قرآن
ﮘ
ﱄ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ٥ ٥ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ٦ ٦ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ٧ ٧ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ٨ ٨
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ٩ ٩ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ١٠ ١٠ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ١١ ١١ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ١٢ ١٢ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ١٣ ١٣ ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ١٤ ١٤
قَالَ يَٰبُنَيَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلَىٰٓ إِخۡوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيۡدًاۖ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ لِلۡإِنسَٰنِ عَدُوّٞ مُّبِينٞ ٥
(لا تقصص رؤياك على إخوتك)اپنا خواب اپنے بھائیوں کونہ بتانا۔ چونکہ یعقوب علیہ السلام کو خواب کی تعبیر اچھی طرح معلوم تھی کہ یوسف علیہ السلام بڑا اونچا مقام اور بلند مرتبہ پانے والے ہیں اسی لئے انہو ں نے یوسف علیہ السلام سے یہ بات کہی۔ کیونکہ انہیں یوسف کے بھائیوں کی جانب سے حسد وجلن کا ڈر تھا۔ (ابن جُزی: ۱؍۴۱۰)
سوال:آیت نے حسد سے بچنے کے راستوں میں سے ایک راستہ بیان کیا ہے۔وہ کیا ہے؟
قَالَ يَٰبُنَيَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلَىٰٓ إِخۡوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيۡدًاۖ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ لِلۡإِنسَٰنِ عَدُوّٞ مُّبِينٞ ٥
یہاں سے یہ حکم ملتاہے کہ نعمت کو چھپانا چاہئے یہاں تک کہ وہ مل جائے او رکھل کر ظاہر ہوجائے۔
سوال:جب اللہ آپ کو کوئی نعمت دے تو آپ کب اسے ظاہرکریں گے اور کب چھپائیں گے؟
قَالَ يَٰبُنَيَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلَىٰٓ إِخۡوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيۡدًاۖ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ لِلۡإِنسَٰنِ عَدُوّٞ مُّبِينٞ ٥
صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے کوئی شخص جب ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا لگے تو-سمجھ لے کہ- یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے،اس پر اللہ کی حمد وثنا کرے اور اس خواب کو بیان کرے۔لیکن جب اس سے ہٹ کر کوئی براخواب دیکھے توجان لے کہ وہ یقینا شیطان کی طرف سے ہے۔ ایسی صورت میں اسے چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے کہ وہ شیطان مردود سے اور اس کے شر سے بچائے او ر اس خواب کو کسی سے بیان نہ کرے۔ایسا کرنے سے یہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائیگا” ۔
جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے کوئی شخص جب ناپسندیدہ خواب دیکھے تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوکے او ر مردود شیطان سے بچاؤ کے لئے اللہ کی حفاظت وپناہ میں آجائے اور جس پہلو پر لیٹا ہوا تھا وہ پہلو بدل لے”۔ (الألوسی: ۱۲؍۵۱۴)
سوال: خواب کے بارے میں نبی ﷺ کی ہدایت کیا ہے؟
لَّقَدۡ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخۡوَتِهِۦٓ ءَايَٰتٞ لِّلسَّآئِلِينَ ٧
یعنی: ہر اس شخص کے لئے جو زبان ِحال یا زبان ِقال کے ذریعہ یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے اس قصہ کے بارے میں سوال پوچھتا ہےکیونکہ سوال پوچھنے والے لوگ ہی اللہ کی آیتوں اور نصیحتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔رہے وہ لوگ جو متوجہ ہونے كے بجائے کتراتے اور منہ موڑتےہیں تو وہ نہ آیتوں سے کوئی فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ قصوں اور واضح دلیلوں سے فائدہ اٹھاپاتے ہیں۔ (السعدی؍۳۹۴)
سوال:آیتوں سے فائدہ اٹھانے میں صرف سوال پوچھنے والوں کو خاص کیو ں کیا گیا ہے؟
ٱقۡتُلُواْ يُوسُفَ أَوِ ٱطۡرَحُوهُ أَرۡضٗا يَخۡلُ لَكُمۡ وَجۡهُ أَبِيكُمۡ وَتَكُونُواْ مِنۢ بَعۡدِهِۦ قَوۡمٗا صَٰلِحِينَ ٩
یہ آیت برے اخلاق کے عبرتناک بیان پر مشتمل ہے اور وہ ہے کسی فضیلت والے شخص کو راستہ سے ہٹاکر چھٹکاراحاصل کرنا کہ آدمی خود کو کسی فضیلت وصلاحیت والے سے کمتر یا برابری والا دیکھ کر اسے اپنے لئے رکاوٹ سمجھے اور راستہ سے ہٹانے کے لئے اسے مارڈالے۔ یہ انتہائی سنگین جرم ہے کیونکہ اس میں حسد وجلن بھی ہوتی ہے،دوسرے کو نقصان پہنچانا بھی شامل ہوتا ہے،ساتھ ہی اس چیزکی پامالی بھی ہوتی ہے اللہ نے جس کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ مگر چونکہ وہ دین والے لوگ تھے نیز وہ نبوت کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے چنانچہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کردی،ان کی تعریف کی اور انہیں “اَسْبَاط” کا نام بھی دیا۔ (ابن عاشور: ۱۲؍۲۲۳)
سوال: یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا نکتۂ نظربڑی عبرتناک چیز پر مشتمل ہے جس کی طرف برا اخلا ق کھینچ لاتا ہے جیسے حسد۔ اس بات کو بیان کیجئے.
ٱقۡتُلُواْ يُوسُفَ أَوِ ٱطۡرَحُوهُ أَرۡضٗا يَخۡلُ لَكُمۡ وَجۡهُ أَبِيكُمۡ وَتَكُونُواْ مِنۢ بَعۡدِهِۦ قَوۡمٗا صَٰلِحِينَ ٩
انہوں نے گناہ کرنے سے پہلے ہی توبہ کرنے کا عزم وارادہ کرلیا تاکہ اس کا ارتکاب آسان ہوجائے،اس کی برائی کا احساس جاتا رہے اور اس گناہ کو انجام دینے کے لئے ایک دوسرے کے اندر جوش اور حوصلہ بڑھائیں۔ (السعدی؍۳۹۵)
سوال:آیت نے نیک لوگوں کو گناہ میں پھانسنے کے لئے شیطان کے ہتھکنڈوں میں سے ایک ہتھکنڈے کا ذکر کیا ہے۔و ہ کیا ہے؟
ٱقۡتُلُواْ يُوسُفَ أَوِ ٱطۡرَحُوهُ أَرۡضٗا يَخۡلُ لَكُمۡ وَجۡهُ أَبِيكُمۡ وَتَكُونُواْ مِنۢ بَعۡدِهِۦ قَوۡمٗا صَٰلِحِينَ ٩
ایک گناہ اپنے ساتھ کئی اور گناہوں کو کھینچ لاتا ہے اور اسے کرنے والا دوسرے کئی جرائم کے بعد ہی اس ایک گناہ کو پورا کرپاتا ہے ۔چنانچہ دیکھئے جب یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان کے اور والد کے بیچ جدائی ڈالنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اس مقصد کے لئے کئی قسم کی چالیں چلیں،باربارجھوٹ سے کام لیا،پھر یوسف علیہ السلام کی قمیص اور اس میں لگائے گئے جھوٹ موٹ کے خون کے بارے میں اور شام ڈھلے روتے پیٹتے ہوئے آنے میں اپنے والد کے سامنے ڈھونگ رچایا۔ (السعدی: ۳۹۵)
سوال: ایک گناہ اپنے پیچھے کئی گناہو ں کو سمیٹ لاتا ہے۔آیتوں کو سامنے رکھ کر اس بارے میں بتائیے.