت سے اسباب موجود تھے لیکن یوسف علیہ السلام نے گناہ کے ان تمام اسباب اور خواہشات پر اللہ کی محبت کو ترجیح دی۔ اور رہی وہ آزمائش جو انہیں اپنے بھائیوں کے ذریعہ پیش آئی تو وہاں ان کا صبر کرنا اختیاری نہیں تھا اضطراری تھا ان بیماریوں اور تکلیفوں کی طرح جو بندے کو اس کی چاہت کے بغیر گھیر لیتی ہیں اور ان پر صبر کے سواکوئی چارہ نہیں ہوتا۔اب وہ چاہے تو خوشی سے صبر کرے یا ناگواری سے کرے۔ (السعدی؍۳۹۶)
سوال:یوسف علیہ السلام کی کون سی مصیبت زیادہ بڑی اور زیادہ اجر والی تھی اور کیوں؟ بھائیوں کے ساتھ پیش آنے والی مصیبت یا اپنے مالک کی بیوی کے ساتھ پیش آنے والی مصیبت؟
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ رَبِّيٓ أَحۡسَنَ مَثۡوَايَۖ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٢٣
(معاذ الله) اللہ کی پناہ!یعنی:میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور تم مجھے جس گناہ کی طرف بلارہی ہو اس سے اللہ کی حفاظت اور بچاؤ چاہتا ہوں۔(البغوی: ۲؍۴۴۹)
سوال:گناہ اور نافرمانی سے بچنے کے لئے اللہ کی پناہ مانگنا کتنا اہم اورعظیم الشان عمل ہے؟بیان کیجئے.
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ رَبِّيٓ أَحۡسَنَ مَثۡوَايَۖ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٢٣ وَلَقَدۡ هَمَّتۡ بِهِۦۖ وَهَمَّ بِهَا لَوۡلَآ أَن رَّءَا بُرۡهَٰنَ رَبِّهِۦۚ كَذَٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلۡفَحۡشَآءَۚ إِنَّهُۥ مِنۡ عِبَادِنَا ٱلۡمُخۡلَصِينَ ٢٤
خلاصہ یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام نے اپنے لئے جن چیزوں کو اس برے کام سے روکنے والی قرار دیا وہ یہ ہیں: اللہ کا تقویٰ، اپنے مالک کے حق کا پاس ولحاظ جس نے ان کے ساتھ عزت واحسان کا برتاؤکیا تھا اور اپنے آپ کو اس ظلم سے بچانا جس کا ارتکاب کرنے والا کامیاب نہیں ہوتا۔ او ر اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی احسان سے انہیں ایمان کی برہان ودلیل سے نوازا تھاجو اُن کے دل میں رچی بسی تھی۔دل میں موجود ایمان کی یہ روشنی یوسف علیہ السلام سے اللہ کے حکموں کو ماننے اور اس کی منع کردہ چیزوں سے بچنے کا تقاضہ کررہی تھی۔او ر ان ساری چیزوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام سے برائی اور فحش عمل کو دور ہٹادیا تھا۔(السعدی؍۳۹۶)
سوال: وہ کون سی چیزیں تھیں جنہوں نے یوسف علیہ السلام کو گناہ سے دور رہنے میں مدد دی؟
وَلَقَدۡ هَمَّتۡ بِهِۦۖ وَهَمَّ بِهَا لَوۡلَآ أَن رَّءَا بُرۡهَٰنَ رَبِّهِۦۚ كَذَٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلۡفَحۡشَآءَۚ إِنَّهُۥ مِنۡ عِبَادِنَا ٱلۡمُخۡلَصِينَ ٢٤
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (ولقد همت به وهم بها لولا أن رأى برهان ربه) اور حقیقت یہ ہے کہ اس عورت نے یوسف علیہ السلام کا قصد کیا، اور یوسف علیہ السلام بھی اس عورت کا قصد وارادہ کرلیتے، اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتے۔یہ برہان دراصل ایمان کی برہان تھی جو ان کے دل میں موجود تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دل کی اس برہان کو ذریعہ بناکر انہیں برائی کے ارادے سے بچالیااور ان کے لئے پوری پوری نیکی لکھ دی۔(ابن تیمیہ: ۴؍۳۴)
سوال: وہ کون سی برہان تھی جسے یوسف علیہ السلام نے دیکھا تھا؟
كَذَٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلۡفَحۡشَآءَۚ إِنَّهُۥ مِنۡ عِبَادِنَا ٱلۡمُخۡلَصِينَ ٢٤
اس سے معلوم ہوا کہ اخلاص،شیطان کے تسلط اور غلبہ سے بچاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (كذلك لنصرف عنه السوء والفحشاء إنه من عبادنا المخلصين) یونہی ہوا اس واسطے کہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی دور کردیں بیشک وہ ہمارے چنیدہ بندوں میں سے تھے۔(ابن تیمیہ: ۴؍۳۶)
سوال: اخلاص شیطانی تسلط سے بچاتا ہے۔آیت سے یہ بات آپ کو کیسے معلوم ہوئی؟
وَٱسۡتَبَقَا ٱلۡبَابَ
مومن بندے کے سامنے جب ایسا موقع آجائے جس میں فتنہ ہو اور گناہ ہو تو اسے چاہئے کہ جہاں تک ہوسکے اس جگہ سے فرار کا راستہ اختیار کرے تاکہ وہ گناہ سے بچ سکے۔اس لئے کہ یوسف علیہ السلام جس عورت کے گھر میں رہ رہے تھے جب اس نے ان پرڈورے ڈال کر پھسلایا اور ورغلایا تو وہ اس کی برائی سے بچنے کے لئے دروازے کی طرف لپک کر بھاگے۔(السعدی؍۴۰۹)
سوال: یوسف علیہ السلام کے گناہ کی جگہ سے بھاگ کھڑے ہونے سے آپ کیا فائدہ بیان کریں گے؟
قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّاۖ
ایسی محبت سے بچنا چاہئے جس سے نقصان پہنچنے کا ڈر ہو،کیونکہ عزیز مصر کی بیوی کی طرف سے جو کچھ بھی ہواوہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ اس کی خلوت وتنہائی اور اس کی ان سے والہانہ محبت کی وجہ سے ہوا۔ اس محبت نے اس عورت کواس حدتک گھیرلیا کہ وہ یوسف علیہ السلام کو پھسلانے اور ورغلانے لگی۔ پھر ان کے خلاف صاف جھوٹ بول کر ان پر تہمت لگادی جس کی وجہ سے یوسف علیہ السلام لمبی مدت تک جیل میں قید رہے۔ (السعدی؍۴۰۹)
سوال:مرد وعورت کی وہ محبت جو ازدواجی تعلق سے ہٹ کر ہوتی ہے اس کے پیچھے چلنا کتنا خطرناک ہے؟