قرآن
ﮒ
ﱀ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ١٣٨ ١٣٨ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ١٣٩ ١٣٩ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ١٤٠ ١٤٠ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ١٤١ ١٤١ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ١٤٢ ١٤٢
وَقَالُواْ مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلۡأَنۡعَٰمِ خَالِصَةٞ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِنَاۖ وَإِن يَكُن مَّيۡتَةٗ فَهُمۡ فِيهِ شُرَكَآءُۚ سَيَجۡزِيهِمۡ وَصۡفَهُمۡۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ ١٣٩
(إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ) یقیناًاللہ تعالیٰ پوری پوری حکمت والا،ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
یہ جملہ پچھلے جملے میں مذکورسزا کی دھمکی کی وجہ بیان کررہا ہے کیونکہ جو ذات حکمت والی،علم والی ہے وہ ان مشرکین سے سرزد ہونے والی حرکت کا بدلہ اور مزہ نہ چکھائے، یہ بات ناممکن اور مشکل ہے ۔کیونکہ ان کے جرم کی سزادینا حکمت کے تقاضوں میں سے ہے ۔ (الالوسی: ۸؍۳۸۹)
سوال: مذکورہ آیت کو اللہ عزوجل کی دوصفات ‘‘حکمت اور علم’’ کا ذکر کرکے ختم کیا گیا ہے ۔اس کا کیا فائدہ ہے؟
وَقَالُواْ مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلۡأَنۡعَٰمِ خَالِصَةٞ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِنَاۖ وَإِن يَكُن مَّيۡتَةٗ فَهُمۡ فِيهِ شُرَكَآءُۚ سَيَجۡزِيهِمۡ وَصۡفَهُمۡۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ ١٣٩
آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ عالم کو اپنے مخالف کی بات جاننا اور معلوم کرنا چاہئے۔گرچہ اسے قبول نہ کرے،تاکہ مخالف کے قول کی خرابی سے واقف ہوجائے اور یہ جان لے کہ اس کی تردید کیسے کی جائے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کو اس زمانے کے مخالفین کے قول وخیال کی جانکاری دی تاکہ وہ ان کے قول وفکر کی خرابی پہچان لیں۔ (القرطبی: ۹؍۴۸)
سوال: وہ عظیم الشان فائدہ بتائیے جو طالبِ علم اس آیت سے سیکھتا ہے ؟
وَقَالُواْ مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلۡأَنۡعَٰمِ خَالِصَةٞ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِنَاۖ وَإِن يَكُن مَّيۡتَةٗ فَهُمۡ فِيهِ شُرَكَآءُۚ سَيَجۡزِيهِمۡ وَصۡفَهُمۡۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ ١٣٩
مشرکین کی احمقانہ رائے کا ایک نمونہ یہ تھا کہ انہوں نے بعض مویشیوں کوطے کررکھا تھا اور یہ متعین کرلیا تھا کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کا کھانا عورتوں کے لئے حرام ہے اورمردوں کے لئے حلال چنانچہ ان کا کہنا تھا: (مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلۡأَنۡعَٰمِ خَالِصَةٞ لِّذُكُورِنَا) ان چوپایوں کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ صرف ہمارے مردوں کے لئے حلال ہے، اس میں عورتیں شریک اور حصہ دار نہیں ہیں۔ (وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِنَاۖ ) اور ہماری عورتوں پر اس کا کھانا حرام ہے ۔
یہ اس وقت ہوتا جب پیٹ کا بچہ زندہ پیدا ہو۔اگر بچہ مردہ پیدا ہوتا تو پھر اس کے کھانے میں وہ سب شریک اور حصہ دار ہوتے، یعنی وہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے حلال ہوتا۔ (السعدی: ۲۷۶)
سوال: آیت میں انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین اور شریعت اسلامیہ کے درمیان موازنہ کیا گیا ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.
قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ قَتَلُوٓاْ أَوۡلَٰدَهُمۡ سَفَهَۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ٱفۡتِرَآءً عَلَى ٱللَّهِۚ قَدۡ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهۡتَدِينَ ١٤٠
جو لوگ اللہ کی خوشنودی اور ثواب کی چاہت میں عمل اور محنت کرتے ہیں لیکن اس کے بجائے اللہ کے غضب اور سزا کے شکار ہوجاتے ہیں ،ایسے لوگوں کے عمل کے لئے قرآن میں خُسران یعنی خسارے اور گھاٹے کا استعارہ (یعنی حرفِ تشبیہ کے بغیر لفظ کے مجازی معنی مرادلینا) کثرت سے آیا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خود کو مشقت میں تو مبتلا کیا لیکن نتیجہ اس کے برعکس حاصل ہوا جس کے لئے خود کو تھکایا اور ہلکان کیا تھا۔ (ابن عاشور: ۸؍۱۱۳)
سوال: حقیقی نقصان کیا ہے جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے؟
وَءَاتُواْ حَقَّهُۥ يَوۡمَ حَصَادِهِۦۖ
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ پھلوں اور غلوں کی فصل کو جس دن کاٹا جائے اسی دن ان کا حقِ زکاۃ ادا کردیں کیونکہ یہی وقت ہوتا ہے جب فقیر ومحتاج لوگوں کے دلوں میں اس کے ملنے کی امید بندھ جاتی ہے ۔نیزاسی وقت کھیتی کی زکاۃ نکال دینا کھیتی والوں کے لئے آسان ہوتا ہے ۔اور جو اسی وقت زکاۃ نکال دے اس کے لئے معاملہ صاف اور ظاہر بھی ہوتا ہے، یہاں تک کہ زکاۃ نکالنے والا ،نہ نکالنے والے سے الگ ہوجاتا ہے ۔ (السعدی: ۲۷۶)
سوال: کھیتی اور فصل کی زکاۃ ان کی کٹائی کے دن ہی نکال دینے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟
وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ ١٤١
امام زُہری رحمہ اللہ کہتے ہیں:اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معصیت ونافرمانی میں خرچ مت کرو۔ ایسا ہی قول مجاہد رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے ۔ چنانچہ ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے اُن سے روایت نقل کی ہے کہ وہ کہتے ہیں:اگر ابو قُبیس پہاڑ سونے کا ہوجائے اور کوئی آدمی اسے پورا کا پورا اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں خرچ کردے تو وہ فضول خرچ نہیں ہوگا۔اس کے برخلاف اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ایک روپیہ بھی خرچ کرے تو وہ اسراف اورفضول خرچی کرنے والا ہوجائیگا۔ (الألوسی: ۸؍۳۹۲)
سوال: علماءِ سلف کی تفسیر کے مطابق آیت بالا میں منع کردہ فضول خرچی کیا ہے؟
وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ ١٤١
یعنی: کھانے میں حد سے تجاوزنہ کرواس لئے کہ اس میں عقل اور بدن دونوں کا نقصان ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ) (سورۂ اعراف: ۳۱) اور کھاؤ اور پیو مگر حد سے نہ گذرجاؤ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
صحیح بخاری میں تعلیقاً یہ حدیث مروی ہے: ‘‘وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَاَلْبِسُوْا وَتَصَدَّقُوْا مِنْ غَیْرِ اِسْرَافٍ وَلَا مَخِیْلَۃٍ ’’۔یعنی کھاؤ،پیو،پہنو اور صدقہ کرو بشرطیکہ ان میں اسراف اور تکبر نہ ہو۔ (ابن کثیر: ۲؍۱۷۴)
سوال:ہمیں کھانے میں اسراف یعنی حد سے نکل جانے سے کیوں منع کیا گیا ہے؟