قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮗ

ﱄ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ١٣ ١٣

ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ١٤ ١٤
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ١٥ ١٥
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ١٦ ١٦

ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ١٧ ١٧
ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ
ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ١٨ ١٨
ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ
ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ١٩ ١٩
223
سورۃ هود آیات 0 - 13

أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ فَأۡتُواْ بِعَشۡرِ سُوَرٖ مِّثۡلِهِۦ مُفۡتَرَيَٰتٖ وَٱدۡعُواْ مَنِ ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ١٣

جب اللہ تعالیٰ نے کافروں کوقرآن کی طرح کوئی کتاب لانے کا چیلنج دیا اور فرمایا: ﴿فَلۡيَأۡتُواْ بِحَدِيثٍ مِّثۡلِهِۦٓ ﴾ [الطور: 34]اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ چیلنج دیا کہ:وہ قرآن کے جیسی دس سورتیں ہی﴿بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِهِۦ﴾ [هود:13]لے آئیں۔مگر وہ اُس سے بھی عاجز رہے اور اِس سے بھی۔ پھر اللہ نے اور ایک مرتبہ چیلنج دیا کہ وہ قرآن کے جیسی ایک سورت ﴿بِسُورَةٍ مِّثۡلِهِۦ﴾ [يونس: 38]ہی لے آئیں۔تب بھی وہ بے بس اور لاچار رہے۔اس لئے کہ ساری مخلوق مل کر بھی قرآن کی طرح یا اس جیسی ایک سورت بھی نہیں لاسکتی۔ (ابن تیمیہ: ۳؍۵۰۹)
سوال:کافروں کو قرآن جیسا کلام لانے کا چیلنج درجہ بدرجہ دیاگیاہے۔اسے بیان کیجئے.

سورۃ هود آیات 13 - 14

قُلۡ فَأۡتُواْ بِعَشۡرِ سُوَرٖ مِّثۡلِهِۦ مُفۡتَرَيَٰتٖ وَٱدۡعُواْ مَنِ ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ١٣ فَإِلَّمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَكُمۡ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَآ أُنزِلَ بِعِلۡمِ ٱللَّهِ

پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اعجاز کو بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ کسی بھی انسان یا مخلوق کے بس میں نہیں ہے کہ وہ قرآن جیسا کلام پیش کرسکے۔اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی اس کے مثل پیش نہیں کرسکتا۔اس لئے کہ رب تعالیٰ کا کلام ِپاک کسی مخلوق کے کلام کے جیسا نہیں ہوسکتا۔ٹھیک اسی طرح جیسے رب کی صفات مخلوق کی صفات جیسی نہیں ہوسکتیں۔ (ابن کثیر: ۲؍۴۲۰)
سوال: قرآن جیسا کلام پیش کرنا کسی کے بس میں کیوں نہیں ہے؟

سورۃ هود آیات 0 - 14

فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَآ أُنزِلَ بِعِلۡمِ ٱللَّهِ وَأَن لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ

جن چیزوں میں صرف غالب گمان کافی نہیں ہے بلکہ علم یقین ضروری ہے انہیں میں سے قرآن کا علم اور توحید کا علم ہے۔ اس بات کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: (فاعلموا أنما أنزل بعلم الله وأن لا إله إلا هو)۔ (السعدی:۳۷۸)
سوال: (فاعلموا )یقین کرلو۔ کی تعبیرکس بات کی دلیل ہے؟

سورۃ هود آیات 0 - 15

مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيۡهِمۡ أَعۡمَٰلَهُمۡ فِيهَا وَهُمۡ فِيهَا لَا يُبۡخَسُونَ ١٥

جس شخص کا پورا پورا مقصد اور ارادہ دنیا وی زندگی ہی تک محدود ہو،اس کادل،عورتوں کی خواہش، بال بچوں کی چاہت،سونے چاندی کے خزانوں کی تمنا، منتخب گھوڑوں اور مویشیوں کی آرزو،کھیتی کی طلب اور ان جیسی چیزوں میں اٹکا رہتا ہو۔وہ اپنی پوری دلچسپی،دوڑدھوپ اور سارے کام انہی چیزوں کے پیچھے صرف کردےاور اس کے دل میں دارالقرار یعنی آخرت کے گھر کی کوئی چاہت نہ ہو۔ تو یہ شخص کافر ہی ہوگا کیونکہ اگر وہ ایمان والا ہوتا تو اس کے پاس موجود ایمانی جوہر اسے اس بات سے روکتا کہ وہ اپنے پورے ارادے کو صرف دنیا کی طلب میں جھونک دے۔(السعدی: ۳۷۹)
سوال:آپ اس بات پر کیسے دلیل پکڑیں گے کہ یہ آیت مشرکین کے ساتھ خاص ہے؟

سورۃ هود آیات 15 - 16

مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيۡهِمۡ أَعۡمَٰلَهُمۡ فِيهَا وَهُمۡ فِيهَا لَا يُبۡخَسُونَ ١٥ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَيۡسَ لَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ إِلَّا ٱلنَّارُۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُواْ فِيهَا وَبَٰطِلٞ مَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١٦

ایک بات یہ کہی گئی ہے :یہ معاملہ ریاکاری کرنے والوں کے لئے ہے جیسے حدیث میں ہے کہ ریاکار لوگوں سے کہا جائیگا: “صُمْتُمْ وصَلَّيْتُمْ وَتَصَدَّقْتُمْ وَجَاهَدْتُمْ وَقَرَأْتُمْ لِيُقَالَ ذٰلِكَ فَقَدْ قِيْلَ ذٰلِكَ” ۔ یعنی تم نے روزے رکھے، نمازیں پڑھیں،صدقات وخیرات کئے،جہاد کئے اور تلاوت وقرأت کیں تاکہ لوگوں میں تمہارے ان کاموں کا چرچا ہو سودنیا میں یہ چرچا ہوچکا۔اس کے بعد نبیﷺ نے فرمایا: “اِنَّ هٰؤُلَاءِ أَوَّلُ مَنْ تُسَعَّرُ بِهِمُ النَّار”۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ذریعہ سب سے پہلے جہنم کی آگ بھڑکائی جائیگی۔اس حدیث کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔روایت بیان کرنے کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ اس حدیث کے معنی کو (الفاظ کے فرق کے ساتھ)امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔(القرطبی: ۱۱؍۸۴)
سوال: بیان کیجئے کہ قیامت کے دن ریاکار لوگوں کا حال کیسا ہوگا؟

سورۃ هود آیات 0 - 17

أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّهِۦ وَيَتۡلُوهُ شَاهِدٞ مِّنۡهُ وَمِن قَبۡلِهِۦ كِتَٰبُ مُوسَىٰٓ إِمَامٗا وَرَحۡمَةًۚ أُوْلَٰٓئِكَ يُؤۡمِنُونَ بِهِۦۚ

اس کا مطلب ہے: بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہو،کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کا طالب ہے؟یا یہ معنی ہے کہ: جو شخص اپنےرب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہو وہ اس شخص کے جیسا کیسے ہوسکتا ہے جو گمراہی اور جہالت میں ڈوباہوا ہو! (البغوی: ۲؍۳۹۲)
سوال:جو شخص دنیا میں دل لگائے اور اٹکائے ہو اور جس کو اللہ نے حق کی ہدایت دی ہو۔کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟

سورۃ هود آیات 18 - 19

أَلَا لَعۡنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ ١٨ ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبۡغُونَهَا عِوَجٗا وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ كَٰفِرُونَ ١٩

(الذين يصدون)جو لوگ روکتے ہیں۔ خو د اپنے آپ کو اور دوسروں کو ایمان لانے اور اطاعت کرنے سے۔(ويبغونها عوجا) اور اس میں کجی ڈھونڈھتے ہیں یعنی: لوگوں کو اللہ کی راہ سے ہٹاکر نافرمانی اور شرک کی طرف پھیرتے ہیں۔ایمان سے ہٹاکر شرک کی طرف لے جاتے ہیں اور فرمانبرداری سے نافرمانی کی طرف۔ (القرطبی: ۱۱؍۹۲)
سوال: اللہ تعالیٰ نے آیت میں جن لوگوں پر لعنت وپھٹکار کی ہے ان کی کیا پہچان بتائی گئی ہے؟