قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٩٨ ٩٨

٩٩ ٩٩

١٠٠ ١٠٠

ﭿ
١٠١ ١٠١


١٠٢ ١٠٢

١٠٣ ١٠٣

١٠٤ ١٠٤

١٠٥ ١٠٥

١٠٦ ١٠٦

١٠٧ ١٠٧

ﯿ
١٠٨ ١٠٨
233
سورۃ هود آیات 0 - 98

يَقۡدُمُ قَوۡمَهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فَأَوۡرَدَهُمُ ٱلنَّارَۖ وَبِئۡسَ ٱلۡوِرۡدُ ٱلۡمَوۡرُودُ ٩٨

فرعون جہنم کی طرف اپنی قوم کی رہنمائی کریگا۔ کیونکہ وہ ان کا سردار اور پیشوا تھا۔(القرطبی: ۱۱؍۲۰۴)
سوال:جو دنیا میں برائی کی طرف لوگوں کی اگوائی کریگا وہ قیامت کے دن جہنم کی طرف لے جانے میں بھی ان کا پیشوا ہوگا۔اس بات کی وضاحت کیجئے.

سورۃ هود آیات 0 - 98

يَقۡدُمُ قَوۡمَهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فَأَوۡرَدَهُمُ ٱلنَّارَۖ وَبِئۡسَ ٱلۡوِرۡدُ ٱلۡمَوۡرُودُ ٩٨

جس طرح وہ لوگ دنیا میں فرعون کے پیچھے چلتے تھے اور وہ ان کا اگوا،پیشوا اور سردار تھا اسی طرح قیامت کے دن وہ جہنم کی آگ کی طرف آگے آگے چلے گا پھر انہیں اس میں پہنچائیگا۔تب وہ جہنم کے ہلاکت کے گڑھوں میں غوطہ لگائیں گے،تباہی کے گھونٹ پئیں گے جس میں فرعون کا بڑاحصہ ہوگااور پھر سب سے بڑا اور بھیانک عذاب ہوگا۔ (ابن کثیر: ۲؍۴۴۰)
سوال: قیامت کے دن فرعون اپنی قوم کے آگے چلے گااور ان کاسردار ہوگا۔کیوں؟

سورۃ هود آیات 0 - 101

وَمَا ظَلَمۡنَٰهُمۡ وَلَٰكِن ظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡۖ

(وظلموا أنفسهم)انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا تھا۔کفر اور گناہ کرکے۔(البغوی: ۲؍۴۲۳)
سوال:بندہ خود اپنے آپ پر ظلم کیسے کرتا ہے؟

سورۃ هود آیات 0 - 101

فَمَآ أَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ ءَالِهَتُهُمُ ٱلَّتِي يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖ لَّمَّا جَآءَ أَمۡرُ رَبِّكَۖ

اور اسی طرح وہ شخص جو مصیبت اور سختی میں پڑجانے پر اللہ کے علاوہ دوسروں کی پناہ لیتا ہے۔ تو اس کا یہی حال ہوتا ہے کہ غیر اللہ اسےمصیبت کے وقت کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے ۔(السعدی: ۳۸۹)
سوال:جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے کی پناہ اور آسرا لیتاہے اس کاکیا حال ہوتا ہے؟

سورۃ هود آیات 0 - 102

وَكَذَٰلِكَ أَخۡذُ رَبِّكَ إِذَآ أَخَذَ ٱلۡقُرَىٰ وَهِيَ ظَٰلِمَةٌۚ إِنَّ أَخۡذَهُۥٓ أَلِيمٞ شَدِيدٌ ١٠٢

جھوٹے،بدعمل،گناہگارشخص کو اگر حکومت اور اقتدار مل بھی جائے تب بھی اس کا پورے طور پر مٹ جانا اور ختم ہوجانا یقینی بات ہے اور دنیا میں باقی رہیں گی اس کی برائیاں اوربدنامی۔ایسا برا شخص تیزی سے ابھرتا ہے اور تیزی سے ڈوبتا بھی ہے۔ (ابن تیمیہ: ۳؍۵۵۷)
سوال: آیت کی روشنی میں بتائیے کہ ظالم بستیوں کو پکڑنے میں اللہ تعالیٰ کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟

سورۃ هود آیات 0 - 106

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُواْ فَفِي ٱلنَّارِ لَهُمۡ فِيهَا زَفِيرٞ وَشَهِيقٌ ١٠٦

ان کے ہولناک جہنمی حالات میں سے چیخنے،چلانے اور دہاڑیں مارنے کا خاص طور سے ذکر کیا گیا ہے تاکہ جہنم کی طرف لے جانے والے اسباب اور کاموں سے نفرت دلائی جائے کیونکہ ان دوحالتوں کاذکر ان کوسخت گھبراہٹ میں مبتلا کردینے والا ہے اور یہ احساس درد سے زیادہ ڈراونا اور خوفناک ہے۔ (ابن عاشور: ۱۲؍۱۶۵)
سوال: جہنمیوں کے چیخنے،چلانے اور دہاڑیں مارنے کی ان دوحالتوں کو خاص طور پر کیوں ذکر کیا گیا؟

سورۃ هود آیات 0 - 106

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُواْ فَفِي ٱلنَّارِ لَهُمۡ فِيهَا زَفِيرٞ وَشَهِيقٌ ١٠٦

(زفير)چلانے کی بھیانک آواز،حلق سے نکلے گی اور (شهيق) دہاڑنے کی تیز آوازسینہ سے نکلے گی۔
مطلب یہ ہے کہ اہل ِجہنم کا سانس لینا زفیر ہوگا اور سانس چھوڑنا شہیق ہوگا۔حلق اور سینہ سے یہ تیز آوازیں اس لئے نکلیں گی کہ وہ عذاب میں ہوں گے۔اس سے اللہ بچائے۔ (ابن کثیر: ۲؍۴۴۱)
سوال:اہل ِجہنم کے حالات میں اس بات کو بیان کرنے سے کیا مراد ہے کہ وہاں ان کی چیخیں اور دہاڑیں نکلیں گی؟