قرآن
ﮒ
ﱀ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ١٤٧ ١٤٧ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ١٤٨ ١٤٨ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ١٤٩ ١٤٩ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ١٥٠ ١٥٠ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ١٥١ ١٥١
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمۡ ذُو رَحۡمَةٖ وَٰسِعَةٖ
یہ ارشاد رسول اللہ ﷺکو جھٹلانے والوں کو شوق اور رغبت دلارہا ہے کہ وہ بھی اللہ کی کشادہ اورلامحدودرحمت کی چاہت و طلب میں لگ جائیں، اور رسولﷺ کی اتباع کریں۔ (ابن کثیر: ۲؍۱۷۷)
سوال: آیت میں لوگوں کے رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے کا ذکر کرنے کے بعد اللہ کی رحمت کا تذکرہ کیوں کیا گیا؟
سَيَقُولُ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ لَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشۡرَكۡنَا وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمۡنَا مِن شَيۡءٖۚ
مشرکین نے اللہ کے امر ونہی ،اس کی پسند اور ناپسند نیز فرمانبرداری اور نافرمانی کی نفی اور انکارکرنے کے لئے تقدیرکودلیل بنایا ہے ۔اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو کھلاہوا کفر کرتا ہے۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۱۱۲)
سوال: آیت کریمہ کی روشنی میں بیان کیجئے کہ امر ونہی یعنی شریعت کے انکار پر تقدیر سے دلیل پکڑنا کتنا خطرناک ہے؟
قُلۡ تَعَالَوۡاْ أَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡۖ أَلَّا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗاۖ
ان آیتوں میں جن حرام کردہ چیزوں کا بیان ہے ،ان کی حرمت پر تمام پچھلی شریعتیں متفق ہیں ۔کسی بھی شریعت میں کبھی ان کا حکم منسوخ نہیں ہوا۔ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یہی وہ کلمات یعنی وہ احکامات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا ۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۲۹۱)
سوال: آیت میں بیان کردہ وصیتوں کو کون سا امتیاز اور خصوصیت حاصل ہے؟
قُلۡ تَعَالَوۡاْ أَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡۖ أَلَّا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗاۖ
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ دنیا کے تمام لوگوں کو دعوت دے کر اور بلا کر انہیں اللہ کی حرام کردہ چیزیں پڑھ کر سنائیں۔
اور بالکل اسی طرح آپ ﷺ کے بعد امت کے علماء کا فرض ہے کہ وہ لوگوں تک اللہ کے احکام پہنچائیں اور لوگوں کے سامنے صاف صاف بیان کردیں کہ اللہ نے کن چیزوں کو ان پر حرام کیا ہے اور کون سی چیزیں حلال رکھی ہیں۔ (القرطبی: ۹؍۱۰۶)
سوال: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کس چیز کی طرف دعوت دی ہے اور کس بات پر ابھارا ہے؟
وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُم مِّنۡ إِمۡلَٰقٖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَإِيَّاهُمۡۖ
سورۂ اِسراء (بنی اسرائیل:۳۱) میں فرمایا: (وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُمۡ خَشۡيَةَ إِمۡلَٰقٍ) اور مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو ہلاک نہ کرو۔ یعنی: انہیں اس خوف سے مارنہ ڈالو کہ ان کی وجہ سے آئندہ فقر ومحتاجی آجائیگی ۔اسی لئے وہاں یہ فرمایا: (نَّحۡنُ نَرۡزُقُهُمۡ وَإِيَّاكُمۡ) ہم ہی انہیں روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی۔
تو پہلے ان بچوں کو روزی دینے کا ذِکر کیا ،ان کے معاملے کو اہمیت دینے کے لئے کہ ان کے رزق اور کھانے پینے کی وجہ سے تم اپنی مفلسی وفقیری کے خوف میں مبتلا نہ ہوجاؤ کیونکہ اس کا ذمہ اللہ تعالیٰ پر ہے۔
مگر یہاں یعنی مذکورہ آیت میں چونکہ پہلے سے مفلسی کی حالت (مِنْ إِمۡلَٰقٍ) (مفلسی کی وجہ سے )موجود ہے اسی لئے فرمایا: (نَّحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَإِيَّاهُمۡ) ہم ہی ہیں جو تمہیں بھی روزی دیتے ہیں اور ان کو بھی دیتے ہیں۔ کیونکہ یہاں ان کے اپنے رزق کا ذکرپہلے کرنااہم ہے۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۱۸۰)
سوال: اس سورت(اَنعام)کی مذکورہ آیت میں ماں باپ کے رزق کو اولاد کے رزق سے پہلے اور سورۂ اسراء میں اولاد کی روزی کو ماں باپ کی روزی سے پہلے کیوں ذکر کیا گیا ہے؟
وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ
یعنی: بے حیائی کی باتیں اور گناہ کھلے ہوں یا چھپے ہوں، ان کے قریب بھی نہ پھٹکو،یا جن بے حیائیوں کا تعلق ظاہر سے ہے اور جن کا تعلق دل اور باطن سے ہے، دونوں کے قریب مت جاؤ ۔
اور بے حیائی کی باتوں کے قریب جانے سے بھی منع کردینا صرف ان کے ارتکاب سے ممانعت کے مقابلے میں زیادہ معنی خیزاورمؤثر ہے ، اس لئے کہ قریب جانے کی ممانعت ، ان گناہوں کے مقدمات اور ان تک پہنچانے والے وسائل وذرائع کی ممانعت کو بھی شامل ہے ۔ (السعدی: ۲۸۰)
سوال: فحش کاموں کے قریب جانے سے کیوں منع کیا گیا ہے، اور صرف بے حیائی کے ارتکاب سے ممانعت پر اکتفا کیوں نہیں کیا گیا؟
وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۚ
(کسی جان کو ناحق مارنا) دراصل اللہ تبارک وتعالیٰ نے تاکید کی خاطر اس کی ممانعت کو خاص طور سے بیان فرمایا ہے۔ورنہ اس سے پہلے کے حکم میں یہ بھی داخل ہے۔ چنانچہ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:“کوئی بھی مسلمان آدمی جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں،اس کا خون حلال نہیں ہے سوائے اس کے کہ تین میں سے کوئی ایک حالت ہو: شادی شدہ زانی ہو،یاجان کے بدلے جان لی جائے، یا جماعت سے الگ ہو کر اپنے دین سے پھر جانے والا مرتد ہو۔” (ابن کثیر: ۲؍ ۱۸۰)
سوال:بڑے گناہوں سے ممانعت کے حکم میں قتل نفس بھی داخل ہے ۔پھر اس سے منع کرنے کے حکم کو کیوں دہرایا گیا ہے؟