قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٤٣ ٤٣

٤٤ ٤٤


٤٥ ٤٥
ﭿ
٤٦ ٤٦


٤٧ ٤٧

٤٨ ٤٨

٤٩ ٤٩


٥٠ ٥٠

٥١ ٥١
ﯿ
٥٢ ٥٢

٥٣ ٥٣
214
سورۃ يونس آیات 42 - 43

وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُونَ إِلَيۡكَۚ أَفَأَنتَ تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ وَلَوۡ كَانُواْ لَا يَعۡقِلُونَ ٤٢ وَمِنۡهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيۡكَۚ أَفَأَنتَ تَهۡدِي ٱلۡعُمۡيَ وَلَوۡ كَانُواْ لَا يُبۡصِرُونَ ٤٣

عقل،کان اور آنکھ وہ وسیلے ہیں جن سے انسان کو علم حاصل ہوتااور حقیقتوں کی جانکاری ملتی ہے۔اب جب مشرکین کی سمجھنے،سننے اور دیکھنے کی صلاحیتیں ہی بگڑگئیں تو پھر ان کے پاس حق تک پہنچانے والا راستہ اور ذریعہ کہاں رہ گیا! (السعدی ؍۳۶۵)
سوال: علم حاصل کرنے کے ذرائع کیا ہیں؟اور انسان اللہ کی شریعت کو جاننے سمجھنے میں کس طرح ان ذرائع سے پورا پورا فائدہ اٹھاسکتا ہے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 43

وَمِنۡهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيۡكَۚ

اللہ کا ارشاد: (ومنهم من ينظر إليك) یہ بتاتا ہے کہ نبی ﷺ کے حالات،آپ کی سیرت طیبہ،آپ کے اخلاق واعمال اور آپ کی دعوت وتعلیمات کی طرف دیکھناآپ کی سچائی پر اور آپ کے لائے ہوئے دین اور تعلیمات کے حق ہونے پر ایک بہت بڑی دلیل ہے اورسمجھدار انسان کے لئے آپ کے برحق ہونے کی دوسری دلیلیں نہ بھی ہوں تو بس یہی دلیل کافی ہے۔ (السعدی؍۳۶۵)
سوال: سیرت نبوی ﷺ کو پڑھنے اور پڑھانے کی کیا اہمیت ہے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 43

وَمِنۡهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيۡكَۚ أَفَأَنتَ تَهۡدِي ٱلۡعُمۡيَ وَلَوۡ كَانُواْ لَا يُبۡصِرُونَ ٤٣

ان میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو آپ ﷺ کی طرف دیکھتے ہیں اور آپ کی ان خوبیوں کو بھی دیکھتے ہیں جو اللہ نے آپ کو عطاکی ہیں: وقار و سنجیدگی، بہترین سیرت، بے مثال خوبصورتی اعلیٰ اخلاق، اور عقل و بصیرت والوں کے لئے آپ کی نبوت کو ثابت کرنے والی واضح نشانیاں۔ ہاں!یہ مشرکین نبی ﷺ کی طرف اگرچہ ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے دوسرے لوگ دیکھتے ہیں لیکن انہیں اس مشاہدہ سے کچھ بھی ہدایت نہیں ملتی جیسے دوسروں کو ملتی ہے۔دراصل اہل ِایمان آپ کو عزت ووقار کی نظر سے دیکھتے ہیں جبکہ یہ کفار آپ کو اہانت وحقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ (ابن کثیر: ۲؍۴۰۰)
سوال: نبی ﷺ کے حالات اور سیرت کو دیکھ کر مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں مگر مشرکین کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔کیوں؟

سورۃ يونس آیات 0 - 44

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظۡلِمُ ٱلنَّاسَ شَيۡـٔٗا وَلَٰكِنَّ ٱلنَّاسَ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ ٤٤

یعنی کفر وانکار کرکے گناہ اور نافرمانی کرکے اور اپنے خالق ومالک کے حکم کی خلاف ورزی کرکے۔(لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے اور اپنی تباہی کا انتظام کرتے ہیں۔) (القرطبی: ۱۰؍۵۰۷)
سوال: انسان اپنے اوپر کس طرح ظلم کرتا ہے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 45

وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ كَأَن لَّمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا سَاعَةٗ مِّنَ ٱلنَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيۡنَهُمۡۚ

یہ (اور اس معنی کی دوسری کئی آیتیں)سب اس بات کی دلیل ہیں کہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی مختصر ہے۔(ابن کثیر: ۲؍۴۰۱)
سوال: اس آیت کی روشنی میں آپ دنیا کی زندگی کوکس نظر سے دیکھتے ہیں؟

سورۃ يونس آیات 0 - 49

قُل لَّآ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِي ضَرّٗا وَلَا نَفۡعًا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۗ

(قل لا أملك لنفسي)(آپ ان سے فرمادیں:) کہ میں خود اپنی ذات کے لئے بھی کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتا۔ (ضرًا ولا نفعًا) یعنی کسی نقصان کو دور کرنے کا اور نہ کسی نفع کو حاصل کرنے کا۔ (إلا ما شاء الله)مگر وہی جو اللہ چاہے۔ کہ میں کرسکوں تو بس مجھے اتنا ہی اختیار ہے۔ (البغوی:۲؍۳۶۵)
سوال: جب نبی کریم ﷺ خود اپنی ذات کے لئے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے تھے تو کیا دوسروں کے لئے یہ اختیار اور قدرت رکھتے تھے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 50

قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُهُۥ بَيَٰتًا أَوۡ نَهَارٗا مَّاذَا يَسۡتَعۡجِلُ مِنۡهُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ ٥٠

(دن کے مقابلے میں عام طور سے رات کا لفظ استعمال کیاجاتاہے) کیونکہ اس میں تقابلی صورت(مقابلہ) ظاہر ہوتی ہے اس کے باوجود یہاں“لیل”(رات) کی بجائے “بیات”کے لفظ کو ترجیح دینے کا راز یہ ہے کہ لفظ ِ“بیات”(رات گذارنے)میں نیند اور غفلت کی حالت اور ایسے وقت کا معنی پایا جاتا ہے جس میں عام طور سے دشمن شب خون مارتا ہے اور اپنی کامیابی کی توقع رکھتا ہے اور سامنے والے کی غفلت کو بہترین موقع کے طور پر اپنے لئے استعمال کرتا ہے جبکہ “لیل”کے لفظ میں غفلت کایہ معنی ومفہوم نہیں پایا جاتا۔(القاسمی: ۴؍۲۵۶)
سوال:اس آیت میں( دن کے مقابلے میں رات کا ذکر کرنے کے لئے) “لیل” کی بجائے “بیات” کیوں کہا گیا ہے؟