قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٣٨ ٣٨

٣٩ ٣٩

ﭿ
٤٠ ٤٠


٤١ ٤١

٤٢ ٤٢



٤٣ ٤٣


٤٤ ٤٤
ﯿ
٤٥ ٤٥
226
سورۃ هود آیات 0 - 38

وَيَصۡنَعُ ٱلۡفُلۡكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَأٞ مِّن قَوۡمِهِۦ سَخِرُواْ مِنۡهُۚ قَالَ إِن تَسۡخَرُواْ مِنَّا فَإِنَّا نَسۡخَرُ مِنكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُونَ ٣٨

نوح علیہ السلام کشتی بنانے میں مشغول ہوتے تو قوم کے لوگ آپ کے پاس سے گزرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ:اے نوح! پہلے تم نبی تھے اب بڑھئی بھی بن گئے؟(البغوی: ۲؍۳۹۹)
سوال: نیک لوگوں کا اونچا مرتبہ جاہلوں کو ان کا مذاق اڑانے سے نہیں روکتا۔اس بات کی وضاحت کیجئے.

سورۃ هود آیات 0 - 40

قُلۡنَا ٱحۡمِلۡ فِيهَا مِن كُلّٖ زَوۡجَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِ

یعنی:مخلوقات کی تمام قسموں میں سے ایک ایک جوڑا نرومادہ کشتی میں سوارکرلیں تاکہ ہر جنس کی نسل باقی رہے۔(السعدی: ۳۸۲)
سوال:اللہ نے نوح علیہ السلام کو یہ حکم کیوں دیا کہ اپنے ساتھ کشتی میں ہرجاندار کے ایک ایک جوڑے نرومادہ کو سوارکرلیں؟

سورۃ هود آیات 0 - 40

وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٞ ٤٠

(وما آمن معه إلا قليل) اور وہ تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ ایمان لائے تھے۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ اور کلام کے درمیان اس جملہ کو اس لئے لایا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ قصہ کا فائدہ مکمل ہوجائے کہ نیک لوگ عام طور سے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ (ابن عاشور: ۱۲؍۷۳)
سوال: اکثر نیک لوگ اپنی قوموں میں کم ہوتے ہیں۔اس بات کی دلیل دیجئے.

سورۃ هود آیات 0 - 41

وَقَالَ ٱرۡكَبُواْ فِيهَا بِسۡمِ ٱللَّهِ مَجۡرٜىٰهَا وَمُرۡسَىٰهَآۚ إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ ٤١

اس آیت میں ہر کام کی شروعات کے وقت بسم اللہ پڑھنے کی دلیل ہے۔ (القرطبی: ۱۱؍۱۲۱)
سوال: آیت سے کون سا عملی فائدہ معلوم ہوتا ہے؟

سورۃ هود آیات 0 - 41

وَقَالَ ٱرۡكَبُواْ فِيهَا بِسۡمِ ٱللَّهِ مَجۡرٜىٰهَا وَمُرۡسَىٰهَآۚ إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ ٤١

مغفرت اور رحمت کے حوالے سے پچھلی بات کی وجہ اور علت بیان کی گئی ہے۔اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ مومنوں کو بچالے گا۔اور یہ نجات دینا اللہ کی مغفرت اور رحمت کا حصہ ہے۔(ابن عاشور: ۱۲؍۷۴)
سوال:آیت کریمہ میں مغفرت اور رحمت کی تعلیل یعنی وجہ بیان کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ هود آیات 0 - 43

قَالَ سَـَٔاوِيٓ إِلَىٰ جَبَلٖ يَعۡصِمُنِي مِنَ ٱلۡمَآءِۚ قَالَ لَا عَاصِمَ ٱلۡيَوۡمَ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَۚ

اب کسی کو کوئی پہاڑ بچا سکتاہے اور نہ کوئی دوسری چیز۔ کوئی شخص عذاب سے بچنے کے لئے اپنی استطاعت بھر کتنے ہی ذرائع اختیار کرلے تب بھی اگر اللہ نہ چاہے تو وہ بچ نہیں پائیگا۔ (السعدی: ۳۸۲)
سوال: مشکلات اور پریشانیوں میں ہم اسباب سے تعلق قائم کریں یا اسباب پیدا کرنے والے اللہ سے لَو لگائیں؟

سورۃ هود آیات 45 - 46

وَنَادَىٰ نُوحٞ رَّبَّهُۥ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ٱبۡنِي مِنۡ أَهۡلِي وَإِنَّ وَعۡدَكَ ٱلۡحَقُّ وَأَنتَ أَحۡكَمُ ٱلۡحَٰكِمِينَ ٤٥ قَالَ يَٰنُوحُ إِنَّهُۥ لَيۡسَ مِنۡ أَهۡلِكَۖ إِنَّهُۥ عَمَلٌ غَيۡرُ صَٰلِحٖۖ

(فقال ربِّ إن ابني من أهلي)اور نوح علیہ السلام نے کہا کہ اے رب! میرا بیٹا تو میرے گھرانے کاہے۔ یعنی: تو نے تو میرے گھروالوں کو بچالینے کا مجھ سے وعدہ فرمایا تھا اور تیرا وعدہ سچا اور پورا ہوتا ہے تو پھر میرا بیٹا کیسے ڈوب گیا جبکہ تو سب سے بہترفیصلہ کرنے والا ہے۔(قال يا نوح إنه ليس من أهلك)اللہ نے جواب دیا اے نوح! وہ تیرے گھرانے کا نہیں جن کو بچانے کا میں نے وعدہ کیا ہے۔ اس لئے کہ میں نے تیرے گھروالوں میں سے اُن کو نجات دینے کا وعدہ کیا تھا جو ایمان لے آئے اور اسی لئے پہلے ہی فرمایا تھا: (وأهلك إلا من سبق عليه القول)اور اپنے گھر والوں کو بھی سوار کرلو سوائے ان لوگوں کے جن کے متعلق پہلے بتایا جاچکا ہےکہ وہ غرق ہوں گے۔ چنانچہ نوح علیہ السلام کا یہ بیٹا ان لوگوں میں سے تھا جن کے بارے میں ڈبوئے جانے کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا۔اس کے کفر کرنے اور اپنے باپ اور اللہ کے نبی نوح علیہ السلام کی مخالفت کرنے کی وجہ سے۔(ابن کثیر:۲؍۴۲۹)
سوال: آخرت میں قریبی رشتہ داروں کا ایک دوسرے کے کام آنے کی شرط ہے مسلم اور مومن ہونا۔اس بات کی وضاحت کیجئے.