قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١٠٦ ١٠٦


١٠٧ ١٠٧

ﭿ
١٠٨ ١٠٨




١٠٩ ١٠٩


١١٠ ١١٠


١١١ ١١١
ﯿ
١١٢ ١١٢
17
سورۃ البقرہ آیات 0 - 106

مَا نَنسَخۡ مِنۡ ءَايَةٍ أَوۡ نُنسِهَا نَأۡتِ بِخَيۡرٖ مِّنۡهَآ أَوۡ مِثۡلِهَآۗ أَلَمۡ تَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ ١٠٦

ناسخ ومنسوخ کی جانکاری انتہائی ضروری ہے اور اس کا بڑافائدہ بھی ہے،علماء اس کی معرفت سے بے نیاز نہیں رہ سکتے، اس کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جوپرلے درجہ کے ناسمجھ ہیں، کیوں کہ اسی علمِ نسخ کی بنیاد پر نئے پیش آنے والے احکام ومسائل متعین ومرتب ہوتے ہیں اوراسی سے حلال وحرام کی تمییز اور پہچان ہوتی ہے۔(القرطبی:۲؍۲۰۰)
سوال:جو شخص شرعی احکام مستنبط کرنا چاہتا ہے ،اس کے لئے شریعت میں نسخ کے باب سے مکمل آگہی کتنی اہم ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 107

" أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ ١٠٧

جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوااس کا کوئی حامی ومددگار نہیں تو قطعی طور سے اس پر بھی اس کا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ وہی کرے گا جو اس کے حق میں بہتر ہوگا ۔چنانچہ وہ اپنا ہر معاملہ اللہ کے سپرد کریگا۔(الألوسی:۱؍۳۵۴)
سوال:اللہ کی حمایت اور اس کی مددپر ایمان ویقین رکھنے کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 108

أَمۡ تُرِيدُونَ أَن تَسۡٔلُواْ رَسُولَكُمۡ كَمَا سُئِلَ مُوسَىٰ مِن قَبۡلُۗ

اس آیت میں ایسے سوالات مراد ہیں جو مشکل میں ڈالنے والے اور محض اعتراض ونکتہ چینی کی خاطر کئے جائیں رہے ایسے سوالات جن کے ذریعہ ہدایت ورہنمائی اور طلبِ علم مقصود ہو تووہ پسندیدہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ایسے سوالات پوچھنے کا حکم دیا ہے۔(السعدی:ص؍۶۲)
سوال:شرعی امور سے متعلق سوالات کب محمود ہوتے ہیں اور کب مذموم؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 109

وَدَّ كَثِيرٞ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَوۡ يَرُدُّونَكُم مِّنۢ بَعۡدِ إِيمَٰنِكُمۡ كُفَّارًا حَسَدٗا مِّنۡ عِندِ أَنفُسِهِم مِّنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلۡحَقُّۖ

(وَدَّ كَثِيرٌ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ)اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ تمنا کرتے ہیں۔یہ آیت حُیی بن أخطب اوران کے بھائی ابویاسر اور ان جیسے دیگریہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے،جو اس بات کی شدید خواہش رکھتے تھے کہ مسلمانوں کو فتنوں میں ڈال دیں اور محض حسد اور جلن کی بناپریہ بھی چاہتے تھے کہ انہیں اسلام سے واپس پھیر دیں۔(ابن جزی:۱؍۷۸)
سوال:اس شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو مسلمانوں کے خلاف اہل کتاب کی دشمنی کومعمولی اور ہلکا بناکر پیش کرتا ہے اور مسلمانوں کو سازش والا نظریہرکھنے کا الزام دیتا ہے؟ (یعنی ان کا الزام یہ ہے کہ مسلمان ہرقسم کے حوادث کو صرف سازش ہی سمجھتے ہیں).

سورۃ البقرہ آیات 0 - 112

بَلَىٰۚ مَنۡ أَسۡلَمَ وَجۡهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ فَلَهُۥٓ أَجۡرُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ١١٢

(بَلَىٰۚ مَنۡ أَسۡلَمَ وَجۡهَهُۥ لِلَّهِ)یعنی جو اللہ کے لئے مخلص ہو۔(وَهُوَ مُحۡسِنٌ)یعنی ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کی اتباع بھی کرے،کیونکہ عمل کی قبولیت کی دوشرطیں ہیں:1۔عمل صرف اللہ کے لئے خالص ہو۔2۔ عمل صحیح اور شریعت کے موافق ہو،پس عمل اگر خالص ہو لیکن درست (موافقِ شریعت)نہ ہو تو قبول نہیں کیا جائیگا۔(ابن کثیر:۱؍۱۴۷)
سوال:عمل کی قبولیت کی کیا شرطیں ہے؟اور اس کی دلیل کیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 112

بَلَىٰۚ مَنۡ أَسۡلَمَ وَجۡهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ فَلَهُۥٓ أَجۡرُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ١١٢

(مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ) یعنی جس نے دلی طور پر اللہ کی طرف متوجہ اور یکسو ہوکر خالص اسی کے لئے اپنے اعمال انجام دیئے۔(وَ هُوَ مُحْسِنٌ)یعنی وہ اچھی طرح اپنے رب کی عبادت کرنے والاہے بایں طور کہ وہ اس کی شریعت کے مطابق عبادت کرتاہے تو صرف یہی لوگ جنت کے مستحق ہیں…اس کامطلب یہ ہوا کہ جو ایسے نہ ہوں وہ ہلاک ہونے والے جہنمی ہیں۔غرض جہنم سے نجات انہی کو ملے گی جو اپنے معبود کی عبادت میں مخلص اور رسول ﷺ کے پیروکار ہیں۔(السعدی:ص؍۶۴)
سوال:ریا کاری اوربدعتیں کیوں مردود اور اللہ کے یہاں غیرمقبول ہوتی ہیں؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 112

بَلَىٰۚ مَنۡ أَسۡلَمَ وَجۡهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ فَلَهُۥٓ أَجۡرُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ١١٢

جنت میں وہی جائیگا جس نے اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کردیا۔یعنی جس نے اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کرلیا۔اس کا ایک مفہوم یہ بتایا گیا ہے کہ جس نے اپنی عبادت صرف اللہ کے لئے (خالص )کی۔اس کا ایک اور مفہوم یہ بتایا گیا ہے کہ جس نے اللہ کے لئے عاجزی اور تواضع اختیار کی، اور حقیقت میں اسلام کا معنی ہی خودسپردگی اور عاجزی اختیار کرنا ہے ۔
یہاں (چہرے) کو بطور خاص ذکر کیاگیاہے کیونکہ بندہ جب سجدہ کرنے میں اپنے چہرے کو جھکا دے گاتو بقیہ اعضاءِ جسم کو جھکانے میں بھی بخیلی نہیں کریگا۔(البغوی:۱؍۹۳)
سوال:اللہ کے فضل و کرم سے جنت میں داخل ہونے کا مستحق کون ہے؟