قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٥٤ ٥٤

٥٥ ٥٥

ﭿ ٥٦ ٥٦


٥٧ ٥٧

٥٨ ٥٨


٥٩ ٥٩


٦٠ ٦٠


ﯿ
٦١ ٦١
215
سورۃ يونس آیات 0 - 55

أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ أَلَآ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٥٥

اکثر لوگ نہیں جانتے۔اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس سچائی کا علم رکھتے ہیں لیکن وہ ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کا انکار کرتے ہیں ۔(ابن عاشور:۱۱؍۲۰۰)
سوال: ان (ظالموں)کے اکثر لوگوں سے علم کی نفی کی گئی ہے تمام لوگوں سے نہیں۔کیوں؟

سورۃ يونس آیات 0 - 57

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡكُم مَّوۡعِظَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡ وَشِفَآءٞ لِّمَا فِي ٱلصُّدُورِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ ٥٧

(وشفاء لمَا في الصدور) یعنی:دلوں میں جہالت،شک، شبہ(کفر،نفاق وغیرہ)جو بھی بیماری ہوتی ہے قرآن ان تمام بیماریوں سے شفادلانے والاہے۔
(ابن جُزی: ۱؍۳۸۲)
سوال: قرآن دلو ں کی بیماریوں کے لئے شفاکیسے ہے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 57

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡكُم مَّوۡعِظَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡ وَشِفَآءٞ لِّمَا فِي ٱلصُّدُورِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ ٥٧

آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی چار صفات بیان فرمائی ہیں۔یہ چاروں صفات قرآن کے کمال اور اس کی عظیم الشان خصوصیات کی بنیادیں ہیں۔یہ چار اوصاف ہیں: 1۔قرآن نصیحت ہے۔2۔ دلوں کی بیماریوں کے لئے شفا ہے۔3۔ ہدایت ہے۔ 4۔ مومنوں کے لئے رحمت ہے۔ (ابن عاشور: ۱۱؍۱۰۲)
سوال: قرآن کی وہ چار صفات کون سی ہیں جو اس کے کمال کی بنیاد ہیں؟

سورۃ يونس آیات 0 - 57

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡكُم مَّوۡعِظَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡ وَشِفَآءٞ لِّمَا فِي ٱلصُّدُورِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ ٥٧

(وشفاءٌ لما في الصدور)یعنی دلوں کے اندر موجود شک،نفاق اور اختلاف و دشمنی جیسے روگ کے لئے شفا ہے۔(وهدىً) اور ہدایت ہے۔یعنی قرآن ہر اس شخص کو سیدھے راستے کی رہنمائی کرنے والا ہے جو اس کی اتباع کرے (ورحمةٌ)یعنی نعمت ہے-(للمؤمنين)مومنوں کے لئے۔ مومنوں کو خاص کیا کیونکہ یہی لوگ ایمان کی بدولت قرآن سے فائدہ اٹھانے والے ہیں۔(القرطبی:۱۱؍۱۰)
سوال: کیا ہر کوئی قرآن کی نصیحت اوراس کی دواء شافی سے فائدہ اٹھاتا ہے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 58

قُلۡ بِفَضۡلِ ٱللَّهِ وَبِرَحۡمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُواْ

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحمت پر خوش ہونے کا حکم بس اس لئے دیا ہے کہ یہی چیز ہے جو طبیعت کو خوش وخرم کرتی ہے ،اس میں جوش و امنگ پیدا کرتی ہے،دل کو اللہ کا شکر گزار بناتی ہے۔نفس کوقوت دیتی ہے اور ساتھ ہی انسان کے اندر علم اور ایمان کے شوق کی آگ بھڑکاتی ہے۔پھر یہی شوق ان دونوں یعنی علم اور ایمان کو بڑھانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ (السعدی؍۳۶۷)
سوال: اللہ کے فضل اور رحمت پر خوش ہونا چاہئے۔اللہ نے یہ حکم کیوں دیا ہے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 60

وَمَا ظَنُّ ٱلَّذِينَ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَشۡكُرُونَ ٦٠

(ولكن أكثرَهم لا يشكرون) لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔( ناشکری اور احسان نہ ماننے کی کئی صورتیں ہیں):یا تو لوگ نعمتوں کی سرے سے قدردانی اور شکر گذاری نہیں کرتے۔یا گناہ کے کاموں میں ان نعمتوں سے مدد لیتے ہیں۔ یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جو نعمتیں دی ہیں ان میں سے کچھ کو (اپنے جی سے)حرام ٹھہراکر اس کے احسان وانعام کوٹھکرادیتے ہیں۔(السعدی؍۳۶۷)
سوال:نعمت کا شکر نہ کرنے کی کیاکیا صورتیں ہیں؟

سورۃ يونس آیات 0 - 61

وَمَا تَكُونُ فِي شَأۡنٖ وَمَا تَتۡلُواْ مِنۡهُ مِن قُرۡءَانٖ وَلَا تَعۡمَلُونَ مِنۡ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيۡكُمۡ شُهُودًا إِذۡ تُفِيضُونَ فِيهِۚ وَمَا يَعۡزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثۡقَالِ ذَرَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِي ٱلسَّمَآءِ وَلَآ أَصۡغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡبَرَ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٍ ٦١

یہاں اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنے عام مشاہدے سے خبردار کررہا ہے ( کہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے) نیز بندوں کے حرکات وسکنات کے تمام حالات سے پوری طرح آگاہ ہے،(کوئی بھی چیز اس سےڈھکی چھپی نہیں ہے۔)اس خبر کے ضمن میں بندوں کو یہ دعوت بھی دی گئی ہے کہ ہمیشہ اللہ کی نگرانی کا خیال رکھنا ہے۔لہذا اپنے تمام کاموں میں اللہ کی نگرانی کا احساس رکھئے، اور تمام کاموں کو خیر خواہی اور بھلائی کے انداز میں خوب محنت اور کوشش کے ساتھ کیجئے اور ان چیزوں سے بچتے رہئے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا کیونکہ اللہ آپ سے پوری طرح آگاہ اور باخبر ہے اور آپ کے کھلے اور چھپے تمام معاملات کو جانتا ہے۔ (السعدی؍۳۶۷-۳۶۸)
سوال: “اللہ سبحانہ وتعالیٰ تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے”۔بندوں کو اللہ کی جانب سے یہ خبر دینے کا کیا مقصد ہے؟