قرآن
ﮓ
ﱁ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ١٣٨ ١٣٨ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ١٣٩ ١٣٩ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ١٤٠ ١٤٠ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ١٤١ ١٤١ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ١٤٢ ١٤٢ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ١٤٣ ١٤٣
وَجَٰوَزۡنَا بِبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ٱلۡبَحۡرَ فَأَتَوۡاْ عَلَىٰ قَوۡمٖ يَعۡكُفُونَ عَلَىٰٓ أَصۡنَامٖ لَّهُمۡۚ قَالُواْ يَٰمُوسَى ٱجۡعَل لَّنَآ إِلَٰهٗا كَمَا لَهُمۡ ءَالِهَةٞۚ قَالَ إِنَّكُمۡ قَوۡمٞ تَجۡهَلُونَ ١٣٨
(إِنَّكُم قَومٌ تَجهَلُونَ): اور اس سے بڑی جہالت کیا ہوسکتی ہے جو اپنے رب اور اپنے خالق کو نہ پہچانے، اور اپنے رب کو کسی ایسی دوسری ذات کے برابر قرار دینے لگےجو نہ تو کسی نفع و نقصان کی مالک ہو اور نہ ہی موت و حیات اور دوبارہ اٹھائے جانے کا اختیار رکھتی ہو؟ (السعدی: ۳۰۲)
سوال: سب سے بڑی جہالت کیا ہے؟ اور کیوں؟
قَالُواْ يَٰمُوسَى ٱجۡعَل لَّنَآ إِلَٰهٗا كَمَا لَهُمۡ ءَالِهَةٞۚ قَالَ إِنَّكُمۡ قَوۡمٞ تَجۡهَلُونَ ١٣٨
موسیٰ علیہ السلام نے معبود بنانے کا مطالبہ کرنے والے لوگوں کے لئے جہالت کی صفت تاکید اور مضبوطی کے ساتھ بیان کی ہے جیسا کہ (إِنَّكُم قَومٌ تَجهَلُونَ)کے جملۂ اسمیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ (جملہ اسمیہ وہ جملہ ہے جو فعل کی بجائے اسم سے شروع ہوتا ہے ،اس کے معنی میں تاکید، زوراوردوام پایا جاتا ہے۔) جہالت ونادانی ان کے اندر ایک ثابت شدہ صفت تھی جو اُن کے دلوں میں پوری طرح جمی ہوئی تھی ۔اگر ایسا نہ ہوتا توپہلی نظرمیں وہ ایسے بیہودہ مطالبہ سے باز آجاتے ۔ (ابن عاشور: ۹؍۸۲)
سوال: آیت کریمہ کس طرح یہ بتاتی ہے کہ جہالت شرک تک پہنچانے کا ذریعہ بھی بنتی ہے؟
قَالَ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ أَبۡغِيكُمۡ إِلَٰهٗا وَهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٤٠
اللہ نے تمہیں (ٱلۡعَٰلَمِينَ) تمام اہلِ عالم اوردنیاکی قومو ں پر فضیلت دی ہے ۔ یہاں (ٱلۡعَٰلَمِينَ) سے مراد: ان کے زمانے میں موجود تمام قومیں ہیں۔ اور بنواسرائیل کو وقت کی تمام قوموں پر اللہ تعالیٰ نے جو فضیلت اور برتری بخشی تھی وہ کئی چیزوں میں تھی: (جو یہ ہیں)
بنی اسرائیل رسولوں اور نبیوں کی نسل سے تھے ۔
اس زمانے میں بھیجے جانے والے رسول اور انبیاء انہی میں سے منتخب ہوئے۔
اللہ نے انہیں توحید کی ہدایت دی اور فرعون کے دین سے چھٹکارا دیا جبکہ اس سے پہلے وہ فرعونی مذہب کے چکر میں پڑ کراپنے دین سے اندھے اور باؤلے ہوگئے تھے ۔
فضیلت دینے کا ایک پہلو یہ ہے کہ پہلے وہ فرعون کے غلام تھے ،اللہ نے انہیں آزاد بنادیا اور پھر انہیں برکت والی سرزمین یعنی شام کامالک اور حاکم بنادیا۔
اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ نے اپنی مدد اور نشانیوں کے ذریعہ ان کی تائید بھی کی اور ان کے درمیان پیغمبر بھیجا تاکہ وہ ان کے لئے اللہ کی شریعت نافذ اور قائم کرے ۔ یہ وہ فضیلتیں ہیں جو اس زمانے میں کسی بھی دوسری قوم کے حصے میں اکٹھا نہیں ہوئیں ،صرف بنی اسرائیل کو حاصل تھیں۔ (ابن عاشور: ۹؍۸۴)
سوال: آیت کریمہ میں (ٱلۡعَٰلَمِينَ)سے کیا مراد ہے ؟اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دنیا والوں پرکون کون سی فضیلتیں دی تھیں؟
وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَٰرُونَ ٱخۡلُفۡنِي فِي قَوۡمِي وَأَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِعۡ سَبِيلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ ١٤٢
چونکہ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے بڑے خیرخواہ تھے اور ان پر بے حد مہربان تھے اس لئے جب وہ اپنے رب کی مقررہ جگہ اور وقت (میقات) کے لئے روانہ ہونے لگے تو حضرت ہارون علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے فرمایا: (ٱخۡلُفۡنِي فِي قَوۡمِي) تم میرے بعد قوم میں میری جانشینی کرنا۔ یعنی: ان لوگوں کے بیچ تم میرے خلیفہ بنے رہواور ان کے درمیان وہی کام اور انتظام کرتے رہنا جو میں کرتا رہا ہوں ۔ (وَأَصۡلِحۡ) اور اصلاح کرتے رہنا۔ یعنی سدھار اور درستی والے راستے پر چلتے رہنا ۔ (وَلَا تَتَّبِعۡ سَبِيلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ) اورفساد یوں کی راہ سے دور رہنا۔یہی لوگ ہیں جو نافرمانی کے کام کرتے ہیں ۔ (السعدی: ۳۰۲)
سوال: انبیاء کرام علیہ السلام اپنی قوموں کے حق میں سب سے زیادہ شفقت ومہربانی والے اورخیر کے حریص ہوتے ہیں ۔ آیت کے تناظر میں اس بات کی وضاحت کیجئے
وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَٰرُونَ ٱخۡلُفۡنِي فِي قَوۡمِي وَأَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِعۡ سَبِيلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ ١٤٢
موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو خلیفہ بنایا اور انہیں وصیت وتاکید کی کہ اصلاح و سدھار میں لگے رہنا ،خرابی اور بگاڑ سے بچتے رہنا۔ موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے یہ باتیں دراصل یاددہانی کی خاطر تھیں ۔ورنہ معلوم ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام خود بھی اللہ کے یہاں شرف وعزت والے پسندیدہ نبی تھے ،ان کا اپنا اونچا مرتبہ تھا ،اونچی شان اور عظمت والے تھے ۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۳۴)
سوال: ہر نیک اور اچھا آدمی یاددہانی اور نصیحت کا ضرورت مند ہوتاہے حتی کہ انبیاء کرام علیہم السلام بھی ۔ آیت کی روشنی میں اس بات کو واضح کیجئے.
وَلَٰكِنِ ٱنظُرۡ إِلَى ٱلۡجَبَلِ فَإِنِ ٱسۡتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوۡفَ تَرَىٰنِيۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلۡجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكّٗا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقٗاۚ
کیونکہ (اے موسیٰ!)پہاڑ تم سے بہت بڑا ہے اور وہ تم سے بہت زیادہ مضبوط او ر ٹھوس مخلوق ہے(لہٰذا اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکوگے) ۔ (فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلۡجَبَلِ) پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی۔ تووہ تاب نہ لاسکااورجوں ہی رب کا سامنا ہوا ریزہ ریزہ ہوگیا ۔موسیٰ علیہ السلام نے رب کی جلوہ نمائی سے پہاڑ کے زمیں بوس ہونے کا یہ منظر دیکھا تو غش کھاگئے اور بے ہوش ہوکرگرپڑے۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۳۵)
سوال: آیت میں اللہ کی عظمت کا کچھ بیان ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.
فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبۡحَٰنَكَ تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٤٣
اس کی تفسیر میں ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ :حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ توبہ اللہ کی طرف اِنابت یعنی پلٹنے اور متوجہ ہونے کے طور پر تھی اوراللہ کی نشانیوں کے ظاہر ہونے کے بعد اس کے سامنے اپنی عاجزی کے اظہارکے لئے تھی ۔اور پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ توبہ کسی گناہ اور نافرمانی کی وجہ سے نہیں تھی ۔اس لئے کہ انبیاء کرام علیہم السلام معصوم یعنی گناہوں سے پاک وصاف ہوتے ہیں۔ (القرطبی: ۱۰؍۴۳۹)
سوال:کیا مغفرت اور معافی مانگناکسی گناہ کی وجہ سے ہی ہوتاہے، اس کے بغیر نہیں؟