قرآن
ﮑ
ﰾ
ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ٤٢ ٤٢ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ٤٣ ٤٣ ﮁ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ٤٤ ٤٤ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ٤٥ ٤٥
سَمَّٰعُونَ لِلۡكَذِبِ أَكَّٰلُونَ لِلسُّحۡتِۚ
حرام مال کو (السُّحْتِ) کا نام دیا گیا ہے اس لئے کہ وہ نیکیوں کو برباد کردیتاہے۔یعنی: اچھے اعمال کا نام ونشان مٹادیتا ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ: حرام کو (السُّحْت) اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ انسان کی مروت وانسانیت کا خاتمہ کردیتا ہے ۔ (القرطبی: ۷؍ ۴۸۵)
سوال: مال حرام کو (السُّحْت) کا نام کیوں دیا گیا ؟
سَمَّٰعُونَ لِلۡكَذِبِ أَكَّٰلُونَ لِلسُّحۡتِۚ
(اللہ نے دوچیزوں کا ذکر کیا)ایک: کانوں اور دلوں میں داخل ہونے والی بات کا ذکر فرمایا اور دوسری:منہ اور پیٹ میں جانے والے کھانے کا ذکر کیا۔
ایک جسم کی غذا ہے اور دوسری دلوں کی خوراک ہے۔ پس جھوٹ اور حرام مال ان کی یہ دونوں غذائیں ناپاک اور گندی ہیں۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۴۷۵۔۴۷۶)
سوال: آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دوقسم کی غذاؤں کا ذکر کیا ہے جنہیں یہود اپنی خوراک اور غذابناتے تھے ۔وہ دونوں کیا ہیں؟
وَٱلرَّبَّٰنِيُّونَ وَٱلۡأَحۡبَارُ بِمَا ٱسۡتُحۡفِظُواْ مِن كِتَٰبِ ٱللَّهِ وَكَانُواْ عَلَيۡهِ شُهَدَآءَۚ
( ٱلرَّبَّٰنِيُّونَ )سے مرادوہ ‘‘باعمل علماء’’ ہیں جو علم کے ذریعہ لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور انتظامات کرتے ہیں اور بڑے بڑے مشکل مسائل سے پہلے علم کے چھوٹے اور آسان مسائل سکھاکر ان کی تربیت کرتے ہیں۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے : ( ٱلرَّبَّٰنِيُّونَ ) علماء سے اونچے درجہ کے لوگ ہیں۔ (القرطبی: ۷؍۴۹۵)
سوال: مسلمان ربّانی کیسے بن سکتا ہے؟
وَٱلرَّبَّٰنِيُّونَ وَٱلۡأَحۡبَارُ بِمَا ٱسۡتُحۡفِظُواْ مِن كِتَٰبِ ٱللَّهِ وَكَانُواْ عَلَيۡهِ شُهَدَآءَۚ فَلَا تَخۡشَوُاْ ٱلنَّاسَ وَٱخۡشَوۡنِ وَلَا تَشۡتَرُواْ بَِٔايَٰتِي ثَمَنٗا قَلِيلٗاۚ
(ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢﮣ) پس اے گروہِ یہود! (اتباع حق کی راہ میں) لوگوں سے نہ ڈرو،صرف مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کو (دنیوی فائدے کے) سستے داموں فروخت نہ کرو۔یعنی تم زندگی کے معمولی سامان اور تھوڑے سے عارضی فائدے کے لئے حق کو چھپانے لگو اور باطل کو ظاہر کرنے لگو۔
عالمِ دین جب ان آفتوں سے محفوظ رہے تو یہ(یقینی طور پر اللہ کی جانب سے ملنے والی )اس کی توفیق اور سعادت ہے۔ اب ایسے باتوفیق عالم کا ارادہ اور خواہش یہ ہونی چاہئے کہ وہ دین کو سیکھنے اور لوگوں کو سکھانے میں پوری محنت کرے اور اس بات کو اچھی طرح ذہن میں بسائے رکھے کہ اللہ نے اسے علم کی امانت سونپی ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ دار وپابند بھی بنایا ہے ۔ نیز اللہ نے اسے اس علم کا گواہ بھی بنایا ہے(کہ اسے لوگوں تک پہنچاکر ،سمجھااور بتاکر اللہ کی حجت پوری ہو۔) نیز اس عالم کو ایسا ہونا چاہئے کہ وہ صرف اپنے رب سے ڈرنے والا ہو اور لوگوں کا خوف اور دہشت اسے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی سے نہ روک سکے ۔نیز وہ دنیا کو دین پر ترجیح نہ دے۔
اسی طرح عالم کی محرومی وبدبختی کی علامت یہ ہے کہ وہ بے کاری وبے عملی کا مزاج ورجحان بنالے اور اپنے فرائض کی ادائیگی نہ کرے ۔ اپنے اوپر عائد ذمہ داری کو نبھانے سے جی چرائے اور جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اس پر ڈالی گئی ہے وہ ا س سے بے پرواہ ہوجائے ۔بلاشبہ ایسے عالم نے علم چھوڑکر اسے ضائع کردیا ۔ اور یہ بات پکی ہے کہ اس نے دنیا کے بدلے دین کو بیچ ڈالا۔ (السعدی: ۲۳۳)
سوال: اس آیت کے تناظرمیں عالم ربّانی اور عالم غیر ربانی کے درمیان فرق واضح کیجیے.
وَكَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ فِيهَآ أَنَّ ٱلنَّفۡسَ بِٱلنَّفۡسِ
پس جان کے بدلے جان(کا حکم ہوا۔) چاہے قاتل کسی باعزت قبیلے اور برادری کا ایسا بااختیار سردارہی کیوں نہ ہو جس کا حکم ماناجاتا ہو اور لوگ اس کی سمع وطاعت کرتے ہوں اور مقتول کوئی عام اور معمولی آدمی ہو اور معاشرے میں اس کی کوئی حیثیت نہ ہو۔
اسی طرح اگرقاتل عمر دراز ہو اورمقتول چھوٹا اور بچہ ہو ۔
یا وہ مالدار اور یہ فقیر ومحتاج ہو۔
وہ عجمی ہو اور یہ عربی ہو۔
یا وہ ہاشمی ہو اور یہ (عام)قرشی ہو۔
اس حکم میں اہلِ جاہلیت کے اونچ نیچ اور بھید بھاؤ کے طریقے کی کھلی تردید ہے۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۴۸۲)
سوال: تمام لوگوں پر یکساں ،بے لاگ اور عمومی انصاف قائم کئے بغیر امن وامان قائم وبرقرار نہیں رہ سکتا ۔اس کی وضاحت کیجیے.
وَٱلۡجُرُوحَ قِصَاصٞۚ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِۦ فَهُوَ كَفَّارَةٞ لَّهُۥۚ
ظالم پر واجب(عائد)ہونے والے قصاص کو صدقہ کردینا ۔یعنی : بدلہ لینے کو معاف کردینا ۔معاف کرنے والے کے لئے ( گناہوں کا)کفارہ قرار دیا۔اور بدلہ لینے کو کفارہ نہیں قرار دیاگیا۔اس سے معلوم ہوا کہ معاف کردینا ، اس کے لئے بدلہ لینے سے بہتر ہے ۔اور یہ اس لئے کہ اسے پہنچنے والی مصیبت وتکلیف بذاتِ خود گناہوں کو مٹانے والی ہیں اوریہ بھی کہ بندہ مصیبتوں پر صبر کرنے کی وجہ سے اجروثواب پاتاہے ۔نیز ان مصیبتوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے بندے کے حق میں جو بھی فیصلہ کیا ہے بندے کا اس پر راضی رہنا اس کے درجات کو بلند سے بلند تر کرتا ہے ۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۴۸۱)
سوال: آیت کریمہ کی روشنی میں ثابت کیجیے کہ معاف کرنا، قصاص(بدلہ)لینے سے بہتر ہے.
وَمَن لَّمۡ يَحۡكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ ٤٤ وَمَن لَّمۡ يَحۡكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٤٥ وَمَن لَّمۡ يَحۡكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ ٤٧
غالباً ان کی الگ الگ حالتوں کالحاظ اور اعتبار کرکے اللہ نے انہیں ایک ہی عمل کے نتیجہ میں تین صفات (کافرون،ظالمون،فاسقون) کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ وہ اس طرح کہ : انہوں نے اللہ کے اتارے گئے حکم کا انکار کیا ،اس بناپر کافر کہلائے ۔
پھر انہو ں نے حکم کو بے محل کردیا یعنی اس جگہ رکھا جو اس کی جگہ اور مقام نہیں تھا ،اس رویے کے سبب انہیں ظالم قرار دیا۔
اور حق کے دائرے سے باہر نکل گئے ،اس لحاظ سے فاسق کی صفت کے حق دار ہوئے۔ (الألوسی: ۶؍۴۳۰)
سوال: اللہ کی شریعت کو چھوڑکر دوسری چیزوں سے فیصلہ کرنے والوں کو اللہ نے کیوں کافرین،ظالمین اور فاسقین کے تین اوصاف کے ساتھ ذکر کیا ہے؟