قرآن
ﮗ
ﱄ
١١٨ ١١٨ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ١١٩ ١١٩ ﭯ ﭰ
ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ١٢٠ ١٢٠ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ١٢١ ١٢١ ﮌ ﮍ ﮎ
١٢٢ ١٢٢ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ١٢٣ ١٢٣
ﮘ
ﮬ ﮭ ﮮ ٢ ٢ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ٣ ٣ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ٤ ٤
وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ ٱلنَّاسَ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخۡتَلِفِينَ ١١٨ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمۡۗ وَتَمَّتۡ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجۡمَعِينَ ١١٩
آیت میں بتایا گیا ہے کہ اختلاف سے وہی لوگ بچیں گے جن پر اللہ کی رحمت ہوگی اور یہ رحمت پانے والے خوش قسمت لوگ وہی ہیں جو قول و عمل میں انبیاء کرام علیہم السلام کی اتباع کرنے والے تھے۔ اور اس امت میں یہ۔خوش نصیب۔ لوگ قرآن وحدیث کو ماننے والے اور ان پر چلنے والے لوگ ہیں چنانچہ جو کوئی ان۔اہل ِقرآن وحدیث۔ کی کسی چیز میں مخالفت کریگا تو وہ اسی کے بقدر رحمت سے محروم ہوجائیگا۔ چونکہ فلاسفہ، عقلانیت پسند لوگ انبیاء کرام کی اتباع کرنے میں دوسروں سے بہت زیادہ دور ہوتے ہیں اس لئے ان کے یہاں اختلاف سب سے بڑھ کر ہوتا ہے۔اسی طرح خوارج،معتزلہ اور روافض کا معاملہ ہے۔چونکہ یہ لوگ بھی دوسروں کے مقابلہ میں قرآن وحدیث سے زیادہ دور ہیں اس لئے وہ اس معاملہ میں پھوٹ اور اختلاف کے سب سے زیادہ شکار ہیں۔ خاص طور سے رافضی لوگ۔ کہا جاتا ہے کہ: روافض تمام گروہوں میں سب سے زیادہ اختلاف کرنے والا گروہ ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ تمام گروہوں کے مقابلہ میں سنت اور جماعت سے سب سے زیادہ دور ہیں۔(ابن تیمیہ: ۳؍۵۶۲)
سوال: آیت نے کس طرح یہ بات بیان کی ہے کہ اہل ِسنت لوگوں میں سب سے کم اختلاف والے اور اہل بدعت سب سے زیادہ اختلاف والے ہیں؟
وَكُلّٗا نَّقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَۚ
تاکہ نبیﷺ کو اطمینان وسکون، مضبوطی اور جماؤ حاصل ہو اور آپ ویسے ہی صبر کریں جیسے اولوالعزم (بلند ہمت)رسولوں نے صبر کیا تھا کیونکہ انسانی نفس- نمونہ اور مثال کی- پیروی سے مانوس ہوتا ہے،اس میں عمل کرنے کا شوق پیدا ہوتا اور امنگ بڑھ جاتی ہے۔وہ دوسروں کا مقابلہ کرنے اور ان سے آگے بڑھنے کا جذبہ وارادہ رکھتا ہے۔اسی طرح حق کی گواہی دینے والی چیزوں کو ذکر کرنے سے اور ان پر چلنے والوں کی زیادتی سے حق کو تائید ملتی ہے اور اہل ِحق کو قوت وحوصلہ حاصل ملتا ہے۔ (السعدی: ۳۹۲)
سوال: قصوں کو بیان کرنے میں کون سی وجوہات ہیں جو دل کو مضبوط کرتی اور اسے اطمینان دلاتی ہیں؟
وَلِلَّهِ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَإِلَيۡهِ يُرۡجَعُ ٱلۡأَمۡرُ كُلُّهُۥ فَٱعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ ١٢٣
اللہ پر بھروسہ کرنا اور اس سے مدد مانگنا اس کی عبادات میں سے ہے لیکن یہاں اسے خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے تاکہ عبادت کرنے والا بندہ اس کا خاص اہتما م کرے کیونکہ ہر قسم کی عبادت میں اسی سے مدد ملتی ہے اس لئے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت اس کی مدد کے بغیر نہیں کی جاسکتی۔ (ابن تیمیہ: ۳؍۵۶۳)
سوال: اللہ پر بھروسہ کرنے کو یہاں خاص طور پر کیوں ذکر کیا گیا ہے جبکہ وہ عبادات کے مجموعہ میں شامل ہے؟
إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ قُرۡءَٰنًا عَرَبِيّٗا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ ٢
یہ اس لئے کہ عربی زبان دوسری تمام زبانو ں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ فصیح،سب سے زیادہ واضح اور وسیع زبان ہے۔ نیز انسانی جذبات اور دل کے احساسات کو سب سے بہتر انداز میں ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام کتابوں میں سب سے اعلیٰ واشرف اورافضل کتاب کو سب سے اعلیٰ واشرف اورافضل زبان میں نازل کیا گیا۔(ابن کثیر: ۲؍۴۴۸)
سوال:قرآن کو عربی زبان میں کیوں نازل کیا گیا؟
إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ قُرۡءَٰنًا عَرَبِيّٗا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ ٢
سب سے افضل اوراعلیٰ کتاب کو سب سے افضل زبان میں سب سے افضل رسول پر سب سے افضل فرشتے کے واسطے سے نازل کیاگیا۔نیز اس کا نزول روئے زمین کے سب سے افضل حصہ میں ہوا اور اسے نازل کرنے کی شروعات بھی سال کے سب سے افضل مہینے یعنی رمضان المبارک میں ہوئی اس طرح ہر اعتبار سے کامل ہوگئی۔ (ابن کثیر: ۲؍۴۴۸)
سوال:قرآن کا شرف اور فضیلت کئی طرح سے ہے۔شرف کی ان صورتوں کو بیان کیجئے.
نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ أَحۡسَنَ ٱلۡقَصَصِ
یہ قصہ سب سے اچھا،سب سے واضح اور صریح قصہ ہے اس لئے کہ اس میں حالات کی تبدیلی کی متعدد صورتیں ہیں۔تبدیلی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف،ایک آزمائش وامتحان سے دوسری آزمائش وامتحان کی طرف،آزمائش وامتحان سے اللہ کی نوازش اور احسان کی طرف،ذلت سے عزت کی طرف، غلامی سے بادشاہی کی طرف،اختلاف وانتشار سے اتحاد واتفاق کی طرف،رنج وغم سے خوشی کی طرف،آسودگی اور فراخی و شادابی سے قحط وخشک سالی کی طرف،خشک سالی سے آسودگی کی طرف،تنگی سے کشادگی کی طرف اور انکار سے اقرار کی طرف۔ (السعدی: ۴۰۷)
سوال: یوسف علیہ السلام کا قصہ سب سے اچھااور بہترین قصہ کیوں ہے؟
نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ أَحۡسَنَ ٱلۡقَصَصِ
یہ بات اچھی طرح معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود بتایاہے کہ وہ اس کتاب میں اپنے رسول ﷺ سے بہترین قصہ بیان فرمائیگا۔ اس کے بعد یوسف علیہ السلام کا یہ قصہ تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔نیز اس قصہ میں جو جو واقعات ہوئے اس کی منظر کشی کردی۔لہذا اس سے یہ معلوم ہوا کہ قرآن میں بیان کردہ یہ قصہ پورا ہے،کامل ہے،خوبصورت اور دلنشین ہے۔ اب اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ اس قصہ کے بارے میں بیان کی جانے والی اسرائیلی روایات کا سہارالے،اسے اور مکمل کرے، اسے مزید خوبصورت اوردلکش بنائے جبکہ ان روایتوں کی کسی سند کا پتہ ہے نہ نقل کرنے والا معلوم ہے۔اب جو ایسی روایتوں کے ذریعہ اس قصہ کی تکمیل وتحسین کرنا چاہتا ہے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی ذات پر استدراک کرتا ہے ۔ (السعدی: ۳۹۳)
سوال: اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو یوسف علیہ السلام کے قصہ میں ایسی باتیں بڑھاتا اور ملاتاہے جو نہ قرآن میں ہیں اور نہ سنت میں؟