قرآن
ﮓ
ﱀ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ٨٢ ٨٢ ﭠ
ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ٨٣ ٨٣ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ
٨٤ ٨٤ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ٨٥ ٨٥ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ٨٦ ٨٦ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ٨٧ ٨٧
وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَخۡرِجُوهُم مِّن قَرۡيَتِكُمۡۖ إِنَّهُمۡ أُنَاسٞ يَتَطَهَّرُونَ ٨٢
لوط علیہ السلام کی قوم کا یہ کہنا: (إِنَّهُمۡ أُنَاسٞ يَتَطَهَّرُونَ) یہ لوگ پاکباز بنے پھرتے ہیں۔
یہ دراصل حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا مذاق اڑانے کے لئے تھا، اور اس وجہ سے تھا کہ یہ لوگ بے حیائیوں کی گندگی سے اپنا دامن صاف رکھتے تھے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ جس گھناؤنی حرکت میں وہ لوگ ملوث تھے ۔اس پر شرم کی بجائے اپنے مذکورہ قول کے ذریعہ فخر کر رہے تھے ۔اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ کوئی برا آدمی ہو جو اپنی بدچلنی کے ساتھ ڈھیٹ اور منھ پھٹ بھی ہو ۔ایسے آدمی کو جب کوئی نیک انسان وعظ ونصیحت کرے تو جواب میں وہ ڈھٹائی کے ساتھ کہے :ارے !اس بیچارے کو ہم سے دورہٹاؤ،اور اس زاہد وپرہیزگار سے نجات دلا کر ہمیں چین کی سانس لینے دو۔ (القاسمی: ۵؍۱۳۹)
سوال: بعض لوگوں کی عقل وفہم کے پیمانے الٹ جاتے ہیں ۔اس کی نشانی کیا ہے؟
وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَخۡرِجُوهُم مِّن قَرۡيَتِكُمۡۖ إِنَّهُمۡ أُنَاسٞ يَتَطَهَّرُونَ ٨٢
امام ابن القیم رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ: قومِ لوط کا یہ کہنا: (أَخۡرِجُوهُم مِّن قَرۡيَتِكُمۡۖ إِنَّهُمۡ أُنَاسٞ يَتَطَهَّرُونَ) ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کردو۔یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔
یہ اسی قسم کا قول ہے جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے “اَصحابُ الأخدود” کے بارے میں کہا ہے : (وَمَا نَقَمُواْ مِنۡهُمۡ إِلَّآ أَن يُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ) [البروج: 8] یہ مسلمانوں سے صرف اس جرم کا انتقام اور بدلہ لے رہے تھے کہ وہ غلبہ والے ،تعریف کے لائق اللہ کی ذات پر ایمان لائے تھے ۔
شرک کرنے والےاور نام کے مسلمان کا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے ۔وہ موحّد مسلمان پر صرف اس وجہ سے نکیر کرتا اور ناراض ہوتا ہے کہ اس نے توحیدِ خالص اختیار کی ہوئی ہے، اور وہ توحیدمیں شرک کی ملاوٹ نہیں کرتا ہے، اور بالکل یہی معاملہ بدعتی مسلمان کا ہے کہ وہ سنّی مسلمان سے صرف اس بات کا انتقام لیتا ہے کہ وہ صرف رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرتا ہے ۔نبی ﷺ کی تابعداری کو خالص رکھتا ہے ،اس میں آراءِ رجال یعنی نبی کے علاوہ دوسرے لوگوں خواہ کوئی امام ہو ں،ولی ہوں،یا پیر وبزرگ، کسی کی رائے ،اجتہاد اور فہم کی ملاوٹ نہیں کرتا، اور نہ سنت رسول ﷺ کے خلاف کسی بھی چیز کو اس کے برابر اور ہم پلہ مانتا ہے ۔مگر یہ یاد رہے کہ اہلِ شرک وبدعت کی انتقامی کارروائیوں اور سختیوں پر موَحِّد ،متبعِ رسول کا صبر کرنا اس کے حق میں بہتر اور زیادہ فائدہ مند ہے ۔ اور ان سختیوں کو جھیلنا اللہ کی ناراضگی اور سزا کو جھیلنے کے مقابلے میں بہت ہی آسان اور ہلکا ہے جو اہل شرک وبدعت کی موافقت کرنے اور ان کے طریقے پر چلنے کی صورت میں بھگتنا پڑیں گی ۔ (القاسمی: ۵؍۱۴۱)
سوال: بندۂ مومن، مذاق اڑانے والوں کے مذاق اور استہزاء کا سامنا کس طرح کرتا ہے؟
فَأَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَٱلۡمِيزَانَ وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ
“بَخس” کا معنی ہے کمی کرنا۔ (لَا تَبْخَسُوا)یعنی کمی نہ کرو۔
سامان میں کمی کی شکلیں ہیں: اسے عیب دار بنادینا، اس میں بے رغبتی کا مظاہرہ کرنا، یا قیمت کے بارے میں دھوکا دینا ،یا پھر اسے ناپنے میں ہیرا پھیری کرنا اور لینے میں حق سے بڑھاکر لینے اور دینے میں حق سے گھٹاکر دینے کی چال چلنا۔ یہ ساری شکلیں غلط طریقے سے لوگوں کا مال کھانے اور ہڑپنے کے معنی میں شامل ہیں۔ اور یہ چیز رسولوں علیہم الصلاۃ والسلام کی زبانی اگلی اور پچھلی تمام امتوں میں ممنوع یعنی حرام وناجائز رہی ہیں۔ (القرطبی: ۱۰؍۳۳۳)
سوال: خریدوفروخت کے مختلف سامانوں میں کمی بیشی کس طرح ہوتی ہے؟
وَلَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بَعۡدَ إِصۡلَٰحِهَاۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٨٥
(وَلَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ) اور زمین میں بگاڑ اور خرابی پیدا نہ کرو۔ یعنی کفر اور ظلم کرکے فساد مت پھیلاؤ ۔ (بَعۡدَ إِصۡلَٰحِهَاۚ) اس کی اصلاح کے بعد۔ یعنی: انبیاءِ کرام علیہم السلام اور ان کی اتباع کرنے والے نیک لوگوں نے اللہ کی شریعت کے مطابق ناپ تول کے شرعی احکام اور سزاؤں کو نافذکرکے جو اصلاح کردی، اور زمین اور اس پر بسنے والوں کے معاملات میں سدھار اور درستی کردی۔ اس اصلاح کے بعد تم خرابی مت ڈالو۔ (القاسمی: ۵؍۱۴۷)
سوال: زمین میں فساد وبگاڑ پیدا کرنے کی سب سے سنگین قسم کون سی ہے ؟
وَلَا تَقۡعُدُواْ بِكُلِّ صِرَٰطٖ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ بِهِۦ
(وَلَا تَقۡعُدُواْ بِكُلِّ صِرَٰطٖ تُوعِدُونَ) اور تم ہر راہ پر راہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو دھمکاتے پھرو۔
اس فرمان کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: “الصراط” کا مطلب ہے :راستہ۔ قوم کے کفار راستوں میں بیٹھ کر لوگوں کو حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس آنے سے روکتے اور ڈراتے دھمکاتے تھے ۔ انہوں نے فرمایا: وہ لوگ راستوں پربیٹھے رہتے تھے، اور جو کوئی ان کے پاس سے گذرتا تو اسے یہ اطلاع دیتے کہ : شعیب(علیہ السلام ) کذاب یعنی بڑے جھوٹے ہیں ،کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے دین کے بارے میں تمہیں فتنہ میں ڈال دیں اور بہکادیں ۔ (الطبری: ۱۲؍۵۵۷)
سوال: دعاۃ ومبلغین کو بدنام کرکے لوگوں کو ان سے روکنے میں پہلے اور آج کے زمانے میں یکسانیت پائی جاتی ہے ۔اسے واضح کیجئے.
وَلَا تَقۡعُدُواْ بِكُلِّ صِرَٰطٖ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ بِهِۦ وَتَبۡغُونَهَا عِوَجٗاۚ
حضرت شعیب g اپنی قوم کے شرارت پسند لوگوں کومحسوس اور غیر محسوس دونوں طرح کی لوٹ مار سے منع کررہے ہیں ۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنے فرمان سے ایسی لوٹ مار سے روکا : (وَلَا تَقۡعُدُواْ بِكُلِّ صِرَٰطٖ تُوعِدُونَ) “اور تم ہر راستہ پر دھمکی دینے کے لئے نہ بیٹھو”۔یعنی : تم لوگوں کو اپنے مال تمہارے حوالے نہ کرنے پر قتل کی دھمکی دیتے ہو۔( وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ بِهِۦ وَتَبۡغُونَهَا عِوَجٗاۚ ) اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اسے اللہ کے راستے سے روکتے ہو، اور دین میں کجی تلاش کرتے رہتے ہو۔ یعنی :تم چاہتے ہو کہ اللہ کی راہ میں کجی اور ٹیڑھا پن ہو۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۲۲)
سوال: ڈکیتی کی دوقسمیں ہیں۔ وہ کیا ہیں؟
وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ كُنتُمۡ قَلِيلٗا فَكَثَّرَكُمۡۖ
یعنی: اللہ نے تم کو بیویوں کی ،نسل اور اولاد کی، او ر صحت وتندرستی کی جو نعمتیں دی تھیں،ان میں بڑی برکت عطاکردی، اور بیماریوں کی کسی ایسی وبا میں تمہیں مبتلا نہیں کیا جو تمہاری تعداد کو کم کردیتی۔نہ ہی تم پر کسی ایسے دشمن کو مسلط کیا جو تمہیں جڑ سے اکھاڑ کرتباہ کردیتا۔ اور نہ ہی تمہیں زمین میں بکھیر کر تتر بتر کیا ، بلکہ تمہیں یکجا اور اکٹھا رہنے کی نعمت سے نوازا ،اور روزیوں کی لگاتار فراہمی اور فراوانی کے ساتھ آل واولادکی کثرت کی نعمت عطا کی۔ (السعدی: ۲۹۶)
سوال:آیت میں اللہ کی کئی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے ۔ اس کی وضاحت کیجئے.